القاعدہ اور ایران کے درمیان قریبی تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ آشکارا ہوتے جارہے ہیں۔القاعدہ کے مرحوم لیڈر اسامہ بن لادن کی دستاویزات اور امریکا کی عدالتی دستاویزات نے ان قریبی تعلقات کو ثابت کردیا ہے۔ایران نائن الیون حملوں میں ملوّث ہونے کے الزام سے بری الذمہ نہیں ہوا تھا کیونکہ وہ مبیّنہ طور پر ان میں ملوّث تھا۔

الشرق الاوسط میں شائع شدہ چھے دستاویز سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ ایران نے افغانستان میں تربیتی کیمپوں میں القاعدہ کے کارکنان کی نقل وحرکت میں معاونت کی تھی اور اس مقصد کے لیے ایک سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا۔یہ تربیتی عمل نائن الیون حملوں کی کامیابی کے لیے ضروری تھا۔

حزب اللہ

ان دستاویزات کے مطابق حزب اللہ کے ایک مقتول عہدے دار عماد مغنیہ نے 11 ستمبر 2001ء کے حملوں میں حصہ لینے والے کرداروں سے اکتوبر 2000ء میں ملاقات کی تھی اور حملوں سے قبل ان کے نئے پاسپورٹس کے ذریعے ایران کے سفر پر روانہ ہونے کی منصوبہ بندی کی تھی۔دستاویزات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایرانی حکومت نے سرحدی پولیس کو ہدایت کی تھی کہ ان افراد کے پاسپورٹس پر مہریں نہ لگائی جائیں تاکہ وہ بآسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ آ اور جا سکیں۔

سنہ 1993ء میں اسامہ بن لادن ،القاعدہ کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری ،عماد مغنیہ اور ایرانی عہدے داروں کے درمیان ایک اجلاس ہوا تھا۔اس میں مشترکہ کارروائیوں اور دہشت گردی کی حمایت کے لیے ایک اتحاد کی تشکیل پر اتفاق ہوا تھا۔امریکی صحافی لارنس رائٹ نے اپنی کتاب ''خطرے سے دوچار ٹاور''(دا لومنگ ٹاور) میں لکھا ہے کہ اسامہ بن لادن نے اپنے بہترین لوگوں کو لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ مل کر تربیت حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔بن لادن نے حزب اللہ کے کمانڈر عماد مغنیہ سے سوڈان میں ملاقات بھی کی تھی۔

عماد مغنیہ نے دوسرے ملکوں میں حملوں کے لیے حزب اللہ کا نیٹ ورک تشکیل دیا تھا۔انھوں نے ہی 1983ء میں (لبنان میں) فرانسیسی ہوا بازوں اور امریکی میرین کی بیرکوں پر حملوں کی قیادت کی تھی۔ان حملوں میں 58 فرانسیسی فوجی اور تین سو سے زیادہ امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

بن لادن نے حزب اللہ کی بم پھوڑنے ،قتل کرنے اور عمارتوًں کو نشانہ بنانے کے لیے حوصلہ افزائی کی تھی اور حزب اللہ القاعدہ کے افریقا ،سعودی عرب اور امریکا میں بم دھماکوں سے اثرانداز ہوئی تھی۔

ایبٹ آباد میں آپریشن کے دوران اسامہ بن لادن کی قیام گاہ سے امریکی انٹیلی جنس کے ہاتھ لگنے والی دستاویزات سے بھی القاعدہ اور ایران کے درمیان تال میل کے شواہد مل چکے ہیں۔

بن لادن کا خط

ان میں اسامہ بن لادن کا ایک خط بھی برآمد ہوا تھا۔وہ انھوں نے کریم نامی اپنے ایک کارکن کے نام لکھا تھا۔اس میں انھوں نے لکھا:'' میرے پاس آپ کی ایران کو دھمکیوں سے متعلق کچھ نوٹس ہیں۔مجھے امید ہے کہ آپ اور آپ کے بھائی اس کو اچھے طریقے سے سمجھیں گے۔آپ نے اس خطرناک معاملے کے بارے میں ہمارے ساتھ مشاورت نہیں کی ہے حالانکہ اس سے ہم سب کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ ان اہم امور کے بارے میں مشاورت کرو گے۔جیسا کہ تم جانتے ہو،ایران ہمارے لیے فنڈز،رجال کار اور مواصلات کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔اس کے علاوہ یرغمالیوں کے معاملے میں بھی ہمارا اس کے ساتھ تعلق ہے۔اس لیے ایران کے ساتھ کوئی نیا محاذ کھولنے کی ضرورت نہیں ہے''۔

ان دستاویزات سے نائن الیون حملوں کو پایہ تکمیل کو پہنچانے کے لیے ایرانی حمایت اور سہولت کاری کی وضاحت بھی ہوتی ہے اور یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ اس کے بغیر نائن الیون حملے پایہ تکمیل کو نہیں پہنچائے جا سکتے تھے۔ان عدالتی دستاویزات کے افشاء ،ثابت شدہ بیانات حلفی اور بن لادن کی دستاویزات سے القاعدہ اور ایران کے درمیان تعاون کا معاملہ روزروشن کی طرح عیاں ہوجاتا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کرکے دراصل ایران کے نائن حملوں سمیت دہشت گردی کے بڑے حملوں میں کردار کو چھپانے کی کوشش کی ہے حالانکہ ایران نے القاعدہ کی مسلسل حمایت جاری رکھی تھی۔اس نے اس تنظیم کے کارکنان کی نقل وحرکت میں سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا،ان کے لیے قیام کا بندوبست کیا تھا۔یہ سب کچھ تو خود بن لادن نے بیان کردیا ہے۔انھوں نے ایران میں مقیم اپنے پیروکاروں کے بارے میں بھی گفتگو کی تھی اور بتایا تھا کہ ایران کیسے ان کا خیال رکھ رہا ہے۔یہ اور بات ہے کہ انھوں نے اس کو گھر پر نظربندی کا نام دیا تھا۔

اسامہ نے ایران کو نقصان پہنچانے یا اس کا حریف بننے پر بھی انتباہ کیا تھا جبکہ سعودی عرب پر حملوں کا مطالبہ کیا تھا۔ایران القاعدہ کی حمایت کرتا رہا ہے۔عدلیہ ،تاریخ اور اسامہ بن لادن کی اپنی لکھی ہوئی دستاویز سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے۔

-----------------------------------
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے