بدھ کو عالمی شہرت یافتہ قوال، امجد صابری کو کراچی کی گلیوں میں سفاکی سے قتل کر دیا گیا۔ تحریک ِطالبان پاکستان کے حکیم اﷲ محسود گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول کی۔ امجد صابری کی سریلی آواز سامعین کے دلوں کو خالق ِ کائنات کی یاد سے معمور کر دیتی تھی، لیکن طالبان اور ان کے ہم خیال اُنہیں اچھا مسلمان تصور نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ قوالیاں گاتے تھے۔ ستم ظریفی یہ کہ جس دن عمران خان نے امجد صابری کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا، اُسی دن اُنھوں نے خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے مولانا سمیع الحق کے مدرسے کو تین سو ملین روپے کی گرانٹ کا بھی دفاع کیا۔

پاکستان کے سامنے المیہ یہی ہے کہ اسے دو خراب آپشنز میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ عمران خان 2011 ء سے پاکستان کے شہری علاقوں میں امید کی کرن قرار دئیے گئے کیونکہ وہ روایتی سیاسی نظام کے متبادل کے طور پر سامنے آئے تھے، لیکن وہ ہمارے سب سے بڑے ایشو، دہشت گردی، اس کی وجوہ اور سدّباب، پر انتہائی غلط موقف اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک عشرہ پہلے بھی قبائلی علاقوں میں پروان چڑھنے والی انتہاپسندی پر اُن کا موقف غلط ثابت ہوا تھا۔ 2013 کے بعد وہ اُنھوں نے تحریک ِطالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لئے اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے اپنا پورا زور لگایا۔ آج آرمی پبلک اسکول پر حملے اور ضرب ِ عضب کے بعد بھی وہ انتہا پسندی کی حمایت میں کھڑے ہیں۔ ایک قومی سطح کے رہنما سے اتنی فاش غلطیاں خطرناک ہیں۔

عمران خان بہت دیر سے قبائلی جنگجوئوں کے بارے میں رومانوی تصورات کی عینک لگائے ہوئے ہیں۔ ان کے نزدیک انتہا پسندی کے فروغ کی وجہ امریکی حکم پر ہماری فوج کا قبائلی علاقوں میں جانا ہے، جس کی وجہ سے وہ امن پسند لوگ بغاوت پر اتر آئے اور شہریوں اور اہل کاروں کو ہلاک کرنا شروع کردیا۔ عمران خان نے اپنے یک طرفہ دلائل میں امریکی ڈرون حملوں کی بھی بھرپور مخالفت کی کہ ان کی وجہ سے ہمارے ان جنگجوئوں کے ساتھ تعلقات بگڑے۔ جب ایک ڈرون حملے میں تحریک طالبان پاکستان کا چیف، حکیم اﷲ محسود اپنے انجام کو پہنچا تو عمران خان نے فرط ِ غم سے مغلوب ہوکر اسے ہماری تاریخ کا فیصلہ کن لمحہ قرار دیا کہ اب ہمیں فوری طور پر فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اُنھوں نے 2013 میں پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے حکیم اﷲ محسود کی ہلاکت پر سوگ مناتے ہوئے کہا۔۔۔’’ہم نے امریکی حکم پر وزیرستان میں فوج بھیجی، اورہم نے ایسا ڈالروں کے لئے کیاتھا۔‘‘اُنھوں نے حکیم اﷲ محسود کی ہلاکت کی وجہ سے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کو پہنچنے والے نقصان پر برہم ہوتے ہوئے افغانستان میں نیٹوفورسز کو ملنے والی سپلائی روکنے کی دھمکی دی۔

2013 میں ہی ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لئے اتفاق ِ رائے پیدا کرنے کے لئے عمران خان انتہائی فعال اور متحرک دکھائی دئیے ۔ چنانچہ ’’ہمارے بھٹکے ہوئے بھائیوں ‘‘ سے بات چیت کرنے کے لئے بلائی جانے والی کل جماعتی کانفرنس عمران خان کی بہت بڑی ’سفارتی فتح ‘‘ تھی۔ 2014 میں دوست کالم نگار، کارل المیدا (Cyril Almeida) نے عمران خان کو ’’طالبان خان ‘‘ کے لقب سے نوازتے ہوئے کہا اس شخص نے پاکستان کو انتہا پسندوں کے ہاتھوں فروخت کردیا ہے ۔ اس پر پی ٹی آئی نے کالم نگار کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ کردیا۔ فروری 2014 ء کو ٹی ٹی پی کے ترجمان، شاہد اﷲ شاہد نے طالبان کی طرف سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لئے جن پانچ افراد کا نام پیش کیا، اُن میںدوسروں کے علاوہ مولانا سمیع الحق عمران خان بھی شامل تھے ۔ عمران خان نے شکریے کے ساتھ معذرت کرلی لیکن طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت جاری رکھی۔

جو افراد چاہتے تھے کہ ریاست ِ پاکستان طاقت کا استعمال کرتے ہوئے فاٹا میں اپنی عملداری قائم کرے، اُن سے عمران خان سوال کرتے کہ کیا ایسا کرنے سے پاکستان کے مسائل حل ہوجائیںگے ؟اُنھوں نے آپریشن کی حمایت کرنے والوں کو سینہ تان کر چیلنج کیا کہ اگر فوجی آپریشن ناکام ہوگیا تو پھر پورے پاکستان کو ٹی ٹی پی کی تمام شرائط ماننا پڑیں گی۔ عمران خان کی ژولیدہ فکری ملاحظہ فرمائیں کہ ایک طرف وہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان تحریک طالبان پاکستان کے خلاف بھی جنگ کرنے کی اہل نہیں تو دوسری طرف وہ چاہتے تھے کہ وہ امریکہ جیسی مہیب عسکری طاقت کے سامنے ڈٹ جائے ۔ عمران خان کی بھرپور وکالت اور پی ایم ایل (ن) اور دیگر نام نہاد لبرل جماعتوں کے تعاون سے ٹی ٹی پی کے ساتھ شروع کردہ امن مذاکرات جاری تھے کہ اُن سفاک قاتلوں نے پاکستان کے قیدی بنائے گئے 23 فوجیوں کو ہلاک کردیا۔ جب انتہا پسندوں نے جون 2014 ء کو کراچی ایئرپورٹ پر حملہ کیا اور اسے حکیم اﷲ محسود کی ہلاکت کا انتقام قرار دیا تو فوج نے فیصلہ کرلیا کہ بس ، بہت ہوچکا، اوران شدت پسندوں کا سرکچلنے کے لئے ضرب ِ عضب کا آغاز کردیا۔

اس کے بعد چھ ماہ بعد آرمی پبلک اسکول ، پشاور پر حملے کا دلگداز واقعہ پیش آیا۔ ایسا لگا جیسے یہ ہمارے قومی ضمیر کے لئے ایک فیصلہ کن موڑ ہے ۔ اس کے بعد عمران خان اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے دیگر حامیوں کی زبانیں بند ہوگئیں اور قوم نے دہشت گردی کے عفریت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے شکست دینے کا عزم کرلیا۔ تاہم یہ اتفاق ِرائے سیاسی قیادت نے نہیں، فوج نے پیدا کیاتھا۔ کچھ تشویش ناک علامتیں ضرور دکھائی دیتی تھیں کہ اے پی ایس کا سانحہ بھی دہشت گردوںکے ساتھ مذاکرات کرنے والوں کی سوچ کا علاج نہیں کرسکا ہے ، اُنھوں نے قوم کا موڈ دیکھتے ہوئے صرف وقتی پسپائی اختیار کی ہے ۔ مثال کے طور پر اے پی ایس کے صرف چھ ماہ بعد ہی ان کی طرف سے ایسی آوازیں سنائی دینے لگیں کہ اگر امریکہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کرسکتا ہے تو ہم پاکستانی طالبان کے ساتھ کیوں نہیں؟ ایک سو بتیس بچوں سمیت ایک سو چوالیس افراد کی اے پی ایس سانحے میں ہلاکت کے بعد بھی یہ سوچ باقی رہے تو کیا ہمیں عمران خان کی خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے مولانا سمیع الحق کے مدرسے کو ٹیکس دہندگان کے تین سوملین روپے دینے پر حیرت ہونی چاہئے؟ یہ وہ مدرسہ ہے جہاں کے فارغ التحصیل قابل فخر شاگردوں میں جلال الدین حقانی، ملاّ اختر منصور اور بے شمار طالبان رہنما شامل ہیں۔ اس مدرسے نے طالبان کے بانی قائد، ملاّ محمد عمر کو ’’اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری ‘‘بھی عطا کی تھی۔

مولانا سمیع الحق کو بہت سے پیارے پیارے القابات سے یاد کیا جاتا ہے ۔ ان میں سے ایک ’’بابائے طالبان ‘‘ بھی ہے ۔ اُن کے خیال میں افغانستان کے مسائل کاحل یہی تھا کہ وہاں طالبان کی حکومت قائم ہوجائے ۔ اُنھوں نے ملاّعمر کی وفات کے بعد طالبان کو ملاّ منصور کی قیادت میں متحد رکھنے کے لئے اپنا اثر ورسوخ استعمال کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان اور خیبر پختونخواکی حکومت کے ترجمان نے مولانا کے دارالعلوم کو تین سو ملین روپے گرانٹ دینے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے اس مدرسے کے طلبہ کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں لانے میں مدد ملے گی۔ تاہم اُنھوں نے قوم کو یہ بتانا ضروری نہیں سمجھا کہ کس طرح طالبان اور انتہاپسند پیدا کرنے والے مراکز کی توسیع اور تعمیر سے یہ عناصرمعاشرے کا حصہ بن پائیں گے؟ کیا مدرسہ حقانیہ کو ریگولیٹ کرتے ہوئے یہاں جدید نصاب اور ٹیکنالوجی کی تعلیم دی جائے گی اور پھر اس سلسلے کو دیگر مدرسوں تک بڑھایا جائے گا؟ کیا کوئی ایسا معیار طے کیا جا چکا ہے جس کے تحت صرف مدرسہ حقانیہ کو گرانٹ ملے گی،لیکن دیگر کو نہیں؟ کیا خیبر پختونخوا کی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 25A کے تحت صوبے کے تمام بچوں کو مفت تعلیم دینے کی ذمہ داری پوری کرلی ہے جو پرائیویٹ مدرسوں کو اتنی بھاری رقم دے رہی ہے ؟

ہماری قومی سوچ کے ساتھ کیا مسئلہ ہے کہ ہم جب بھی درست سمت قدم اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں، جلدہی ہماری توجہ بٹ جاتی ہے اور ہم مکمل طور پر یوٹرن لے لیتے ہیں؟ بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان میںیہ طے کیا تھا کہ مدرسوں کو ریگولیٹ اور مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ کیا جائے گا۔ لیکن اٹھارہ ماہ بعد آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟انتہاپسندی کے خلاف ہمارے اقدامات سست نہیں ہوئے، ان کا رخ اس کی حمایت کی طرف مڑ گیا ۔ جہاں تک رینجرز کا تعلق ہے تو اُنھوں نے جنگ کا دائرہ دہشت گردی کے علاوہ بدعنوانی تک پھیلا دیا ہے۔ پیمرا ہمارے عقائد اور اخلاقیات کا پہرے دار بن چکا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ریاست ہی فیصلہ کرے گی کہ کون اچھا مسلمان ہے اور کون نہیں۔

انتہا پسند دوبارہ طاقت پکڑ رہے ہیں اور جہادی یونیورسٹی چلانے والوں کو بھاری گرانٹ دی جا رہی ہے ۔ پی ٹی آئی زیادہ سے زیادہ یہ جواز پیش کرسکتی ہے کہ یہ گرانٹ دینے کی وجہ نظریاتی ہم آہنگی نہیں، سیاسی ضرورت تھی۔ تو کیا ہم 1980 کی دہائی سے سیاست اور مذہب کا غلط ادغام نہیں دیکھ رہے؟ چنانچہ امجد بھائی، ہمیں افسوس ہے ، لیکن یہ ضیاء کا پاکستان ہے اور ہم نے فیصلہ کرنا ہے اُن کے جانشین عمران خان ہیں یا نواز شریف۔ بشکریہ روزنامہ 'جنگ'
--------------------------------
"العربیہ" کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے