یہ ایک بہت ہی بہیمانہ جرم تھا۔سعودی عرب میں دو جڑواں بھائیوں نے اپنے ہی ماں باپ کو چاقوؤں کے وار سے موت کی نیند سلا دیا۔سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق یہ جرم قتل عمد کا شاخسانہ تھا لیکن سعودی شہری جب گذشتہ جمعہ کو بیدار ہوئے تو وہ اس واقعے کی خبر پڑھ کر ہکا بکا رہ گئے تھے۔

گذشتہ سال رمضان ہی میں ایک مطلوب شخص نے سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے عسیر میں اپنے والد کو قتل کردیا تھا۔ہم ان جرائم کو حادثاتی نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ کسی کی تقلید میں رونما ہوئے تھے۔ جب اس طرح کے جرائم رونما ہوتے ہیں تو ہم اچانک بیدار ہوجاتے ہیں اور دانشوری بگھارنے کا عمل اور جذبات انگیزی کی طرح کی چیزیں دیکھنے میں آتی ہیں لیکن یہ سب کچھ ایک وقتی معاملہ ہوتا ہے اور وقت کی گرد بیٹھنے کے ساتھ ہم ایک مرتبہ پھر خاموش ہورہتے ہیں۔

جن لوگوں نے ان جرائم کا ارتکاب کیا ہے،انھوں نے اسکولوں میں تعلیم پائی تھی اور وہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے ہی متاثر ہوئے تھے۔ہم پر بھاری ذمے داریاں عاید ہوتی ہیں۔ہمیں اپنے بچوں کے ساتھ مل بیٹھنا ہو گا۔ان سے گفتگو کرنا ہوگی،بحث ومباحثہ کرنا ہوگا۔

خاندان کے ارکان کے درمیان ایک ہفتے میں صرف بیس منٹ کے مکالمے سے ممکنہ خطرے کی نشان دہی ہو سکتی ہے اور اس کو روکا جاسکتا ہے۔دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) نے کمپیوٹر کھیلوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو اپنی صفوں میں بھرتی کیا ہے۔نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے لیے پیغامات بھیجے جاتے ہیں،انھیں لبھایا جاتا ہے اور ان کے خاندان سے متعلق مختصر تفصیل جاننے کے لیے سوالات کیے جاتے ہیں۔

ایک خاندان کو ممکن ہے کہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے دن رات کام کرنا پڑتا ہو۔تاہم ہر کسی کو اس بات سے آگاہ ہونا چاہیے کہ اس کے خاندان میں کیا رونما ہورہا ہے،سربراہ خاندان کو اپنے بچوں کے ساتھ مل بیٹھنا چاہیے ،ان سے گفتگو کرنی چاہیے،اس سے بہت کچھ تفصیل سامنے آسکتی ہے اور دوسری صورت میں شاید وہ پردہ اخفا ہی میں رہے۔

دہشت گردی بڑی خاموشی سے ہمارے گھروں میں درانداز ہو رہی ہے اور ہمیں اس کا مطلق پتا بھی نہیں چل رہا ہے۔

-------------------------------------
(کالم نگار العربیہ ٹیلی ویژن چینل کے جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے