مہاجرین کے بحران پر یورپ سیاسی لحاظ سے تار تار ہوتا جارہا ہے حالانکہ اگر یورپی ممالک مل جل کر کام کرنے پر آمادہ ہوتے تو وہ اس بحران سے بآسانی نمٹ سکتے تھے۔جن ممالک نے مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے فی الواقع کوئی کردار ادا کیا ہے،انھیں اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑرہا ہے۔

ترکی گذشتہ سال سے مسلسل عدم استحکام کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ترکی کی شام کے بارے میں حکمت عملی کی وجہ سے کرد مزاحمت نے ایک مرتبہ پھر سر اٹھا لیا ہے لیکن ستائیس لاکھ شامی مہاجرین کا بوجھ اٹھانے کی وجہ سے ترک ریاست کے وسائل دباؤ میں آئے ہیں۔اردن اور لبنان تو شاید مہاجرین کے بھاری بوجھ تلے ہی دب جائیں گے۔

لبنان نے دس سے پندرہ لاکھ کے درمیان شامی مہاجرین کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے جبکہ اس کی اپنی آبادی پچاس لاکھ نفوس سے بھی کم ہے۔گویا لبنان میں اس وقت آباد ہر پانچواں شخص شامی مہاجر ہے اور مہاجرین کا ملکی آبادی میں یہ تناسب دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں پایا جاتا ہے۔اس ملک کی فرقہ وار بنیاد پر اپنی ایک خونیں تاریخ ہے۔اب مہاجرین کے اس دباؤ نے اپنا کام دکھانا شروع کردیا ہے۔چنانچہ اب وہ شامیوں کو اس وقت تک ملک میں آنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں جب تک کہ وہ یہ نہ ثابت کردیں کہ وہ وہاں سے کہیں اور چلے جائیں گے۔

جب ہم یہ سطور لکھ رہے ہیں تو شام میں نام نہاد ''جنگ بندی'' کا خاتمہ ہوچکا ہے اور اب تشدد کے نئے واقعات کے بعد مہاجرین کی تعداد میں اور اضافہ ہوجائے گا۔حالیہ ہفتوں کے دوران شامی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد نے جنگ زدہ علاقوں میں اپنے گھروں کو واپسی پر غور شروع کردیا ہے کیونکہ مہاجر کیمپوں میں صورت حال انتہائی ناگفتہ بہ ہے اور وہاں بہ مشکل ہی زندہ رہا جاسکتا ہے۔

شام کے ہمسائے

لیکن یہ سب کچھ بہ مشکل ہی مغرب میں خبر بن رہا ہے اور وہاں ایسا ہی ہونا چاہیے۔میڈیا کی غوغا آرائی اور یورپی یونین میں نسل پرستی کی بنیاد پر قوم پرستی کے احیاء کے تناظر میں جس چیز کو نظرانداز کیا جارہا ہے ،وہ یہ کہ یورپ کو ابھی شام کے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں اس بوجھ کو اپنے ذمے لینا ہے جس کو پہلے نظرانداز کردیا گیا تھا اور اگر صورت حال یوں ہی رہتی ہے تو ہمیں عراقی اور شامی مہاجرین کے علاوہ لبنانیوں کا بوجھ بھی سہارنا ہوگا۔

وہ وقت زیادہ دور نہیں جب اردنی اور کرد مہاجر دوسرے ممالک کا رخ کرنے والوں میں سرفہرست ہوں گے۔مشرقی یورپ کے ممالک نے اس معاملے میں بہت ہی شرمناک کردار ادا کیا ہے اور انھوں نے اپنے سر ریت میں دبا رکھے ہیں۔برطانیہ اور ڈنمارک نے بھی۔جرمنی اور سویڈن نے ابتدائی طور پر مسئلے کی شدت کے پیش نظر درست سمت میں ایک متناسب ردعمل کا اظہار کیا تھا۔

جیسا کہ مغربی میڈیا میں بیان کیا جاتا رہا ہے،یہ کوئی بڑا فراخدلانہ اقدام نہیں تھا۔انھوں نے وہی کچھ کیا جو انسانی صورت حال کا تقاضا تھا۔ان ممالک نے اپنے ہاں آبادی کے درپیش مسائل کی وجہ سے بھی ایسا کیا تھا لیکن اس کے بعد کیا ہوا کہ وہاں کی ردعمل کی قوتوں نے مزید اقدامات کو روک لگا دی تھی۔

حیرت انگیز طور پر وہاں ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے بارے میں بہت ہی نفرت پھیلائی جارہی ہے۔حالانکہ اس صورت حال میں انھوں نے کسی بھی اور لیڈر کے مقابلے میں مہاجرین کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔حتیٰ کہ اینجیلا میرکل سے بھی زیادہ کردار ادا کیا ہے۔ترکوں نے شامی مہاجرین کی آبادکاری اور انھیں سہولتیں مہیا کرنے کے لیے اربوں ڈالرز صرف کیے ہیں۔ان سہولتوں کو سنہ 2013ء میں ،میں نے خود ملاحظہ کیا تھا۔تب میں شامی مہاجرین کے لیے خصوصی نمائندے گورنر دلماز کے ہمراہ ترکی میں شامی مہاجرین کے کیمپوں کے دورے پر گیا تھا۔

شام اور عراق میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور مہاجرت کی زندگی اختیار کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔اگر اس سیلاب کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا جاتا تو انسانی بوجھ اٹھانے والے ممالک بہت جلد خود عدم استحکام کا شکار ہوجائیں گے اور مہاجرین کا بحران ایک بدترین ڈراؤنا خواب بن کر رہ جائے گا۔ہماری معیشتیں کب تک اس طرح کا بوجھ سہارتی رہیں گی۔ہم کب تک خاموش تماشائی بنے رہیں گے اور اس بحران کے بنیادی اسباب کو بد سے بدتر ہوتے ہوئے دیکھتے رہیں گے؟

جہاں تک ان تنازعات کے حقیقی حل کا تعلق ہے تو ایسا کوئی حل ہمارے پاس نہیں ہے۔شام اور عراق میں جاری تنازعات کو حل کرنے کا کوئی قابل عمل منصوبہ نہیں ہے۔ترکی ،لبنان اور اردن کا مالی بوجھ بٹانے کے لیے بھی کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ان سے مہاجرین کا بوجھ بانٹنے کا بھی کوئی منصوبہ زیرغور نہیں ہے۔

اور اگر ہم مضمرات کے بارے میں مطمئن ہونے کا انتخاب کر لیتے ہیں کیونکہ لبنان اور اردن بہت دور واقع ممالک ہیں تو پھر یہ بات ذہن میں رکھیے کہ ان دونوں ممالک کے بعد کون سا ملک تباہی کے کنارے کھڑا ہوگا۔ان کے فوری بعد :یونان۔

--------------------------
ڈاکٹر عظیم ابراہیم مینزفیلڈ کالج ،آکسفورڈ یونیورسٹی کے فیلو اور امریکی آرمی کالج کے سٹریٹیجک اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ میں ریسرچ پروفیسر ہیں۔انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی تھی۔ان سے ٹویٹر پر اس پتے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے:
@AzeemIbrahim

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے