''بریگزٹ''(برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج) اور عرب بہار میں بہت زیادہ مماثلت پائی جاتی ہے لیکن بدقسمتی سے یہ کوئی اچھے معنوں میں نہیں ہے۔درحقیقت دونوں کے وقوع پذیر ہونے سے قبل اور مابعد حیران کن نتائج سے نمٹنے کے معاملے میں بہت سی چیزیں مشترکہ نظر آتی ہیں۔اس سے تو یہ خدشہ لگتا ہے کہ کہیں 2011ء کے عرب انقلابات کے تباہ کن نتائج کا یورپ میں بھی تو اعادہ نہیں ہونے جارہا ہے۔

پہلی بات تو یہ کہ جیسا کہ حال ہی میں ''دا انڈی پینڈنٹ'' میں پیٹرک کاک نے لکھا ہے کہ ''دونوں صورتوں میں مظاہرین نے اپنے ملک کے مسائل کا اس حکومت کو ذمے دار گردانا ہے جس کا وہ دھڑن تختہ کرنے کی کوشش کررہے تھے''۔درحقیقت بہت سے ووٹر یہ یقین کیے بیٹھے تھے کہ صرف یورپی یونین سے انخلاء سے برطانیہ جادوئی انداز میں ایک مرتبہ پھر عظیم تر بن جائے گا۔اخوان المسلمون نے بھی پریشان حال مصریوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی تھی کہ اسلام ہی ان کے تمام سیاسی ،سماجی اور اقتصادی مسائل کا مداوا کرسکتا ہے۔

اس کے بعد سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے کا عمل آتا ہے۔جس طرح عرب ممالک میں غداری کے الزامات عاید کیے جاتے ہیں(اگر آپ انقلاب کے حامی ہیں تو حکومت آپ کو غداری کے الزام سے نوازتی ہے اور اگر آپ حکومت کے ساتھ ہیں تو انقلابی آپ کو غدار قرار دے ڈالیں گے)۔جو برطانوی ملک کے یورپی یونین میں رہنے کی وکالت کررہے تھے،انھیں غیر محب وطن قراردیا گیا حالانکہ وہ یہ دلیل پیش کررہے تھے کہ یورپی یونین میں رہنا برطانیہ کے مفاد ہے۔جمعہ کو بریگزٹ کے حامیوں کی فتح نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔یہ سب کچھ حقیقی طور پر اور غیر متوقع انداز میں ہوا ہے۔

بے قیادت انقلابات

2011ء کے انقلابات کے تباہ کن نتائج کے بعد متعدد دانشوروں نے یہ دلیل دی تھی کہ مشرق وسطیٰ ابھی جمہوریت کے لیے تیار نہیں ہے۔''عرب بہار یورپ میں کامیاب ہوسکتے ہیں،جہاں لوگ پڑھے لکھے ہیں اور حزب اختلاف کے لیڈروں کے پاس آنے والے دن کے لیے منصوبے ہیں''۔مبصرین نے یہ دلیل اس وقت پیش کی تھی جب انھوں نے بے قیادت انقلابات پر تنقید کی تھی۔ عرب بہار کے نتیجے میں ہمارا پہلے سے اتھل پتھل کا شکار خطہ مزید طوائف الملوکی اور تنازعات کا شکار ہوگیا تھا۔

اب یورپیوں یا برطانویوں پر ایک نظر ڈالیں۔برطانوی تو کسی بھی لحاظ سے خود کو بہتر ثابت نہیں کررہے ہیں۔برطانوی پاؤنڈ کی قدر گذشتہ تیس سال کی کم ترین سطح پر چلی گئی ہے۔برطانوی میڈیا کے ذرائع (ان میں وہ بھی شامل ہیں جنھوں نے سنسنی پھیلانے کے انداز میں یورپی یونین سے اخراج کی وکالت کی تھی) نے اب یہ رپورٹنگ شروع کردی ہے کہ ''بریگزٹ'' کیسے لوگوں پر منفی انداز میں اثرانداز ہوگا اور جنھوں نے برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے حق میں ووٹ دیا تھا،وہ اب اپنے اس انتخاب پر پچھتا رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس کے اثرات سے مکمل طور پر آگاہ نہیں تھے۔

ہم مشرق وسطیٰ میں رہنے والے تعلیم کی کمی اور جمہوری روایات کی عدم موجودگی کو غلط انتخاب کا ذمے دار قرار دے سکتے ہیں لیکن اس بات کا برطانیہ کے معاملے میں اطلاق نہیں ہوتا ہے۔

برطانیہ کا یہ مسئلہ نظر آتا ہے کہ وہاں بھی تمام محاذوں پر قیادت کا فقدان نظر آیا ہے۔اس کو ہم میں سے بہت سے لوگ مشرق وسطیٰ کی صورت حال سے مماثل قرار دے سکتے ہیں۔ایک جانب تو ''بریگزٹ'' کے محرکین ومؤیدین نظر آتے ہیں اور دوسری جانب برطانیہ کی آزاد پارٹی کے لیڈر نیگل فراج ہیں جو ماضی میں مہم میں کیے گئے وعدے سے پھر رہے ہیں۔انھوں نے کہا تھا کہ یورپی یونین سے اخراج سے ملک کی قومی صحت سروس (این آئی ایچ) کے لیے 35 کروڑ پاؤنڈ کی بچت ہوگی۔اب انھوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں اعتراف کیا ہے کہ یہ وعدہ ایک غلطی تھی۔

دوسری جانب بریگزٹ لیڈر یہ اعتراف کرتے نظر آرہے ہیں کہ ان کے پاس بعد از ریفرینڈم کوئی منصوبہ نہیں تھا۔اب ان کی یہ دلیل ہے کہ یہ تو حکومت کی ذمے داری ہے۔وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے،جن پر ایک تاریخی اور تباہ کن ناکامی کا داغ لگایا جارہا ہے،ریفرینڈم کے ردعمل میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔بعض لوگ اس کو غیر ضروری جؤے بازی قرار دے رہے ہیں۔

اس تمام کا مطلب یہ ہے کہ برطانیہ کو اس وقت ٹیکنیکل طور پر ایک بے مثال اتھل پتھل کا سامنا ہے۔اسکاٹ لینڈ کا اس سے ناتا ٹوٹ سکتا ہے کیونکہ اس نے یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔اب برطانیہ کسی موثر سربراہ حکومت کے بغیر ہے۔(ہیلو لبنان)

برطانیہ کی لیبر پارٹی (حزب اختلاف) خود مشرق وسطیٰ ایسی صورت حال سے دوچار ہے۔اس کے لیڈر جریمی کاربائن عہدہ چھوڑنے سے انکار کرچکے ہیں حالانکہ انھیں اپنی جماعت کے عقبی نشستوں پر بیٹھنے والے ارکان کی جانب سے عدم اعتماد کے ووٹ کا سامنا ہے۔

اب کیا ہوگا؟

آپ درست طور پر اندازہ کرسکتے ہیں۔عرب بہار کی طرح جس کا تیونس سے آغاز ہوا تھا اور پھر اس کی نقالی میں پورے خطے میں یہ تحریکیں پھیل گئی تھیں،اب ہم فرانس ،ہالینڈ اور جرمنی میں بھی دائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے برطانیہ کی طرح ریفرینڈم کے انعقاد کے مطالبات ملاحظہ کررہے ہیں۔

حرف آخر یہ کہ کوئی بھی بڑی تباہی اس وقت تک مکمل نہیں ہوگی،جب تک اس میں سازشی نظریوں کا پورا پورا جائز حصہ نہ ڈال دیا جائے۔اس سے ہمیں عرب بہار اور بریگزٹ میں ایک اور مماثلت نظر آتی ہے۔ان دونوں معاملوں میں مشترکہ سازشی نظریہ یہ ہے کہ بریگزٹ اور عرب بہار دونوں کے امریکا اور اسرائیل نے اپنے مفاد میں تانے بانے بُنے تھے۔

عراق کے شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور اس کی ناجائز اولاد اسرائیل نے یورپی یونین کا دھڑن تختہ کرنے کی سازش تیار کی ہے بالکل اسی طرح جس طرح وہ مشرق وسطیٰ میں کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم مقتدیٰ الصدر اپنے بیان میں صرف ایک بات میں درست ہوسکتے ہیں جب وہ یہ کہہ رہے تھے کہ برطانوی حکومت ایک آئیوری ٹاور میں تھی اور وہ اس سے کوسوں دور تھی جو اس کے عوام چاہتے تھے۔وہی عوام، جن کی وہ نمائندگی کررہی تھی۔یہی وہ چیز ہے جو ہم اپنے بارے میں غلط طور پر سب سے زیادہ سوچتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ ہم غلط ہیں۔

---------------------------

(فیصل جے عباس، العربیہ انگلش کے ایڈیٹر ان چیف ہیں۔ ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے