"آپ اپنی اولاد سے کیا توقع رکھتے ہیں.. کیا وہ پیانو پر دُھن بجانے والے فن کار بنیں گے؟" یہ 'ٹویٹر' پر اُن سعودیوں کے غم و غصے کے جواب میں ایک تبصرہ تھا جو دو سعودی نوجوانوں کی طرف سے اپنی ماں کو ہلاک اور باپ کو زخمی کرنے پر انہیں کافر گردان رہے تھے!

ایک ایسے معاشرے کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا تھا جو خاندانی تعلقات کے تقدس کا قائل ہو اور والدین کو اعلی ترین درجہ دیتا ہو۔ ہمارے بچوں کو کیا ہوگیا ہے؟ مذہب کے نام پر عزیز و اقارب پر حملوں میں اضافے کے بعد ہر کسی کا یہ ہی سوال ہے۔

ان میں زیادہ تر کارروائیاں داعش تنظیم کے طرز فکر اور انٹرنیٹ کے ذریعے اس کی ہدایات سے مربوط ہیں۔ سعودی معاشرہ بہت سے صدموں سے دوچار ہوا تاہم گزشتہ اکثر واقعات میں ان کو استثنائی حالت قرار دے کر نظر انداز کردیا جاتا تھا یا پھر جرم کے مرتکب فرزندوں کا "ذہنی توازن خراب" قرار دیا جاتا تھا اور سرکاری بیانوں میں مجرموں کو "گمراہ" کا نام دے کر اکتفا کرلیا جاتا تھا۔

ایک کے بعد ایک دھچکا آتا گیا یہاں تک کہ ہم پر یہ بات عیاں ہوگئی کہ "داعش" تنظیم اور اس سے پہلے "القاعدہ" تنظیم کی سوچ کو رواج دینے والے عناصر، سعودی عرب میں مشکل ترین حلقوں یعنی مملکت میں خواتین کے اندر سرائیت کرجانے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ خاندان اُس وقت حیران رہ گئے جن ان کی بیٹیاں اور خواتین یمن یا شام فرار ہوگئیں جب کہ دیگر فرار کی کوشش کرنے والی دیگر کو ہوائی اڈوں پر گرفتار کیا گیا۔ سعودی عدالتوں میں اُن خواتین کے خلاف بھی عدالتی کارروائی دیکھنے میں آئی جن کو دہشت گرد کارروائی میں ملوث ہونے کے سبب گرفتار کیا گیا تھا۔ ایسی خواتین بھی ہیں جو سفر میں کامیاب ہو کر عراق اور شام میں جنگجوؤں سے جا ملیں!

نظریاتی طور پر داعش ہر بند گھر میں داخل ہوگئی اور اس نے بیٹوں پر زور دیا کہ اپنے گھر والوں کو قتل کرو کیوں کہ وہ تمہارے دین پر نہیں۔ اس نے فوجیوں پر زور دیا کہ اپنے فرماںرواؤں کو تباہ کردو اس لیے کہ یہ ایک کافر حکومت ہے۔ یہاں تک کہ مملکت میں اعلی ترین مذہبی شخصیت یعنی کہ مفتی اعظم کو بھی ان لوگوں نے نشانہ بنائے جانے والوں کی فہرست میں رکھ دیا!

حیران کردینے والا سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ یہ لوگ اس امر میں کیسے کامیاب ہوگئے کہ انہوں نے ایک چھوٹے سے نوجوان کو مذہبی وجوہات پر اپنے والدین کو قتل کرنے کے لیے سوچنے پر آمادہ کر دیا؟ یا پھر ایک خاتون شام میں لڑائی کے منصوبے بنانے پر تیار ہوگئی۔ یہ وہ ہی تھی جو عورت کے گاڑی چلانے کو حرام سمجھتی تھی اور گھر سے باہر نکلنے کو حرام خیال کرتی تھی؟ یہ سب اُس شدت پسند سوچ کا قدرتی نتیجہ ہے جو اندھیرے میں اپنا کام کررہی ہے۔

اگرچہ معاشرے میں شدت پسندی بیس برسوں سے زیر بحث ہے اور اس کے خلاف برسر جنگ ہونے کے مطالبات کئی برسوں سے جاری ہیں تاہم یہ کوششیں باور ثابت نہ ہوسکیں، آخر کیوں؟ ہم پر لازم ہے کہ دو علاحدہ سرگرمیوں میں فرق کریں۔ پہلی چیز دہشت گردی سے متعلق شدت پسند سوچ کے خلاف لڑائی ہے، یہ سرگرمی تو بڑی حد تک کامیاب رہی۔ دوسری چیز عام صورت میں شدت پسند سوچ کے خلاف برسر جنگ ہونا ہے، اس میں شدید ناکامی کا سامنا ہے۔

جس سوچ کا محاصرہ کیا گیا ہے وہ دہشت گردی سے مربوط ہے مثلا عراق، شام، یمن اور چیچنیا وغیرہ میں لڑائی کی دعوت۔ سیکورٹی تعاقب کے نتیجے میں اب اس کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے ساتھ ہی شدت پسند تنظیموں کی معاونت کے لیے مالی رقوم کو جمع کرنے کا سلسلہ بھی موقوف ہوچکا ہے۔ کڑی سرکاری نگرانی کے نتیجے میں عام صورت میں عطیات عملی طور پر ختم ہوگئے۔

اسی وجہ سے ایک سعودی شدت پسند نے ٹویٹر پر یہ تحریر کیا کہ "میں اپنے شیوخ سے امید کرتا ہوں کہ وہ کویت میں کھاتے کھولیں گے اور اس وقت تک لوگوں کو رقوم ارسال کریں گے جب تک کویت.. حرمین کے ملک اور انسانیت کی مملکت سے بہتر ہے!" یہ پیغام سعودی عرب میں شدت پسندوں کی سرگرمیوں کے شدید محاصرے اور ان سرگرمیوں کو قابل سزا جرم قرار دیے جانے پر، انتہا پسندوں کے شدید غیض و غضب کا اظہار ہے۔ جہاں تک کویت کا تعلق ہے تو اس نے تاخیر کے ساتھ مشتبہ عطیات کی نگرانی کا آغاز کیا اور وہ ابھی تک شدت پسند جماعتوں کے خلاف لڑائی میں پیچھے ہے جو مالی رقوم جمع کرتی ہیں اور جہاد کی دعوت دیتی ہیں۔

اس وقت صرف سعودی عرب نہیں بلکہ عمومی صورت میں ہر جگہ تین قسم کے گروہوں کا تعاقب کیا جارہا ہے۔ یہ ہیں لڑائی (قتال) پر اکسانے والے، اس کے لیے عطیات دینے والے اور اس کے لیے خود کو بطور رضاکار پیش کرنے والے۔ نظام میں تبدیلی کے ذریعے ان سرگرمیوں کو جرم قرار دینے، خصوصی عدالتیں قائم کرنے، عدالتی کارروائیاں سر انجام دینے اور سیکڑوں ملوث افراد کے خلاف سزاؤں پر عمل درآمد کے بعد اس تعاقب میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

باقی رہ گئی عمومی شدت پسند سوچ جو جہاد اور عطیات کے بارے میں کچھ نہیں کہتی۔ تاہم وہ مبلغین کی تعظیم پر بات کرتی ہے اور زندگی میں لوگوں سے نفرت پیدا کرتی ہے۔ وہ عام لوگوں مسلمانوں کے بارے میں یہ احساس پروان چڑھاتی ہے کہ یہ لوگ نافرمان اور گناہ گار ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ سوچ، دوسروں سے نفرت کو ایمان کی ایک شرط بنا دیتی ہے۔

یقینا سخت گیری کے متعلق قوانین کا اجراء یا برے اخلاق کے الزام میں دوسروں کی قانونی سرزنش کرنا ممکن نہیں۔ صرف یہ ممکن ہے کہ شدت پسندی کے متبادل منصوبے کو سپورٹ کیا جائے اور وہ ہے عدم رواداری سے کہیں دور ایک معتدل اور روشن اسلام۔ اسی کو ریاست کا اور اسی کو معاشرے کا اسلام ہونا چاہیے۔ مذکورہ اسلام کی واپسی کے بغیر، داعش کے لیے کسی بھی بچے یا شیخ کو بھرتی کرنا آسان ہوگا جب تک ان کی عقل کی بنیاد شدت پسند سوچ پر رکھی جاتی رہے گی۔

میری رائے میں معتدل اسلام کے نظریے کو پھیلانا اُن داعشیوں کے تعاقب سے زیادہ اہم ہے جو کشادگی کو مسترد کردینے والے اور گھٹن کا شکار معاشروں میں اپنے لیے زرخیز مٹی پاتے ہیں۔ یہ لوگ والدین کے خلاف اولاد کے ذہنوں اور ریاست کے خلاف ملازمین کی عقلوں کو اچک لینے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ واحد علاج اعتدال کی راہ اپنانے میں ہے۔ اس کے بغیر ایک ایسا وقت آجائے گا کہ قاتلوں اور شدت پسند ذہنی مریضوں کے لیے جیلیں تنگ پڑجائیں گی اور ان افراد کے اہل خانہ ، معاشروں ، ریاستوں اور ساری دنیا کو ان کے شر سے بچانے کے لیے تعزیرات اور کوڑوں اور موت کی سزائیں کوئی کام نہ دیں گی۔

*بشکریہ روزنامہ "الشرق الاوسط" (لندن).

-------------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ ٹیلی ویژن چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے