لبنان میں کوئی چیز اچانک یا اتفاقا نہیں ہوتی۔ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کی جانب سے تنظیم کے مقتول کمانڈر مصطفی بدرالدین کے چالیس ویں میں کیے جانے والے خطاب کے اڑتالیس گھنٹوں بعد ہی القاع میں قتل عام برپا ہو گیا۔ القاع ایک مسیحی قصبہ ہے، لبنان اور شام کی سرحد پر واقع یہ قصبہ الہرمل میں حزب اللہ کے گڑھ سے دور نہیں۔

ماضی میں القاع قصبے کی حیثیت ایک لیٹربکس کی سی رہی جس کو شامی حکومت مخصوص مواقع پر اپنے پیغامات پہنچانے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔ مثلا 28 جون 1978 کو حکومت کے زیرانتظام کے ایک گروپ نے القاع پر حملہ کر کے قصبے کے تقریبا 28 باسیوں کو اس بنیاد پر قتل کردیا کہ ان کا تعلق کتائب پارٹی سے ہے اور کتائب پارٹی کا اسی ماہ کی 13 تاریخ کو اہدن میں لبنانی سیاست داں طونی فرنجیہ اور ان کے بعض اہل خانہ کی ہلاکت میں ہاتھ تھا۔ القاع میں قتل عام اہدن کے واقعے کے پندرہ روز بعد پیش آیا۔ شامی حکومت کا مقصد واضح تھا۔ وہ ایک جانب سے آل فرنجیہ اور دوسری جانب سے کتائب پارٹی کے ذریعے مسیحیوں کے درمیان دراڑ کو گہرا کرنا چاہتی تھی۔ مگر آج القاع کے ذریعے حوکمت کون سا پیغام دینا چاہتی ہے ؟

القاع کے پہلے قتل عام کے 38 برس بعد 27 جون 2016 کو قصبے میں ایک اور قتل عام دیکھنے میں آیا۔ ایک ہی روز میں 8 خودکش حملہ آوروں نے خود کو قصبے میں دھماکے سے اڑا دیا۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ مذکورہ خودکش بمبار شام میں مصروف عمل شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان تنظیموں میں داعش بھی شامل ہے جو شامی حکومت کے ساتھ قریبی روابط رکھتی ہے۔ شامی حکومت اس تنظیم کو کو استعمال کر کے دنیا کے سامنے کہتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں برسرپیکار ہے جب کہ درحقیقت وہ صرف اپنے عوام کے خلاف جنگ کررہی ہے۔

اس تمام منظرنامے سے دو امور سامنے آتے ہیں۔ پہلا امر شامی حکومت کی حقیقت اور اس کی جانب سے داعش کا استعمال خواہ وہ لبنان میں ہو یا شام میں یا اردن میں۔

جہاں تک دوسرے امر کا تعلق ہے تو وہ یہ کہ شامی حکومت اپنے پرانے ہتھکنڈوں کو تبدیل نہیں کرسکتی جو کہ دنیا کو بلیک میل کرنے کے لیے دہشت گردی کے استعمال کی بنیاد پر قائم ہیں۔ لبنان میں دہشت گردی کا استعمال تاکہ وہ طویل عرصے تک ملک پر اپنی گرفت رکھ سکے اور یہ تین دہائیوں سے جاری ہے۔ مسیحیوں کو بالخصوص القاع جیسے سرحدی قصبوں اور دیہاتوں کے باسیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کا مقصد سب جانتے ہیں کہ مسیحیوں کو شامی تحفظ کا قائل کرنا یعنی کہ اقلیتوں کا اتحاد بنانا ، وہ ہی اقلیتیں جن کو 1970 سے قائم العلوی حکومت ہر وقت پکارتی رہی ہے۔

2016 میں القاع کو نشانہ بنانے کے اور بھی بہت سے مقاص ہیں۔ اس سے یہ بھی مطلوب ہے کہ مسیحی ہتھیار اٹھالیں تاکہ شام میں حزب اللہ کے کردار اور حسن نصر اللہ کی جانب سے اس انتہائی خطرناک بیان پر پردہ ڈالا جاسکے جس میں اس نے ایران کے پیروکار ہونے کا واضح طور اعلان کیا تھا۔ حسن نصر اللہ کی بات ان لوگوں کے لیے نئی نہیں جو یہ جانتے ہیں کہ حزب اللہ ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک بریگیڈ کے سوا کچھ نہیں۔ تاہم یہ تعلق اتنا زیادہ واشگاف اور اعلانیہ اس سے پہلے نہ تھا۔ اس اعلان سے دیدہ دلیری کے ساتھ ساتھ لبنان اور لبنانی شہریوں کے شدید ترین تحقیر کی عکاسی ہوتی ہے۔ بالخصوص حسن نصر اللہ کا یہ کہنا کہ "حزب اللہ کے اخراجات، کھانا پینا ، ہتھیار اور میزائل ایران کے مرہون منت ہیں"۔

القاع کے واقعے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ لبنان میں مسیحیوں کو خطرے کا سامنا ہے اور وہ واقعی میں خطرے میں ہیں۔ اس خطرے کی وجہ حزب اللہ کے ہتھیار ، اس کی جانب سے پارلیمنٹ کو ملک کا صدر منتخب کرنے سے روکنا اور شام کی جنگ میں اس کی سرمایہ کاری ہے۔ جو اس فرقہ وارانہ چھاپ والی جنگ میں کود پڑے اور اسلحے کے زور پر لبنان میں مسیحی صدر کے انتخاب کو روک دے.. اس سے صرف مسیحیوں کو ہی خطرہ نہیں بلکہ وہ پورے ملک کو طوفان کے سامنے کھڑا کررہا ہے۔

القاع کو ایک مسیحی قصبہ ہونے کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کا مقصد مسیحیوں کو چوکس کرنا اور ان کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کرنا ہے۔ اسی طرح جیسا کہ فروری 2005 میں رفیق الحریری اور ان کے ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد ہوا۔ ہلاکت کے بعد بیروت اور اس کے نواح میں مسیحی علاقوں کو دھماکوں کا نشانہ بنانے کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ ملک میں مسیحی اسلامی فسادات پھوٹ پڑے ہیں۔

کیا مسیحی برادری اس گڑھے میں گرجائے گی جو اس مرتبہ شامی حکومت اور حزب اللہ نے ان کے لیے تیار کیا ہے ؟ اس دام میں پھنسنے سے بچنے کے لیے ذہن میں اتنا خیال کافی ہے کہ حزب اللہ ملک کے صدر کے انتخاب کو روک رہی ہے۔ اسی طرح ایک طرف داعش اور دوسری طرف شامی حکومت اور حزب اللہ سمیت اس کی تمام ہمنوا ملشیائیں درحقیقت ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔

لہذا 2016 کے موسم گرما کے خودکش بمبار 1978 کے موسم گرما کے قتل عام کا ارتکاب کرنے والے حملہ آوروں کے پھیلاؤ کے سوا کچھ نہیں۔  بشکریہ لبنانی روزنامہ "المستقبل"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے