جب آپ یہ سوچ رہے تھے کہ داعش کے جنگجو اپنے داغ دار تشخص میں کسی مزید خوف ناک پہچان کا اضافہ نہیں کر سکتے ہیں تو انھوں نے سوموار کی شام مدینہ منورہ میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کےنزدیک دھماکا کرکے ہمیں ایک مرتبہ پھر غلط ثابت کردیا ہے۔المسجدالنبوی المسجد الحرام کے بعد مسلمانوں کے لیے دوسرا مقدس ترین مقام ہے۔سوموار کو دہشت گردوں نے مدینہ منورہ کے علاوہ جدہ اور قطیف میں دھماکے کیے تھے۔

ابھی ان تینوں واقعات کی داخلی تحقیقات جاری ہے۔اس کے بعد دھماکے کی سازش کرنے والوں کی شناخت کا پتا چل سکے گا اور آیا یہ کہ یہ مربوط تھے یا نہیں۔اس وقت تک یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان تینوں واقعات میں داعش کے طریق واردات کی نشانیاں ہی پائی جاتی ہیں۔دھماکے کرنے کے انداز اور محرکات کا کُھرا داعش ہی کی جانب جاتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے اور شاید یہ بعض لوگوں کی سوچ کے برعکس ہو،داعش نے سعودی مملکت کو اپنا ایک دشمن قرار دے رکھا ہے اور چند ہفتے قبل ہی داعش کے ایک لیڈر نے رمضان المبارک میں دنیا بھر میں اپنے دشمنوں کے خلاف حملوں کی دھمکی دی تھی۔

ساحلی شہر جدہ میں امریکی قونصل خانے کے نزدیک پہلے حملے کا مقصد شاید مغرب کو ہدف بنانا تھا لیکن اگر اس کو ناکام نہ بنا دیا گیا ہوتا تو اس سے یقیناً سعودی عرب اور امریکا کے درمیان تعلقات میں زہر گھل جاتا۔مشرقی صوبے میں دوسرے حملے میں اہل تشیع کی دو مساجد کو ہدف بنایا گیا تھا۔شیعہ فرقہ سعودی عرب میں اقلیت میں ہے۔اس کے ماضی میں حکومت کے ساتھ مسائل رہے ہیں۔تاہم اہل تشیع بھی داعش کے علانیہ دشمن ہیں۔

اگر یہ حملہ کامیاب ہوجاتا تو اس سے حملہ آوروں کے دو مقاصد پورے ہوجاتے۔شیعہ مرتے اور اس سے اس اقلیت اور حکومت کے درمیان ایک کشیدگی پیدا ہوجاتی۔دوسرا، اس سے یہ بھی ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی کہ سعودی مملکت کی سکیورٹی فورسز اہل تشیع کا مناسب طریقے سے تحفظ نہیں کررہی ہیں۔

ایک خوف ناک منظرنامہ

ان تینوں حملوں میں سب سے خوف ناک یقینی طور پر مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کو ہدف بنانے کی کوشش تھی۔اگر یہ حملہ خاکم بدہن کامیاب ہوجاتا تو اس کے خوف ناک اثرات کو بیان کرنے کے لیے کوئی الفاظ ہی نہیں ہیں۔اس کی ایک علامتی اہمیت بھی تھی اور ممکنہ مجروحین اور مہلوکین کی تعداد کی وجہ سے بھی اہمیت ہوتی۔

اب تک میڈیا رپورٹس میں درج ذیل منظرنامہ بیان کیا گیا ہے: خودکش بمبار مسجد کی جانب جنوبی طرف سے نماز مغرب کے وقت آیا تھا اور وہ روزہ افطاری کا وقت تھا۔اس کو سعودی سکیورٹی فورسز نے روک لیا اور انھوں نے اس کو بتایا کہ وہ ایک ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کررہا ہے اور یہ راستہ مسجد کے اندر عبادت کرنے والوں کے باہر نکلنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

سعودی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے پہلے یہ سمجھا کہ وہ (بمبار) وہاں نماز ادا کرنے اور روزہ افطاری کے لیے آیا ہے تو انھوں نے اس کو اپنے ساتھ افطار کی دعوت دی لیکن بمبار نے مسجد کی جانب چلنا شروع کردیا مگر محافظوں نے اس کو روک لیا۔

دہشت گرد نے چاروں طرف سے گھر جانے کے بعد اپنے ساتھ بندھے بم کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے وہ خود مارا گیا اور وہ چار افسر بھی شہید ہوگئے جنھوں نے دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو ہزاروں عبادت گزاروں کی جانب جانے سے روک دیا تھا۔

مذمت ہی کافی نہیں

جیسا کہ توقع تھی۔ مدینہ منورہ میں دہشت گردی کے اس حملے کے بعد سعودی عرب کے ساتھ دنیا بھر سے اظہار یک جہتی اور اس حملے کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔تاہم اس کو چونکہ ناکام بنا دیا گیا تھا۔اس لیے ہمیں محض صرف اس وجہ سے اس کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کردینا چاہیے یا اس کو فراموش نہیں کر دینا چاہیے۔

درحقیقت یہ اسلام کے قلب پر ایک حملہ تھا۔یہ داعش کے کسی بھی ایسے باقی ماندہ ہمدرد کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونا چاہیے جو ابھی تک یہ یقین کیے بیٹھا ہے کہ اس بری نسل میں انسانیت کی بھی کوئی رمق باقی ہے۔اسلام کو تو ایک جانب رہنے دیجیے۔

اور جو لوگ داعش کے ہمدرد تو نہیں لیکن ابھی تک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں یا غیر جانبدار ہیں،اب ان کے لیے بھی وقت آگیا ہے کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور بولیں۔اگر اس خوف ناک حملے کے ردعمل میں دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے نہیں ہوتے تو پھر ہم مسلمان منافق سے کچھ کم کہلانے کے ہرگز بھی حق دار نہیں ہیں۔

سوال یہ ہے کہ مظاہرے اس وقت ہی کیوں ہوتے ہیں،جب مغرب کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے اسلام کو نقصان پہنچایا ہے،یا اس کے تشخص کو داغ دار کرنے کی کوشش کی ہے۔مثال کے طور پر ڈینش اخبار میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے ردعمل میں پرتشدد مظاہرے یا برطانوی اسکول ٹیچر کی ہرزہ سرائی کے خلاف ردعمل وغیرہ۔

کیا ایک مقدس مسجد اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کی ناپاک جسارت اسلام کی سب سے بڑی توہین نہیں ہے؟یا کیا یہ توہین محض اس وجہ سے قابل قبول ہے کہ اس کے مرتکبین ہمارے اپنوں میں سے ہیں۔ظاہر ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہے۔

تاہم یہ دلیل دی جاسکتی ہے کہ اس وقت جس چیز کی ضرورت ہے،وہ غیظ وغضب کا مظاہرہ نہیں ہے بلکہ ہم سب کو عمومی شعور کا مظاہر کرنا چاہیے کیونکہ یہ یقین کرنا منطقی نہیں ہوگا کہ کوئی پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر میں اور ان کی مسجد پر ان ہی کے نام پر حملہ آور بھی ہوسکتا ہے۔

---------------------------

فیصل جے عباس العربیہ انگریزی کے ایڈیٹر انچیف ہیں۔ٹویٹر پر ان سے اس پتے پر مراسلت کی جاسکتی ہے:@FaisalJAbbas

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے