جب ترک صدر نے شامی مہاجرین کو شہریت دینے کا وعدہ کیا تو ہر شخص نے اس کا اپنے اپنے زاویے سے تجزیہ کیا تھا۔ان کے ترک مخالفین نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔ان کا خیال ہےکہ وہ آیندہ انتخابات میں اپنی پوزیشن بہتر بنانا چاہتے ہیں اور ان شامیوں کے نام بھی ووٹر فہرستوں میں شامل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان کے حق میں ووٹ دیں۔چنانچہ ان ترک مخالفین نے غیرملکیوں کو شہریت دینے کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک مہم برپا کردی تھی۔

بعض شامی بھی اس تجویز سے خوف زدہ ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی جانب سے اس بات کا ایک اشارہ ہے کہ وہ ان کے نصب العین سے دستبردار ہورہے ہیں اور وہ شامی حکومت کے ساتھ مصالحت کا ارادہ رکھتے ہیں۔بعض افراد اس کو ترک صدر کا پروپیگنڈا خیال کرتے ہیں جس پر ان کی رائے میں ترک صدر عمل درآمد نہیں کریں گے۔

کسی پہلے شامی کے ترک شہریت حاصل کرنے اور اس اقدام کو عملی جامہ پہنائے جانے تک اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ موجودہ حالات میں یہ ایک دلچسپ تجویز ہے اور بحث کا حامل موضوع ہے۔ابتدائی معلومات سے ہم جو کچھ جان سکے ہیں ،وہ یہ کہ ترکی کی شہریت کا یہ منصوبہ صرف ان شامیوں تک محدود ہے جو مالی لحاظ سے خوش حال ہیں۔ان کی تعداد کا تخمینہ تین لاکھ ہے لیکن میرے خیال میں یہ تعداد مبالغہ آمیز ہے۔

اقتصادی فوائد

اگر یہ منصوبہ حقیقی ہے اور محض پروپیگنڈا نہیں ہے تو یہ ایک اسمارٹ اور عملی تحریک ہے۔اس سے ترکی کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔اگرچہ کہ اس سے سیاسی مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔اس سے بعض شامی مہاجرین کو مصائب سے بھی چھٹکارا ملے گا۔میرا نہیں خیال کہ مجوزہ تعداد سے ترکی کا انتخابی توازن تبدیل ہو کر رہ جائے گا کیونکہ ایک لاکھ سے کچھ زیادہ ہی ترک،شامی ووٹ دینے کے اہل ہوں گے۔

طیب ایردوآن اس سے فوری طور پر کوئی سیاسی فائدہ حاصل نہیں کرسکیں گے کیونکہ ترکی کے سرکاری اداروں میں افسر شاہی کے طویل طریق کار کی بدولت اس منصوبے پر عمل درآمد میں وقت لگے گا۔گذشتہ سال انھوں نے شامی مہاجرین کو کام کے لیے اجازت نامے دینے کے وعدے کیے تھے لیکن بیس لاکھ سے زیادہ افراد میں سے صرف پانچ ہزار کو ایسے اجازت نامے مل سکے تھے۔شہریت عطا کرنا یقیناً ایک پیچیدہ اور حساس معاملہ ہے اور اتنی زیادہ تعداد میں شامیوں کو ترکی کی شہریت دینے کے عمل میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

تین لاکھ کی تعداد کا جرمنی جانے والے دس لاکھ تارکین وطن اور مہاجرین کی تعداد سے کوئی موازنہ نہیں ہے۔جرمنی نے ان کو اقامت دی ہے اور بالآخر انھیں جرمنی کی شہریت بھی مل جائے گی۔ اگر رجب طیب ایردوآن اپنے وعدے کو عملی جامہ پہناتے ہیں تو تنقید کے باوجود ان کی یہ ایک اہم کامیابی ہوگی۔

امریکا ایک ایسے ملک کی مثال ہے جس کو تارکین وطن سے بہت زیادہ فائدہ پہنچا ہے۔بعض کیسوں میں اس نے قدغنیں نرم کیں اور کام کے لیے اجازت نامے دیے تھے۔اس سے بعد میں ان لوگوں کے لیے شہریت کے حصول کی راہ ہموار ہوئی تھی۔اس نے لوگوں کے ایسے زمرے بنائے، جن سے اس کی معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔جیسا کہ بھارتی ہیں۔ان کی تعداد میں 1990ء کے بعد سے بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔آج وہ مختلف شعبوں میں اہم زمرے میں شمار ہوتے ہیں۔وہ سخت محنت ،سیکھنے کے لیے لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کی وجہ سے ایک امتیازی حیثیت کے حامل ہیں۔

گذشتہ عشرے کے دوران میں برطانیہ نے عراق پر اپنے مہاجرین کو واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا ہے لیکن اس سے یہ کہا ہے کہ ان میں ڈاکٹروں کو شامل نہ کیا جائے کیونکہ برطانیہ کو ان کی اشد ضرورت ہے۔

ہزاروں مہاجرین کو ترک معاشرے میں سمونے سے ان کے مصائب میں تو کمی واقع ہوگی لیکن اس سے شامی عوام جس المیے سے گزر رہے ہیں،وہ ختم نہیں ہوگا۔اس سے کچھ فرق پڑنے کا نہیں کہ ترک اور یورپی کتنی زیادہ تعداد میں لوگوں کو شہریت دیتے ہیں اور انہیں ملازمتیں مہیا کرتے ہیں،مہاجرین کی تعداد بڑھتی ہی رہے گی جبکہ شام کی نصف آبادی اندرون اور بیرون ملک در بدر ہے۔

تاہم ان کی صورت حال فلسطینیوں ایسی نہیں ہے جن کے مصائب زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہیں کیونکہ ان کی مادر وطن پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور وہ شاید اپنے آبائی علاقوں کو لوٹ نہ سکیں۔

شام میں جو کچھ ہورہا ہے،وہ اقتدار کے لیے کشمکش اور جدوجہد ہے اور یہ ایک دن ختم ہوجائے گی۔اس بحران کا کیسے خاتمہ ہوتا ہے اور اس میں کتنا عرصہ لگ سکتا ہے،شامی عوام عراقیوں ،افغانوں ،صومالیوں، یمنیوں اور دوسرے لوگوں کی طرح اپنے ملک کو لوٹیں گے جو اس وقت طوائف الملوکی اور جنگ کا شکار ہے۔

-----------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے