نیدر لینڈز اگرچہ ایک چھوٹا ملک ہے،بین الاقوامی تعاون تنظیم کے مطابق اس کو مئی 2011ء میں دنیا کا خوش ترین ملک قرار دیا گیا تھا۔ یونیسیف نے نیدرلینڈز کو بچوں کی نگہداشت کے حوالے سے دنیا کا بہترین ملک قرار دیا ہے۔

یہ خوشی بلاشبہ اس کی معاشی کامیابی پر اثرانداز ہوئی ہے۔یہ دنیا کی دس بڑی برآمدی معیشتوں میں سے ایک ہے اور دنیا کی اٹھارھویں بڑی معیشت ہے۔اس کے تجارتی دارالحکومت ایمسٹرڈیم کی اسٹاک ایکسچینج دنیا کی قدیم ترین اسٹاک ایکسچینیجوں میں سے ایک ہے۔

اہم عالمی تنظیموں اور اداروں کے دفاتر بھی نیدر لینڈز میں واقع ہیں۔ان میں تنظیم برائے امتناع کیمیائی ہتھیار، مستقل ثالثی عدالت ،عالمی عدالت انصاف ،عالمی فوجداری عدالت،بین الاقوامی فوجداری ٹرائبیونل برائے سابق یوگو سلاویہ اور خصوصی ٹرائبیونل برائے لبنان کے صدر دفاتر نیدرلینڈز کے سیاسی دارالحکومت ہیگ ہی میں قائم ہیں۔

ڈچ کھلے ذہن کے مالک ہیں۔وہ غیر ملکیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔وہ رنگ ونسل کے اختلاف کو برداشت کرتے ہیں۔اگرچہ انھیں اپنی شناخت اور زبان پر فخر ہے مگر وہ روانی سے انگریزی بولتے ہیں جو عالمی رابطے کی زبان ہے۔

ڈچ کو غیرمذہبی زمرے میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ممکن ہے بہت سے عرب قارئین کے ذہنوں میں اس کا منفی پہلو آئے،نیدرلینڈز اور بیشتر یورپ میں مذہب ایک بہت ہی حساس موضوع ہے اور ترجیحاً آپ مخاطب سے اجازت لیے بغیر اس سے مذہب پر گفتگو نہیں کرسکتے ہیں۔

ملک کی کل آبادی ایک کروڑ ستر لاکھ نفوس کے لگ بھگ ہے۔اس میں تیرہ فی صد مسلمان ہیں اور ان میں زیادہ تر مراکشی تارکین وطن ہیں۔ایک مراکشی سفارت کار نے مجھے بتایا تھا کہ نیدرلینڈز میں اتنے ہی مراکشی تارکین وطن رہ رہے ہیں، جتنے بیلجیئم میں مقیم ہیں لیکن نیدرلینڈز میں آباد تارکین وطن بیلجیئم میں آباد اپنے ہم وطنوں سے کہیں بہتر حالت میں رہ رہے ہیں کیونکہ تارکین وطن سے متعلق ماحول بالکل مختلف ہے اور پھر نیدرلینڈز میں کامیابی کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔

معاشی جدوجہد

ڈچ کو اچانک کامیابی نہیں ملی تھی بلکہ وہ ایک اقتصادی مرحلے سے گزرے تھے۔اس کو ''ڈچ بیماری'' کا نام دیا گیا تھا۔سنہ 1900 اور 1950ء کے درمیان شمالی سمندر سے تیل دریافت ہوا تھا۔اس کے نتیجے میں ڈچ لوگ سست ،کاہل اور اپنے تئیں مطمئن ہوگئے تھے۔وہ اخراجات میں اسراف و تبذیر سے کام لیتے۔پھر انھیں اپنی غیر پیداواریت کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ہوا یہ کہ تیل اور گیس کے ذخائر کم ہوتے چلے گئے اور بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوگیا۔

لوگوں کو اس حقیقت کا ادراک ہو گیا کہ معذوری کے فوائد بے روزگاری کے فوائد سے کہیں زیادہ بہتر تھے۔قومی کرنسی کے تبادلے کی شرح میں اضافہ ہوگیا۔مقامی اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا اور وہ درآمدی اشیاء کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھیں کیونکہ وہ ارزاں ہوچکی تھیں۔نتیجۃً پیداوار میں کمی واقع ہوگئی اور درآمدات بڑھ گئیں۔اگر نیدرلینڈز صارف معیشت سے بیدار نہ ہوتا تو وہ آج دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار بھی نہ ہوتا۔اس کی ترقی کا یہی ایک اہم سبق ہے۔

------------------------------

(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا ان کے نقطہ نظر سے متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے