کبھی کبھار نقاب ایسے بھی اترتا ہے جیسے جمہوریت کے علم بردار انسانی حقوق کے چیمپئن، ساری دنیا کو نسلی تعصب کے خلاف لیکچر دینے والے بین الاقوامی ٹیوٹر، امریکہ کے چہرے سے اترا۔ تاریخ کا ریکارڈ مستند اداروں کے مرتب کردہ اعداد وشمار گواہی دیتے ہیں کہ روشن چہرے کے اوپر خوش نما ماسک کے نیچے بدنمائی کے سوا کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ سیاہ فام شہریوں کی بے گناہ موت نے ثابت کیا کہ امریکہ میں گولی کا نشانہ بننے کے لئے جلد کی رنگت کا سیاہ ہونا ہی کافی ہے۔

تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ نائن الیون نے امریکہ کو بدل دیا۔ ستمبر سے پہلے کا امریکہ شخصی آزادیوں کی جنت تھی۔ گورے کو کالے پر کوئی امتیاز نہ تھا۔ مذہب کی کوئی تفریق نہ تھی۔ مسجد اور مندر میں کوئی فرق نہ تھا۔ چرچ اور یہودیوں کے مبصر دونوں کو یکساں سہولیات حاصل تھیں۔ لیکن اس حملے نے جس کو امریکی شان و شوکت، سطوت و جبروت، کروفر اور تمکنت پر اٹیک تصور کیا گیا۔ امریکہ کو بدل دیا ہے۔ شاید امریکہ میں بسنے والی دیگر کمیونٹیز کے معاملہ میں ایسا ہی ہو۔ ایک ہی حملہ میں اڑھائی ہزار افراد قتل کر دیئے جائیں۔ سپر پاور کے لئے نشان امتیاز۔ ٹوئن ٹاور کو چشم زدن میں مٹی، سیمنٹ اور کنکریٹ کا ڈھیر بنا دیا جائے تو پھر غیر معمولی اخراجات اٹھانا، متاثرہ ملک کا حق بنتا ہے۔ لیکن یہ سیاہ فام تو نائن الیون کے دہشت گردی کے واقعہ میں ملوث نہ تھے۔ ان میں سے کچھ اپنے افریقہ سے زبردستی غلام بنا کر لائے گئے۔ امریکہ اور یورپ میں کسی کو بھی دہشت گرد ثابت کرنے کے لئے اس کا مسلمان ہونا بس کافی ہے۔ لیکن سیاہ فاموں کی اکثریت تو آج بھی عیسائی ہے۔ پھر وہ پولیس تشدد کا نشانہ کیوں؟ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہر سال کم و بیش 800 سیاہ فام امریکی شہریوں کو پولیس اہلکار گولی مار کر ہلاک کر دیتے ہیں۔

یہ اعداد وشمار سیاہ فاموں کی کسی تنظیم نے مرتب کئے ہیں نہ کسی میڈیا آرگنائزیشن نے۔ کسی بین الاقوامی ریسرچ ادارے نے بھی ایسی کوئی زحمت نہیں کی۔ یہ تفصیلات امریکی محکمہ داخلہ کی فنڈنگ سے چلنے والے ادارے پولیس فاؤنڈیشن نے جمع کیں۔ یہ ادارہ امریکی معاشرے میں پولیس کی کارکردگی، اس کے نفسیاتی رویوں، جرائم کی نوعیت، اس کی وجوہات، پولیس کی ضروریات، اس کی تربیت کے متعلق ریسرچ کر کے رپورٹیں تیار کرتا ہے۔ امریکی محکمہ داخلہ اور ریاستی حکومتیں اس ریسرچ کی سفارشات کی روشنی میں انسداد جرائم کی حکمت عملی تیار کرتی ہیں۔ پولیس فاؤنڈیشن کی ریسرچ بتاتی ہے کہ مختلف ریاستوں میں سالانہ 800 امریکی شہری رنگت جن کی پیدائشی حادثے کی وجہ سے کالی ہوتی ہے وہ رنگوں، روشنیوں اور چکا چوند سے بھرپور شہروں کی سڑکوں، مارکیٹوں پر اکثر دن دہاڑے سرعام مار دیئے جاتے ہیں۔

بعدازاں عین ہمارے ملک کی طرح، اس قتل کو پولیس مقابلہ شو کیا جاتا ہے۔ پولیس فاؤنڈیشن نے حتمی اعدادو شمار تو فراہم نہیں کئے۔ لیکن مشاہدہ یہ ہے کہ اکثریتی فرضی پولیس مقابلوں میں پولیس اہلکار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہتا ہے کہ ملزم کے پاس اسلحہ موجود تھا۔ اکثر تحقیقی رپورٹوں میں یہ بھی ثابت نہیں ہو پایا کہ کیا پولیس گردی کا نشانہ بننے والے نے پولیس اہلکار پر پہلے اٹیک کیا۔ اگر ایسا ہو تو پھر یقینی طور پر ڈیوٹی پر موجود پولیس افسر کا قانونی حق اور فرض ہے کہ وہ ملزم کو نشانہ بنائے۔ اگرچہ اس سلسلہ میں بھی پولیس کی تربیت اہلکار کو تلقین کرتی ہے کہ گولی ٹانگوں پر ماری جائے۔ ایسے مقامات کو نشانہ ہر گز نہ بنایا جائے جس کے نتیجہ میں موت واقع ہو۔ تاہم پولیس افسران ان ہدایات پر عمل نہیں کرتے۔ گویا اکثر ایسی وارداتوں میں گولی کا نشانہ بننے والے کی غلطی ثابت نہیں ہوتی۔ لہٰذا پولیس اہلکار کا قصور وار ہونا ثابت شدہ ہوتا ہے۔

اب میری طرح آپ بھی یہ سوچتے ہوں گے کہ امریکہ میں تو عدالتیں آزاد ہیں۔ وہ ملزم، پولیس اہلکار کو کڑی سزا دیتی ہوں گی تاکہ کسی پولیس اہلکار کو قانون ہاتھ میں لینے کی جرأت نہ ہو سکے۔ ایسے پولیس اہلکاروں کو عبرت کی مثال بنا دیا جاتا ہوگا۔ اگر آپ بھی ایسا سوچتے ہیں تو آپ بھی میرے ایسے بے خبر کی طرح شدید غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ ایسے کسی جعلی یا اصلی پولیس مقابلہ میں ملوث پولیس افسر کو سزا نہیں سنائی گئی۔ کئی ایسے عدالتی فیصلوں میں لکھا گیا ہے کہ اگر پولیس افسروں کو سزائیں دی جانے لگیں تو فورس کا اعتماد متاثر ہوگا۔ ڈیوٹی پر موجود اہلکار ملزم کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تذبذب کا شکار ہو جائے گا۔ ایسا تذبذب اور گریز، پولیس اہلکار کی اپنی سیکورٹی کیلئے خطرہ کا باعث بن سکتا ہے۔ 2015ء میں امریکی ریاست وسکونسن میں ایسی ہی انکوائری میں سفید فام اہلکار کو بری کیا گیا تو ریاست میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ کئی افراد ہلاک ہوئے، املاک تباہ ہوئیں۔ ریاست میں فیڈرل ریزرو فورس کو طلب کرنا پڑا۔ حالات پر قابو پانے کے لئے ریاستی دارالحکومت میں کرفیو نافذ کرنا پڑا۔ کئی روز کے ہنگامے کے بعد حالات معمول پر آئے۔ کچھ عرصہ گزرا اور یہ کیس بھی داخل دفتر ہو گیا۔ خون خاک نشیناں تھا، رزق خاک ہوا۔

ڈیلاس میں دو سیاہ فام نوجوانوں کی ہلاکت سے حالات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہو گئے۔ سیاہ فام کمیونٹی کے ردعمل نے پانچ پولیس افسروں کی جانیں لے لیں۔ مزاحمت کے سرغنہ کو ریموٹ کنٹرول روبوٹ استعمال کر کے ختم کرنا پڑا۔ اس قتل کے ردعمل میں احتجاج کا دائرہ واشنگٹن تک پھیل کر، اب یورپی دارالحکومتوں تک پہنچ رہا ہے۔ امریکی معاشرہ بھی عجیب و غریب ہے۔ ایک سیاہ فام مسلم پس منظر کے حامل فرد کو صدر منتخب کر لیتا ہے۔ آسٹرین نژاد باڈی بلڈر آرنلڈ شوازنیگر کو دو مرتبہ ریاستی گورنر منتخب کرتا ہے۔ میڈلین البرائٹ کو اپنا وزیر خارجہ مقرر کرتا ہے۔ سیاہ فام کولن پاؤل امریکی افواج کا سپہ سالار بن جاتا ہے۔ ایک اور جاپانی نژاد امریکی بحریہ کے سربراہ کے عہدہ تک پہنچ جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اپنے تعصبات سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ ایک جیسی استعداد تعلیمی ریکارڈ کا حامل گورا اور کالا ایک ہی دن بھرتی ہونے کے باوجود کیرئیر کے لحاظ سے کبھی برابری کا درجہ نہیں پاتا۔ کالا پیچھے اور گورا آگے نکل جاتا ہے، ہمیشہ۔ امریکہ میں غلامی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔

امریکی زمینداروں نے کھیتوں میں کام کرنے کے لئے کالوں کے جہاز بھر بھر کر افریقہ سے امپورٹ کئے۔ ان کو غلامی کی زنجیروں سے جکڑا۔ سب سے پہلے امریکی قوم کے محسن ابراہام لنکن نے غلامی کے خلاف آواز اٹھائی۔ غلامی ختم ہوئی۔ لیکن انسانوں کو غلام بنانے کے حامی گوروں نے اس کو دن دہاڑے موت کے گھاٹ اتارا۔ یہ قیمت ادا کر کے غلامی تو ختم ہوئی لیکن گوروں کا نسلی تعصب ختم نہ ہوا۔ امریکہ کے بانیوں میں سے ایک نے کہا تھا کہ میں سفید فام ہوں۔ لہٰذا مجھ پر کوئی حکومت نہیں کر سکتا۔ تھامسن فرینکلن نے ایک مرتبہ لکھا تھا کہ سیاہ فام ہونا اور آزادی، دو متضاد چیزیں ہیں۔ افریقی امریکن ذہنی، تعلیمی، اخلاقی لحاظ سے مکمل شہری ہونے کے حقدار نہیں۔ امریکی معاشرے میں یہی اصول ہر جگہ کارفرما ہے۔ غلامی کے خلاف جنگ تو جیت لی گئی لیکن امریکی معاشرہ نسلی تعصب کی جنگ ہار چکا۔ بشکریہ روزنامہ "نئی بات"
-----------------------------------------
"العربیہ" کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے