یہ غلامی کی تاریکیوں میں گھرے کشمیر کی ایک روشن صبح تھی، جب 29 اپریل 1931 کو کشمیری مسلمان اپنے مذہبی فریضہ کی انجام دہی کے دوران عید الضحیٰ کی نماز کا خطبہ سن رہے تھے کہ ڈیوٹی پر مامور ڈوگرہ سب انسپکٹر کھیم چند نے عید کے عربی خطبہ کو مہاراجہ کیخلاف تقریر قرار دیکر امام صاحب کو خطبہ بند کرنے کو کہا۔ خطبہ تو بند نہ ہوا لیکن مسلمانوں میں اشتعال ضرور پھیل گیا۔ ڈیڑھ ماہ بعد 9 جون 1931 کو جموں سینٹرل جیل میں لبھورام نامی ایک ڈوگرہ پولیس سب انسپکٹر نے صبح کے وقت ایک مسلمان سپاہی فضل الدین کے بستر سے پنج سورہ نکال کر زمین پر پھینک دیا۔ مقدس کتاب کی بے حرمتی پر پوری ریاست کے مسلمان سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر نکل آئے، لیکن ڈوگرہ سرکار نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور دوسری جانب مسلمانوں کا احتجاج بڑھتا چلا گیا۔

اسی احتجاج کے دوران ایک نوجوان عبدالقدیر کی ولولہ انگیز تقریر کو مہاراجہ کیخلاف بغاوت قرار دے دیا گیا اور بغاوت کا مقدمہ قائم کرکے عبدالقدیر کو گرفتار کرلیا گیا۔ عبدالقدیر کیخلاف مقدمہ کی بند کمرہ سماعت کے دوران ہزاروں کشمیری باہر اکٹھے ہو گئے، نماز عصر کا وقت ہوا تو ایک نوجوان نے اذان دینا شروع کردی۔ ڈوگرہ گورنر کے حکم پر مسلمانوں پر فائرنگ شروع کردی گئی، پہلی گولی ہی اذان دینے والے نوجوان کو لگی اور وہ گرکر شہید ہو گیا، پھر دوسرا مسلمان آگے بڑھا اور اذان کہنا شروع کردی اور وہ بھی شہید ہو گیا۔ یکے بعد دیگرے 22 مسلمانوں نے اذان مکمل کرنے کے دوران جام شہادت نوش کیا۔ اس واقعہ کے بعد کشمیری مسلمانوں میں نئے سرے سے تحریکِ آزادی کشمیر کو اجاگر کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ کشمیریوں نے ڈوگرہ راج کیخلاف پہلی انتفاضہ شروع کی، جس کے نتیجے میں بالآخر 24 اکتوبر1947 کو کشمیر نے ایک بڑا خطہ آزاد کراکر وہاں انقلابی حکومت قائم کر دی، لیکن بھارت کے اقوام متحدہ جانے پر کشمیر کا ایک حصہ بھارت کی غلامی میں چلا گیا، جہاں گزشتہ سات دہائیوں سے حق خودارادیت کی جہدوجہد کبھی نہیں رکی۔

یہ ٹھیک 6 سال پہلے جون کے دوسرے ہفتے کی بات ہے۔ موسم گرما پورے عروج پر تھا اور بھارت کے غاصبانہ قبضے میں جکڑی وادی کشمیر کے حریت پسند عوام کی حق خودارادیت کیلئے سیاسی و عسکری محاذ پر جدوجہد معمول کے مطابق جاری تھی۔ جلسے جلوس بھی ہوتے تھے، ریلیاں بھی نکلتی تھیں، کارنر میٹنگ میں حقوق کی بات بھی کی جاتی تھی اور میڈیا کے محاذ پر اپنا موقف بھی بے جگری کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا، لیکن اِس جدوجہد کو برق رفتارنہ کہا جا سکتا تھا کہ ایک بار پھر جون کا مہینہ آن پہنچا، جب 11 جون 2010 کو سری نگر کے علاقے راجوری کدل میں غنی میموریل اسٹیڈیم کے نزدیک بھارتی پولیس کی طرف سے آنسو گیس کے گولے پھینکے گئے۔ ایک گولہ ٹیوشن پڑھ کر گھر آتے نوعمر طالب طفیل احمد متو کے سیدھا سر پر لگا، جس سے طفیل متو نے جام شہادت نوش کر لیا۔ طفیل متو کی شہادت کی خبر پھیلتے ہی سرینگر اور گرد ونواح کے علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پولیس نے کشیدگی پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر علاقے میں فوری کرفیو نافذ کر دیا۔

بھارت سمجھتا تھا کہ جس طرح تقسیم ہندوستان سے لیکر اب تک وہ کشمیریوں کی آواز دبائے چلا آ رہا تھا، یہ آواز بھی دبالی جائے گی، لیکن 12 جون کو کرفیو کے باوجود لاکھوں افراد نے احتجاجی جلوس نکالے اور طفیل متو کے بے رحمانہ قتل کے ذمہ دار اہلکاران کیخلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ یہ دراصل مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی آزادی کیلئے شروع کی جانیوالی دوسری انتفاضہ تھی۔ سخت کرفیو میں غیر مسلح کشمیری نوجوان گلیوں اور بازاروں میں نکلتے اور معمولی پتھر ہاتھوں میں اٹھا کر ہر طرح کے جدید اسلحہ سے لیس بھارتی پولیس اور فوجیوں کے سامنے تحقیقات کا مطالبہ دہرانے لگتے۔ بھارتی سرکارنے تحقیقات نہ کیں اور دوسری جانب حواس باختہ بھارتی فوج اور پولیس نے پرامن مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کا سلسلہ شروع کردیا جس سے 120 نہتے بچے اور بچیاں شہید ہوگئیں۔ بھارت کا ریاستی جبر، کشمیریوں کی شہادتیں اور گرفتاریاں احتجاج کی اِس لہر کو دبانے کی بجائے مزید مشتعل کرنے کا باعث ثابت ہوئیں۔

چھے سال بعد ایک مرتبہ پھر جون جولائی آیا اور حریت پسند کشمیریوں کا لہو گرما گیا۔ اِس وقت مقبول حریت پسند کشمیری نوجوان برہان وانی کے ماورائے عدالت قتل کیخلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ پوری مقبوضہ وادی میں پھیل چکا ہے۔ برہان وانی کے جنازے میں پوری وادی سے کشمیریوں نے شرکت کیلئے مارچ کیا تو مختلف مقامات پر پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں نے مظاہرین پر فائرنگ کرکے 50 کے لگ بھگ کشمیریوں کو شہید کردیا جبکہ گولیاں لگنے سے ایک سو سے زائد نوجوانوں کی آنکھیں ضائع ہو گئیں، لیکن کشمیریوں کا احتجاج ختم نہیں ہوا۔ یہ دراصل کشمیریوں کی تیسری انتفاضہ ہے، جسے کچلنے کیلئے بھارت وہی پرانے اور روایتی ہتھکنڈے استعمال کرکے نہتے کشمیری نوجوانوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنا رہا ہے۔ کشمیریوں کی اس نئی انتفاضہ میں بندوق کے مقابلے بندوق اور گولی کے جواب میں گولی کی جگہ اب نعرے، جھنڈے، ہڑتال اور پتھر نے لے لی۔

جہاں کشمیریوں نے گولی کا جواب پتھرسے دینا سیکھ لیا ہے، وہیں عالمی برادری بھی کشمیریوں کے ساتھ صف بندی کرتی دکھائی دیتی ہے، بھارت کے کشمیریوں پر حالیہ ظلم و ستم پر پہلی مرتبہ امریکہ اور اقوام متحدہ بھی خاموش نہ رہ سکے اور تشویش کا اظہار کرنے پر مجبور ہو گئے۔ دوسری جانب پاکستان ہے جو گزشتہ انہتر برسوں سے کشمیر کا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنر گوتم بمباوالے کو طلب کیا اور پاکستان کی جانب سے کشمیر میں حالیہ کشیدگی اور ہلاکتوں پر شدید خدشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی افواج اور پیرا ملٹری فورسز کے ہاتھوں کشمیری نوجوان برہان وانی سمیت دیگر بے گناہ کشمیریوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’غیر مسلح کشمیریوں کو بندوق کی نوک پر حق خودارادیت کی جائز جدوجہد سے روکا نہیں جا سکتا ہے، برہان وانی کی شہادت کیخلاف احتجاج کرنیوالے بے گناہ شہریوں کے خلاف غیر قانونی طور پر طاقت اور جارحیت کا استعمال اور کشمیریوں کا قتل عام انتہائی قابل مذمت ہے، ایسے ظالمانہ حربوں سے جموں و کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا‘‘۔ وزیراعظم نواز شریف نے زوردیا کہ ’’بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا احترام کرے اور کشمیری عوام کو پاکستان یا بھارت کے ساتھ اپنا مستقبل وابستہ کرنے کا حق دینے کیلئے استصواب کرانے کا اپنا وعدہ پورا کرے‘‘۔ اِسی طرح کے جذبات کا اظہار پاکستان کی باقی قومی قیادت نے بھی کیا اور کشمیریوں کو پیغام دیا کہ وہ اپنی جدوجہد میں اکیلے نہیں ہیں۔

قارئین کرام! کشمیری حریت پسند کمانڈر برہان وانی کی شہادت سے کشمیر میں تو یقینا تیسری انتفاضہ شروع ہو ہی چکی ہے، لیکن لگتا ہے کہ پاکستانی سیاسی قیادت کے مابین بھی دو دو ہاتھ ہونے جا رہے ہیں، جس کا قصہ کوتاہ یہ ہے کہ وزیراعظم کی ہارٹ سرجری کے معاملے کو بھی اندرون ملک حکومت کی سب سے زیادہ مخالفت جماعت نے جس طرح سیاست کی نذر کیا، اُس سے ثابت ہو گیا کہ پاکستانی سیاست کے سینے میں واقعی دل نہیں ہوتا۔ ورنہ آپریشن اور بیماری کے دنوں میں دشنام طرازی سے ناغہ کیا جا سکتا تھا اور تو اور وزیر اعظم کی واپسی کو بھی دشنام طرازی سے خالی نہ جانے دیا گیا اور اپوزیشن نے سوچے سمجھے اور حساب کتاب لگائے بغیر الزام لگا دیا کہ وزیراعظم کی واپسی کیلئے جو طیارہ انگلینڈ بھیجا گیا، اس سے پی آئی اے کو 30 کروڑ روپے کا ’’ٹیکہ‘‘ لگا۔’’مسلح جتھوں‘‘ نے پہلے بھی نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے لاہور سے اسلام آباد یلغار کی تھی، لیکن میاں صاحب ’’خالی ہاتھ‘‘ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر اس یلغار کا کامیابی سے مقابلہ کرتے نظر آئے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے پانامہ لیکس کے بہانے ’’دھرنا پارٹ 2‘‘ دہرانے کی دھمکی پر حکومت نے بھی پی ٹی آئی کوٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دیکھیے کہ ’’دھرنا پارٹ 2‘‘ سے نمٹنے کیلئے ’’تازہ دل‘‘ میاں صاحب کی نئی انتفاضہ کیا رنگ لاتی ہے؟ بشکریہ روزنامہ نوائے وقت
------------------
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے