کشمیر ایک بار پھر بھارتی جبر کے خلاف آمادۂ بغاوت ہے۔آزادی کی یہ تحریک1931ءسے جاری ہے۔ 1987ءکے انتخابی ڈرامے کے بعد سے اب تک سیکڑوں مختلف شکلوں میں احتجاج جاری ہے۔ گذشتہ چند سال میں اس احتجاج نے نئی جہتیں اختیار کی ہیں۔ 2010ء میں بھی کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے تھے اور یہ ظلم ہنوز جاری ہے۔ کشمیریوں کو ظلم وتشدد کا نشانہ بنا کر موت کی نیند سلا دیا گیا،ان کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ ان کی عزتوں کو پامال کیا گیا۔ان کے گھروں کو جلایا گیا۔ ان کی قیادت کو گرفتار کیا گیا۔ نوجوانوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا گیا۔ نوجوانوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ اس بغاوت کا حصہ بنیں ۔پھر بھارت نے کمال مہارت سے مختلف طریقوں سے کشمیریوں کو لبھانے کی کوشش کی۔ درمیان میں الیکشن کا ڈراما رچا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ کشمیری بھارت کے ساتھ ہیں لیکن بھارت کو کامیابی نہیں ملی۔وزیراعظم مودی ایسے حکمرانوں کی ساحری کے ذریعے اس مسئلے کو سلانے کی کوشش کی گئی۔ان سب کاوشوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ تنازعے کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ کبھی کم اور کبھی زیادہ شدت سے ہر سال کشمیر میں آزادی کی تحریک سامنے آتی ہے۔ بھارتی فوج خصوصی اختیارات کے ایکٹ کے تحت ان پر وحشیانہ تشدد کرتی ہے۔ نوجوانوں کو مزید بھڑکاتی ہے اور پھر کچھ عرصے کے لیے خاموشی چھا جاتی ہے۔

جب بھی مقبوضہ کشمیر کے کسی نوجوان سے بات ہوتی ہے اکثر وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتے اور کہتے ہیں کہ بھارت کچھ بھی کر لے کشمیریوں کے دل نہیں جیت سکتا۔ جب کسی گھر سے لاش نکلے گی تو اس کے جواب میں بھارتی سپاہیوں کے لیے اسی گھر سے پھولوں کے ہار نکلنا ناممکن ہے۔ پھر جنازے دفنانے اور تعزیت کے لیے شہید کے گھر جانے کی اجازت بھی نہیں ہو گی تولوگ احتجاج بھی نہ کریں تو اور کیا کریں؟

آئے دن کی اذیت کا شکار اہل کشمیرایک بار پھر ریاستی ظلم اور جبر واستبداد کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ بھارت تمام ترسیاسی، سماجی اور فوجی وسائل کو بروئے کار لانے کے باوجود اس مزاحمت کو دبانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے۔ اس کے تمام وسائل اور لاؤ لشکر اس وقت اپنی حیثیت کھو بیٹھے ہیں۔ کشمیر کے اندر اٹھنے والی تحریکوں کو جس قدر دبایا جاتا ہے یہ اتنی ہی شدت سے ابھر کر سامنے آتی ہیں۔کشمیر پر بھارت کے ظالمانہ قبضے کے خلاف روزانہ احتجاج کیا جاتا ہے۔ بھات کے آمرانہ اور وحشیانہ قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والےلوگ گولیاں کھاتے ہیں۔ حالیہ تحریک کے دوران 45 مظلوم کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا ہے اور 2000 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔ زخمیوں کو ہسپتال کی بجائے جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔مظاہرین کو پرندوں کے شکار کے لیے استعمال ہونے والی رائفلوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں 150 سے زیادہ کشمیری بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ ہسپتالوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ ایمبولینسوں سے زخمیوں کو گرفتار کر کے جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔یہ سب وہ ہے جو انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کی جانے والی ویڈیوز کے ذریعے ہم تک پہنچ رہا ہے۔ بہت سے مواد کو طاقت کے زورپر منظرعام پر آنے سے روک لیا جاتا ہے۔

اس تحریک کی صف اول میں نوجوانوں کی موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس بیداری کے بعد انھیں کوئی غلام نہیں رکھ سکتا ۔ نوجوان اپنی جانوں پر کھیل کر قوم کی بقاءو سلامتی کے لیے لہو کے چراغ روشن کر رہے ہیں۔ کشمیر کے بزرگ رہنما سید علی گیلانی اس تحریک کے روح رواں ہیں جو اسلام ، پاکستان اور تحریک حریت کے زبر دست حامی ہیں۔ وہ بلا خوف وخطر تحریک آزادی کشمیر کے لیے آواز بلند کرتے رہتے ہیں اور ساری دنیا کے میڈیا کے سامنے یہ بات کہتے ہوئے نہیں جھجھکتے کہ کشمیر کا مستقبل ہر لحاظ سے پاکستان کے ساتھ وابستہ ہے۔

محبوبہ مفتی کشمیر کی وزیراعلیٰ ہیں۔ ان کے والد کا انتقال کچھ عرصہ قبل ہوا تھا۔ ان کے والد کے جنازے اور برہان وانی کے جنازے کی تصاویر دیکھ لیں، احساس ہو جائے گا کہ کشمیریوں کے دلوں کے حکمران کون ہیں؟ اس کے علاوہ شیخ عبداللہ کا خاندان بھی ہے جو مقبوضہ کشمیر میں اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے دہلی سرکار کی کاسہ لیسی پر مجبور ہے۔ کشمیری ایسے کرداروں سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ کشمیر میں میر جعفر کی روحانی اولاد کا کردا ادا کر نے والوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔

کشمیریوں کے دل سے اسلام اور اللہ کے نبی کی محبت نکالنا اتنا آسان نہیں ۔ یہ ان کے خون کا حصہ ہے۔ بھارت ، روس اور اسرائیل کی طرز پر کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے۔ اسلام کے چہرے کو مسخ کرنے کے لیے روس نے بدترین طریقے اختیار کیے تھے۔سابق سوویت روس میں ریاستی جبر کے ذریعے وہاں رہنے والے مسلمانوں کو اسلام سے تعلق توڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ روس نے بدترین تشدد سے اسلام کو مٹانے کی سرتوڑ کوششیں کیں لیکن اسے بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت بھی اسی راہ پر چل رہا ہے۔ عید کی نماز پر پابندی لگانے اور جمعے کی نماز کی ادائی سے روک کر کیا بھارت کشمیریوں کے دل سے اسلام اور پاکستان کی محبت نکالنے میں کامیاب ہو سکتا ہے؟ اگر اس کا یہ خیال ہے تو اسے اپنے اتحادی روس سے سبق سیکھنا چاہیے۔

مسلمانوں کی آبادی کم کرنے اور کشمیری علاقے پر قبضے کو برقرار رکھنے کی خاطر بالکل اسی طرح ہندوؤں کی بستیاں بسائی جا رہی ہے جس طرح اسرائیل فلسطینی علاقوں پر قبضہ برقرار رکھنے والے وہاں یہودی بستیاں بسا رہا ہے۔مسئلہ کشمیر عالمی امن کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا تھا۔کشمیر اگر پاکستان کی شہ رگ ہے تو پھر اس کی حفاظت کی ذمے داری بھی پاکستانی قوم کے سر ہے۔

حالیہ تحریک کا ہیرو برہان وانی آزادی کی جدوجہد کی ایک علامت بن چکا ہے۔اس خاک کے خمیر میں ایسی آتش چنار ہے جس کو سرد کرنا اب بھارت کے بس میں نہیں رہا ہے۔ کشمیریوں کی آزادی کا سفر پہلے رکا تھا اور نہ اب رکے گا۔افضل گورو کی پھانسی اوراب برہان وانی کی شہادت نے اہلِ کشمیر کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔کشمیری ایک بار پھرتاریخی موڑ پرکھڑے ہیں۔1987ءکی انتخابی دھاندلیوں کے بعد شاید یہ پہلا واقعہ ہے جس نے کشمیرکی عمومی نفسیات کو جھنجھوڑکر رکھ دیا ہے۔

بھارت نے تو خود ہی اعتدال پسندی اور انتہا پسندی کے درمیان حائل سرحدوں کو ختم کر کے اہل کشمیر تک یہ واضح پیغام پہنچا دیا ہے کہ اس کے نزدیک نہ کوئی سخت گیر ہے نہ کوئی اعتدال پسند،نہ کوئی کشمیری گاندھی ہے اور نہ ہی کوئی مین سٹریم، بلکہ وہ سارے کشمیریوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔بھارت کے لیے بہتری اسی میں ہے کہ وہ حالات کی گھمبیرتا کا اندازہ کرے اور تنازعہ کشمیر کے حل کی راہیں ہموار کرے۔ کشمیری نوجوان بھارت کے خلاف مشتعل ہیں اور سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ انھیں اپنا احساس محرومی چین سے بیٹھنے اور راحت کی نیند سونے نہیں دیتا۔ مواقع کا فقدان انہیں مایوسی کی جانب لے جاتا ہے۔ وادی میں چاروں جانب پولیس،فوج اور نیم فوجی دستوں کی موجودگی میں خود کو غلام تصور کرنے والے لوگ بیدار ہو کر حریت کی تحریک کو اپنے لہو سے سینچ رہے ہیں۔ کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ لوگوں کو مسلسل قتل کیا جارہا ہے۔گھر جلائے جا رہے ہیں۔ انسانیت تڑپ رہی ہے اور امن کا راگ الاپنے والا دنیا بھر کا ہر دم بیدار میڈیا بے حسی و بے بسی کی علامت بنا ہوا ہے۔ دنیا بھر کے میڈیا سے تو شکوہ بجا مگر پاکستان کے چند اخبارات اور رسائل کے سوا کوئی بھی اس آواز کا ہم نوا بننے کو تیار نہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ کشمیریوں کی خفیہ اجتماعی قبریں بھارت کے چہرے کا بدنما داغ ہیں۔ شہری آبادیوں پر بدترین تشدد دنیا بھر میں اس کے لیے باعث رسوائی ہے۔ حریت رہنماؤں کو قید میں ڈالنا اور تشدد کرنا اس کے لیے بدنامی کا سبب بن چکا ہے۔ افسپا جیسے کالے قوانین اس کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں۔ بھارت کی لاکھ کوششیں سہی لیکن آخر کب تک کشمیریوں کو ان کے بنیادی حق ،حق خودارادیت سے محروم رکھ سکے گا؟اقبال نے کہا تھا کہ

جس خاک کے ضمیر میں ہے آتش چنار
ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاک ارجمند
-------------------------------------
"العربیہ" کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے