امریکی کانگریس کے سابق رکن بوب گراہم اُن شخصیات میں پیش پیش تھے جنہوں نے وہائٹ ہاؤس پر 28 صفحات کی خفیہ رپورٹ منظرعام پر لانے کے لیے دباؤ ڈالا۔ اس رپورٹ کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ یہ سعودی عرب کو 11 ستمبر کے دہشت گرد حملوں سے جوڑتی ہے۔

جمعے کے روز اعلان کردہ نتائج بوب گراہم کے لیے انتہائی مایوس کن تھے جب اس دستاویز سے یہ بات ظاہر ہوگئی کہ سعودی حکام اور حملہ آوروں کے درمیان کسی قسم کے تعلقات نہیں ہیں۔ گراہم نے اپنی جھینپ مٹاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اختتام نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ رپورٹ میں ایسا مواد شامل ہے جو سزا یابی تک پہنچا سکتا ہے۔

یقینا یہ بات درست نہیں ہے ، سیکورٹی اداروں نے طویل عرصے تک ان دعوؤں کی تحقیقات کیں اور انہیں کسی تعلق یا سپورٹ کے ثبوت نہیں ملے ، وہائٹ ہاؤس بھی کئی بار اس بات کو دُہرا چکا ہے۔ سمجھ تو یہ ہی آرہا ہے کہ گراہم یہ سب عوامی مقبولیت حاصل کرنے کے لیے بول رہے ہیں۔ اس لیے کہ وہ لوگوں اور جانی نقصان کا شکار ہونے والوں کے اہل خانہ سے خطاب کرتے ہیں تاکہ عوام الناس کی مزید توجہ حاصل کرسکیں اور ٹی وی کیمرے ان کے پیچھے دوڑ لگائیں۔ ان کے دعوؤں سے سعودی عرب کو کوئی نقصان نہیں پہنچا جو 2003ء سے اعلان کرچکا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ یہ خفیہ رپورٹ صحافیوں اور عام لوگوں کے سامنے لائی جائے۔ امریکی ذمہ داران اور تجزیہ کاروں نے خبردار کیا کہ اس رپورٹ کے انکشاف سے نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ انکشاف امریکی حکومت کو قانونی مامونیت سے محروم کر کے اسے ان گنت مسائل میں پہنچا دے گا۔ یہ دوسرے ملکوں میں امریکا کی خفیہ کارروائیوں اور ڈرون حملوں کے سبب سُپر پاور کے خلاف عدالتی کارروائیوں کا دروازہ کھول دے گا۔

اس خفیہ رپورٹ کے اعلان سے سعودی عرب کو فائدہ پہنچا ہے اور اس سے غل غپاڑے کی اس صورت حال کا بھی خاتمہ ہوجائے گا جو کئی سالوں سے اس معاملے کے گرد موجود پراسراریت کے سبب بڑھتی جارہی تھی۔ سعودی عرب کے مخاصمین نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھایا جن میں ایرانی لوبی ، بائیں بازو اور سیاسی اسلام کی جماعتیں اور مقبولیت کی تلاش میں سرگرداں نامزد امیدواروں کے گروپ شامل ہیں جو جانی نقصان کا شکار ہونے والوں کے بے چارے اہل خانہ کے مصائب اور آلام سے کھیلتے ہیں۔ اب یہ سارا کھیل ختم ہوجائے گا اگرچہ ذاتی یا نظریاتی طور پر بعض جانب سے اس کو باقی رکھنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔

سعودیوں سے زیادہ امریکیوں کو اس کا فائدہ پہنچے گا کیوں کہ اس معاملے کے حل نہ ہونے سے امریکی شہریوں کے اندر یہ شک و شبہات پیدا ہوگئے تھے کہ امریکی حکومت نے سعودی عرب کے ساتھ قریبی اتحاد کی وجہ سے مملکت پر پردہ ڈالا ہوا ہے۔ بعض حلقوں کے خیال میں اسی چیز نے حکومت کو اس پورے عرصے مذکورہ دستاویز کو چھپا کر رکھنے پر مجبور کیے رکھا۔

سیاست اور ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والی بڑی شخصیات نے اس وجہ سے وہائٹ ہاؤس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تاہم رپورٹ کے منظرعام پر آنے کے بعد ان تمام غلط الزامات کی تردید ہوگئی۔ ایک رکن کانگریس کے مطابق اس دستاویز کو تاریکی سے روشنی میں لانے سے لوگوں میں حکومت کے حوالے سے پھیلے سازش کے نظریات بھی ختم ہوجائیں گے۔

امریکی پارلیمنٹ کے اسپیکر پال رائن جو ایک معتدل شخصیت ہیں ، بارہا یہ بات کر چکے ہیں کہ خفیہ دستاویز کسی طور سعودی عرب کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کا ظاہر کرنا شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک اچھا قدم ہے۔ یہ یقینا دوسرا اور اہم فائدہ ہے۔ اس سلسلے میں تیسرا فائدہ یہ ہے کانگریس میں اس معاملے کی مکلف تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے سعودی عرب اور گیارہ ستمبر کے خودکش حملہ آوروں کے تعلقات پر نظر ثانی کے بعد اس نتیجے پر پہنچا گیا کہ معلومات کی انٹیلجنس کے اداروں کے طریقہ کار میں نقص رہا۔ امریکی "سی آئی اے" کو ملنے والا دستاویز "ایف بی آئی" کو بھیجا جانا چاہیے تھا تاہم وہ سالوں تک درازوں میں محفوظ رکھا گیا۔

جانی نقصان کا شکار ہونے والوں کے اہل خانہ کے معاملے پر تجارت کی گئی اور یہ لوگ کروڑوں ریالوں کا خواب دیکھنے والے وکیلوں اور بولی لگانے والے سیاست دانوں اور میڈیا کے ہاتھوں میں بلیئرڈ کی گیند بن گئے۔ سعودی عرب کے بری ہوجانے کا یہ مقصد ہر گز نہیں کہ ان لوگوں کے خلاف بھی عدالتی کارروائی ختم ہوگئی جن کا حقیقی طور پر القاعدہ اور دہشت گرد جماعتوں کی سپورٹ میں ہاتھ ہے ، یہاں ہماری مراد ایرانی نظام ہے۔ بہت سی دستاویزات تہران کے مُلاؤں اور القاعدہ کی قیادت کے درمیان تعلق کا انکشاف کرتی ہیں۔ ان میں 1993 میں سوڈان میں القاعدہ کے سابق سربراہ اور ایمن الظواہری کی حزب اللہ کے عماد مغنیہ اور ایرانی ذمہ داران کے ساتھ مشہور ملاقات شامل ہے۔ اس کے علاوہ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد تہران نے دہشت گرد تنظیم کی قیادت کو محفوظ پناہ گاہ پیش کی۔ نیویارک کی وفاقی عدالت کے جج نے مارچ میں جاری فیصلے میں ایران کی جانب سے جانی نقصان کا شکار افرد کے اہل خانہ کو اربوں ڈالر بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم ایران کے 28 صفحات یا ان سے بھی زیادہ کے بارے میں بات کریں۔

اس سے کہیں دور، اس بات کی یاد دہانی اہم ہے کہ قانونی طور پر تو 28 صفحات کا باب بند ہوگیا تاہم فکری اور ثقافتی پہلوؤں سے یہ اب بھی کھلا ہے۔ یہ سب کی ذمہ داری ہے کہ شدت پسندی کی اُس سوچ کے خلاف برسرجنگ ہوں جس نے نوجوانوں کو اشتعال انگیزوں اور دہشت گرد جماعتوں کی قیادت کے ہاتھوں میں آلہ کار بنا دیا ہے تاکہ یہ نوجوان اپنے ہی ملک کے خلاف نبرد آزما ہوں اور ملکی ساکھ کو مسخ کریں  جس سے ان کے دشمنوں کو فائدہ اٹھانے کے مواقع میسر آئیں۔
------------------------------------------------
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے