ترک فوج کے ''امن کونسل'' کے نام سے ظاہر ہونے والے ایک دھڑے کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام سازش کی تفصیل وقت کے ساتھ منظرعام پرآرہی ہے مگر اس کے ترکی اور انقرہ کی خارجہ پالیسی پر فوری طور پر مرتب ہونے والے اثرات اور مضمرات ابھی سے واضح ہیں۔

اس فوجی بغاوت کے ردعمل میں ترکی کی داخلی حرکیات نے فوری طور پر اپنا کردار ادا کیا ہے۔بظاہر آغاز سے ہی فوج منقسم نظر آرہی تھی کیونکہ اس بغاوت میں شریک افسر اور فوجی صدر رجب طیب ایردوآن ،حکومتی وزراء اور بعض جرنیلوں کی جانب سے اتحاد کے پیغام کی توقع نہیں کرتے تھے مگر صدر اور ان کے رفقاء ٹی وی چینلز پر فون کال یا فیس ٹائم اور ٹویٹر کے ذریعے پیغامات نشر کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

صدر ایردوآن کی لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے کی اپیل ،ترکی کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اتحاد کے پیغامات اور سب سے بڑھ کر ترکی کی مساجد سے ترک حکومت کے حق میں اٹھنے والی آوازوں سے اس سازش کو ناکام بنانے میں مدد ملی ہے۔

تاہم نقصان تو ہوچکا۔بیسیوں افراد کی ہلاکت کے بعد جھڑپیں ہوئیں۔بڑے پیمانے پر گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں اور حکمراں آق پارٹی کے حامیوں نے مبینہ طور پر بغاوت برپا کرنے والوں کو سرسری سماعت کے بعد سزائیں بھی سنائی ہیں۔

فوجی بغاوت کا فوری اثر تو فوج کی صفوں سے گولن کے حامیوں کا صفایا ہوگا۔سابق وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کی رخصتی پر اختلافات ،کرد ارکان پارلیمان کو حاصل استثنیٰ کا خاتمہ اور میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن وغیرہ،ان تمام اقدامات کو اب مہمیز ملے گی۔اب ترک صدر مزید مضبوط بن کر سامنے آئیں گے اور فتح اللہ گولن کے حامیوں کے خلاف زیادہ سختی کریں گے۔پارلیمان سے بھی یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ بغاوت کی سازش کرنے والوں کے لیے سزائے موت بحال کرے۔اگر پھانسی کی سزا بحال ہوتی ہے تو اس سے یقیناً ترکی یورپی یونین کے مدمقابل آجائے گا اور ان کے درمیان مڈبھیڑ ہوجائے گی۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ترکی میں گولن کے حامی عناصر کے قلع قمع سے انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات پر بھی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ فتح اللہ گولن پنسلوینیا میں (خود ساختہ جلاوطنی کی) زندگی کے ایام گزار رہے ہیں۔اس سے ایردوآن اور ان کے حامی امریکا سے نالاں ہوسکتے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ترکی کو گولن تحریک کے خلاف شواہد پیش کرنے کی دعوت دی ہے۔شاید واشنگٹن کی اگلی انتظامیہ کو اس ادراک کا ازالے کرنے کی ضرورت ہوگی کہ امریکا گولن تحریک کے پیروکاروں کو آق کی مخالفت جاری رکھنے کی اجازت دے رہا ہے۔اس طرح امریکا پر انچرلیک کے فضائی اڈے کو استعمال کرنے پر بھی دباؤ پڑے گا۔واشنگٹن کے خلاف اس ائیربیس کو استعمال کرنے پر اس طرح کی دھمکیاں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔

سوویت فوجی بغاوت سے موازنہ

بعض تجزیہ کاروں نے ترکی میں فوجی بغاوت کا اس کے نظم اور ناکامی کے اعتبار سے سوویت یونین میں 1991ء میں فوجی بغاوت سے موازنہ کیا ہے۔انھیں یہ بات باور کرنے کی ضرورت ہے کہ تب فوجی بغاوت اپنی موت آپ مر گئی تھی۔

اس بات کے امکانات ہیں کہ مستقبل میں ترکی کو اناطولیہ اور باقی ملک کے درمیان تقسیم کی وجہ سے مشکل صورت حال سے دوچار ہونا پڑے۔مقامی مبصرین نے نوٹ کیا ہے کہ اناطولیہ گذشتہ ایک سال سے اپنی ترقی کرتی معیشت کی وجہ سے ''آزاد'' بنتا جارہا ہے۔

بعض نے اس فوجی بغاوت کا سنہ 2002ء میں وینزویلا کے سابق صدر ہوگو شاویز کا تختہ الٹنے کی ناکام سازش یا 2013ء میں مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف فوجی سربراہ عبدالفتاح السیسی کی قیادت میں کامیاب فوجی بغاوت سے بھی موازنہ کیا کیا ہے۔اس طرح کے موازنے مفید ثابت نہیں ہوسکتے ہیں کیونکہ ترکی کی صورت حال فوجی بغاوتوں کی تاریخ اور کمال اتاترک کے نظریات کے تحفظ کہ وجہ سے بالکل مختلف ہے لیکن ایردوآن کے عزم کی وجہ سے وہ دن شاید لد چکے ہیں۔

اس ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترکی کی خارجہ پالیسی کے خطے کے لیے مضمرات پریشان کن ہیں۔پہلا یہ کہ ترکی کی فوج کو باغی عناصر سے پاک کرنے سے اس کی مختصر مدت میں کارروائیاں کرنے کی صلاحیت پر اثرات مرتب ہوں گے۔میرے خیال میں ایک کمزور ترک فوج سے داعش اور کرد باغیوں کے دھڑوں کو تقویت مل سکتی پے۔

دوسرا یہ کہ ایردوآن کو ترکی کی فوری ضروریات پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوگی اور یہ سب کچھ انقرہ کے افریقا اور خاص طور پر لیبیا کے لیے خارجہ پالیسی کے منصوبوں کو پس پشت ڈال کر کرنا ہوگا۔

اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے وسط سے ترکی معاشی مقاصد کے تحت اس خطے میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کے لیے کام کررہا ہے۔انقرہ کی لیبیا کے بارے میں پالیسی بھی شاید ناکارہ ہونے جارہی ہے کیونکہ اس نے مشرقی شہر طبرق میں قائم حکومت کو طرابلس میں قائم حکومت پر ترجیح دی تھی۔

تیسرا،اس ناکام فوجی بغاوت کے ترکی کے روس کے ساتھ تعلقات پر فوری اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔صدر ایردوآن نے حال ہی میں صدر پوتین کے ساتھ (سرد مہری کا شکار) تعلقات پر نظرثانی کی ہے۔کریملن اس بات پر شاداں ہے کہ ترک صدر کو اندرون ملک سے جھٹکا لگ گیا ہے،اس لیے اب ماسکو اپنی شام ،قفقاز اور اس سے ماورا پالیسی کے بارے میں انقرہ پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔

مجموعی طور پر ترکی داعش کے خلاف جنگ اور شامی امن عمل کے اس نازک مرحلے میں جذباتی نکاس کے مشکل دور سے گزرا ہے۔اس فوجی بغاوت کی لہریں آنے والے مہینوں میں بھی محسوس کی جاتی رہیں گی۔اس سے علاقائی سلامتی پر اثرات مرتب ہوں گے اور مبصرین اور متعلقہ فریقوں کے لیے بھی یہ ایک چیلنج ہے کہ وہ ایک گہرا سانس لیں اور نیٹو کے اس رکن ملک میں آیندہ مہینوں کے دوران غیریقینی کی صورت حال کو ملاحظہ کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔
_____________________

(ڈاکٹر تھیوڈور کراسیک دبئی میں مقیم جغرافیائی ،سیاسی امور کے ایک ماہر تجزیہ کار ہیں۔انھوں نے کیلی فورنیا یونیورسٹی لاس اینجلیس سے تاریخ میں چار شعبوں مشرق وسطیٰ ،روس اور قفقاز اور ذیلی شعبے ثقافتی بشریات (کلچرل اینتھروپالوجی) میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کررکھی ہے۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے