فرانس کے شہر نیس میں ہونے والے دہشت گرد حملے نے ہمیں پھر سے اسی تجزیاتی بکس میں پہنچا دیا ہے۔ فرانسیسی صدر نے "شدت پسند اسلام" کے بارے میں بات کی.. اس سے ان کا کیا مطلب ہے؟!

سنّی اور شیعہ دہشت گردی ایک ہی سطح پر ہے۔ داعش جو ٹرک کے ذریعے کچلنے کا جواز پیش کرتی ہے ، اس سے پہلے حزب اللہ یہ تدبیر اپنا چکی ہے۔ بہت پرانی بات ہے جب حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے ٹرک کے ذریعے کچل کر اور روند کر قتل کے طریقہ کار پر گفتگو کی تھی اور کارروائی کے بعد قاتل کے مسکرانے کی کیفیت بھی بتائی تھی اس لیے کہ وہ جنت میں جا رہا ہوتا ہے۔

دہشت گردی کا ایک ہی بلاک ہے صرف دلائل اور حجتوں کا فرق ہے۔ تاہم زمینی طور پر مشترکہ میدان اور موروثی حکمت عملی پائے جاتے ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ بن لادن نے خود عمارتوں کو تباہ کرنے اور سفارت خانوں کو آگ لگانے کے ساتھ ساتھ ہلاکتوں کی حکمت عملی کے سلسلے میں حزب اللہ کے طریقہ کار کو اپنایا۔

دہشت گردی مذہبی اور فرقہ وارانہ موضوع سے تجاوز کرچکی ہے۔ قاتل پس قاتل ہیں ، البغدادی اور بن لادن سے لے کر حسن نصراللہ اور عماد مغنیہ تک۔

اس وقت اہم ترین سوچ یہ ہے کہ معتدل اسلامی ثقافت قائم کی جائے جو ان جماعتوں اور تنظیموں سے تجاوز کر جائے۔ یہ سب بین الاقوامی تعاون اور دہشت گردی کے خلاف نظریاتی جنگ کے منصوبے کی قیادت کے بغیر ہر گز نہیں ہو گا۔

یورپ میں جہاں آزادی اظہار کی وجہ سے مختلف مقامات پر خطرناک دہشت گرد اقوال گردش میں رہتے ہیں، حکومتوں کے لیے ان کی نگرانی کرنا کیسے ممکن ہے ؟ !

یہ ایک بڑا المیہ اور عظیم آفت ہے۔ کچلنے اور روندنے کی حکمت عملی کے ذریعے قبیح ترین صورت میں قتل.. جس کی نوید حزب اللہ نے سنائی اور داعش تنظیم نے اسے جوں کا توں اپنا لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"العربیہ" اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے