طیب حکومت تو ٹارگٹ تھی ہی‘ اصل ارادہ مگر سعودی عرب کو نشانہ بنانے کا تھا۔ ترکی میں فوجی بغاوت کامیاب ہو جاتی تو حجاز مقدس کے مکمل محاصرے کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ دور ہو جاتی۔ منصوبہ ساز کون تھا؟ ترک حکومت نے کئی شواہد کے ساتھ امریکہ کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ جان کیری وضاحتیں دیتے پھر رہے ہیں‘ یہ تاثر بھی درست نہیں کہ فوج کے محض ایک گروپ نے بغاوت کی کوشش کی۔ سازش کرنے والوں کو یقین تھا کہ جیسے ہی ان کے مہرے اقتدار کی شطرنج سنبھال لیں گے ویسے ہی پوری کی پوری ترک فوج ساتھ آ ملے گی۔ یہ اندازہ زیادہ غلط بھی نہیں تھا۔ ماسٹر مائنڈ نے ایک خاص گروپ کو اپنے ہر اول دستے کا اختیار اس لئے سونپا تھا کہ اسے خدشات لاحق تھے وہ جانتا تھا کہ اقتدار پر طیب اردوان کی مضبوط بلکہ جارحانہ گرفت ٹاپ جرنیلوں سمیت پوری کی پوری فوج کو ایک دم سے سازش میں ملوث ہونے کا موقع نہ دے گی۔

یہ طیب اردوان ہی تو ہیں جنہوں نے اتا ترک کے بنائے گئے ’’یورپ کے مرد بیمار‘‘ ترکی کو اقتصادی اور فوجی حوالوں سے ایک بڑی طاقت بنا ڈالا۔ کئی جرنیلوں کو جیلوں میں پھینکا ‘ بیرون ملک بیٹھے سازشوں کے پروردہ صحافیوں اور ججوں کو بھی مناسب سبق سکھایا۔ یہ ہو نہیں سکتا ہے کہ کوئی عالمی طاقت مسلسل سازشیں رچا رہی ہو اور طیب اردوان جیسا جینئس لیڈر معاملات سے کلی طور پر بے خبر ہو۔ اب اگر ترک حکام کی جانب سے کھل کر امریکہ کا نام لیا جا رہا ہے تو یہ کوئی پہلا موقع نہیں۔

ترکی کی سالمیت کے در پے کرد باغیوں کے حوالے سے خود طیب اردوان اس سے پہلے بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ انہیں امریکہ اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ چند ہفتے قبل بھی اردوان نے واشگاف الفاظ میں مطالبہ کیا تھا کہ امریکہ اپنی پوزیشن واضح کرے۔ ۔۔۔۔۔۔صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں‘‘ والا کھیل اب نہیں چلے گا۔ دمشق میں بشارالاسد حکومت کو بچانے کے لئے امریکہ نے جو چالیں چلیں بالآخر وہ بھی راز نہ رہ سکیں۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو جنگوں میں الجھا کر پورے علاقے میں سعودی عرب مخالف عناصر کو طاقتور بنانے کی امریکی حکمت عملی کو عرب ممالک کی قیادت نے قدرے تاخیر کے ساتھ ہی سہی مگر درست طور پر بھانپ لیا تھا۔

عراق کے علاوہ شام میں بھی زبردست مزاحمت نے کئی بار مزہ کرکرا کر کے رکھ دیا۔ بغداد کی حفاظت کے لئے خود میدان عمل میں آنے کے بعد دمشق کو بچانے کے لئے روس کو موقع دیا گیا۔ جب کچھ نہ بن پڑا تو نیو یارک ٹائمز جیسا مؤثر اخبار بھی یہ لکھنے پر مجبور ہو گیا کہ ایرانی فورسز‘ حزب اللہ یا بچے کھچے اسدی ٹولے نے پورا زور لگا کر دیکھ لیا۔ خطرات پہلے سے بھی بڑھ گئے حتی کہ روسی فورسز کی ہولناک بمباری اور بے دریغ قتل عام کے باوجود زمینی حقائق تبدیل نہیں ہو سکے۔ پھر کیا تھا کہ امریکہ کو اعلان کرنا پڑا کہ دمشق حکومت کو بچانے کے لئے اب وہ روس کے ساتھ مل کر حملے کرے گا۔

امریکی ارادے نیک تھے نہ ہیں اس لئے طیب اردوان نے علاقائی مخاصمت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے روس کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی کوشش کی۔ جب یہ دیکھا کہ امریکہ، شام کی جنگ میں بھی براہ راست شریک ہونے والا ہے تو وہاں بھی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دیا۔ اسی دوران کرد باغیوں اور داعش نے امریکی ایما پر ترکی کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا مذموم منصوبہ جاری رکھا ہوا تھا۔ شاید یہی وہ لمحہ تھا کہ جب امریکی حکام کو اندازہ ہوا کہ طیب حکومت اپنے پاؤں پہلے سے بھی زیادہ مضبوطی کے ساتھ جما کر رنگ میں بھنگ ڈال سکتی ہے۔ پس فوج کو تختہ الٹنے کا حکم دیا گیا۔ عوام نے سڑکوں پر آ کر سازش ناکام بنا دی ترک قیادت نے فوری طور پر امریکی اڈا بند کر دیا۔ اب تو یہ اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں کہ باغی فوجی گروہ کو صدر کی نقل و حرکت و دیگر اہم شخصیات کے معمول کے حوالے سے تمام اطلاعات امریکی ذرائع سے ہی مل رہی تھیں۔ جرنیل رنگے ہاتھوں دھر لیے گئے ان میں سے بعض امریکہ نواز حلقوں کی پناہ میں تھے۔

طیب اردوان اور ان کے ساتھیوں نے امریکہ کو علانیہ مجرم ٹھہرانے میں دیر اس لئے نہیں کی کہ انہیں بخوبی اندازہ تھا کہ کوئی پلان بی یا سی بھی ہو سکتا ہے‘ دلیر ترک لیڈر کے ویژن کی داد دینا ہو گی۔ اگلے کسی وار میں وہ جان سے جائیں یا حکومت سے ‘ دونوں صورتوں میں ترک عوام پر آشکار ہو چکا کہ اصل دشمن کون ہے؟ جمعہ کی شام جب طیب حکومت کا تختہ الٹنے کی خبریں آنا شروع ہوئیں تو خصوصاً امریکی اور یورپی میڈیا میں شادیانے بج اٹھے۔ امریکی و یورپی ترجمانوں کے بیانات سے لگ رہا تھا کہ ’’آپریشن مکمل ہو چکا‘‘ سفارتی انداز میں فوجی بغاوت کو تسلیم کرتے ہوئے محض فیس سیونگ کی خاطر یہ اپیل کی جا رہی تھی کہ خونریزی سے بچا جانا چاہیے۔

اس نازک موقع پر طیب اردوان جس بہادری کے ساتھ سامنے اور انکے ساتھیوں نے جس طرح کندھے سے کندھا ملایا اس کی داد نہ دینا زیادتی ہو گی۔ حکومت میں شامل شخصیات کے علاوہ سابق صدر عبداللہ گل اور حال ہی میں مستعفی ہونے وزیراعظم داؤد اوگلو بھی میدان میں نکل آئے۔ لیڈروں کی دیکھا دیکھی بزرگ عورتوں اور بچوں سمیت عوام کا سمندر بھی سڑکوں پر آ گیا۔ باغی فوجی پولیس سے مار کھاتے رہے۔ عوام نے بھی ٹھکائی کر ڈالی غیر ملکی ایماپر سازش کرنے والے غدار جرنیلوں کو عوام نے اپنے طور پر پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔

صورتحال تیزی سے تبدیل ہونا شروع ہوئی تو امریکی اور یورپی میڈیا نے بھی یو ٹرن لے لیا‘ سب کو جمہوریت یاد آ گئی۔ اس سارے عمل میں سب سے زیادہ مایوسی بشار الاسد اور اسکے حامیوں کو ہوئی۔ مایوسی چھوٹا لفظ ہے کئی مقامات پر تو صف ماتم بچھ گئی۔ یوں لگ رہا تھا کہ سعودیہ مخالف عناصر کو گویا دھکتے ہوئے کوئلوں کی انگیٹھی پر بیٹھنا پڑ گیا ہے۔ اس لئے اب لایعنی قسم کے فضول تجزیے کیے جا رہے ہیں وہ بھی سوشل میڈیا پر‘ جلنے والوں کو بہر طور جلنا ہی ہے۔ اردوان جیسی قیادتوں کو ایسی باتوں کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔

یہ امر بھی دلچسپ رہا کہ فوجی بغاوت کی کوشش ترکی میں ہوئی پھر یوں لگا کہ پاکستان بھی گویا براہ راست فریق بن گیا ہے۔ بوٹ پالیشے اینکر اور اینکرنیوں نے اودھم مچا دیا جن کو اپنے اہل خانہ اور گھر کے اندر ہونے والے واقعات کا علم نہیں ہوتا دنیا کو یہ بتانے بیٹھ گئے کہ اردوان آخر کہاں جا کر سیاسی پناہ لیں گے؟ مارشل لاء کے فوائد کا پرچار ہونے لگا۔ پھر یوں ہوا کہ چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ ترک باغی فوجیوں کو جوتے‘ ڈنڈے اور لاتیں پڑنے کے مناظر سامنے آنے لگے۔ وردیاں اور اسلحہ چھوڑ کر بھاگنے کی فلمیں چلنے لگیں، ہر طرف عوامی طاقت کا دور دورہ ہونے لگا تو پاکستان کا کنٹرولڈ میڈیا بھی بغلیں جھانکتا رہ گیا۔ بغلیں اس لئے کہ گریبان میں تو وہ جھانکتا ہے جس میں کوئی شرم ہو کوئی حیا ہو۔ خجالت مٹا نے کے لئے اب یہ تبصرے کیے جا رہے ہیں کہ وہ تو ترکی کا معاملہ تھا پاکستان میں ایسا ہوا تو مٹھائیاں بانٹی جائیں گی۔

1999ء میں نواز حکومت کے خاتمے پر ایسا ہوا بھی تھا لیکن اب کیا ہو گا وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ مانا کہ نواز شریف اور طیب اردوان میں کوئی تقابل ہی نہیں لیکن نواز شریف کو اتنا تو ضرور یاد ہو گا کہ اگر لیڈر جان ہتھیلی پر رکھ کر خود میدان میں آجائے تو حامی بھی پیچھے نہیں رہتے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کی تحریک کے دوران اسکا عملی تجربہ ہو چکا ہے ایک اور فیکٹر یہ بھی ہے کہ سیاسی کارکنوں کی غالب اکثریت کے ساتھ ساتھ عوام کی بڑی تعداد کو بھی یہ باور کرایا جا چکا ہے کہ سول حکومتوں کو تو کام کرنے ہی نہیں دیا جاتا ‘رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں ‘سول حکومتوں کی کارکردگی کا صحیح جائزہ لینا ہے تو ہموار گراؤنڈ بھی فراہم کرنا ہو گی۔

موجودہ حالات میں پاکستان کسی ایڈونچر کا متحمل ہو سکتا ہے یا نہیں ‘اسکا درست طور پر اندازہ لگانے کا دعویٰ کرنا محض حماقت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور غصہ بھی۔ دیکھنا ہے کہ ردعمل جو یقیناً بڑے پیمانے پر ہو گا اور فیصلہ کن ہو گا جاری نظام کے خلاف ظاہر ہوتا ہے یا پھر نظام کو چھیڑنے والے اس کی لپیٹ میں آتے ہیں ۔عوام بپھر جائیں تو طاقت کا بھرم بھی کھل جاتا ہے ترکی میں نہایت اعلیٰ سطح کی عالمی سازش کو عملی جامہ پہنانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ اس کا بڑا کردار امریکی پٹھو اور وہیں پر پناہ گزین فتح اللہ گولن ہے۔

گولن کا نیٹ ورک پاکستان میں بھی پوری طرح فعال ہے، کہا جاتا ہے کہ دورہ پاکستان کے موقع پر طیب اردوان نے اس حوالے سے نواز شریف سے بات کی تو وہ مسکرا کر رہ گئے۔ مطلب یہ تھا کہ جناب ہم جیسوں کی کیا اوقات‘ گولن سسٹم، امریکی سسٹم ہی تو ہے۔ ہاتھ ملنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے، گولن سسٹم کے مراکز لاہور جیسے اہم شہر میں بھی موجود ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر فنڈنگ کون کر رہا ہے ‘کسی سے ڈھکا چھپا ہے کیا‘ اپنی تمام تر قباحتوں اور منفی عزائم کے باوجود یہ ماننا ہو گا کہ فتح اللہ گولن صحیح معنوں میں انٹرنیشنل کھلاڑی ہے۔ انتہائی پڑھا لکھا اور شاطر ‘منفی درجہ بندی میں سہی اسکا ’’مقام‘‘ بہت بلند ہے ایسی ’’نابغہ‘‘ شخصیت کو پاکستان کے ایک یا چند ایک چھچھورے اور بونگے اور گھٹیا درجے کے ایجنٹ رہنماؤں سے تشبیہہ دینا سرا سر زیادتی ہے۔ بک بک جھک جھک گروپ سے تو کوئی توقع نہیں کم از کم پڑھے لکھے لکھاری اور ٹی وی میزبان توجہ فرما لیں۔

ماڈل قندیل بلوچ کا قتل افسوسناک واقعہ ہے خود کو لبرل کہلانے والوں نے اس حوالے سے بھی کئی طرح سے ڈرامہ بازی کرنے کی کوشش کی۔ اپنے ہی گھر کے اندر سگے بھائی کے ہاتھوں مارے جانے والی خاتون کا قتل کسی ملا کے سر تھوپنے کی خواہش مگر دھری رہ گئی۔ این جی اوز کی فنکاریاں دیکھ کر کسی ستم ظریف نے تبصرہ کیا کہ ایک ہی دن (جمعہ کو پیش آنے والے واقعات کے باعث) ترکی میں لبرلز کی نانی اور پاکستان میں باجی گزر گئیں۔ معاملہ مگر انتہائی سنجیدہ ہے۔

قندیل کا قتل غیرت کے نام پر ہوا یا رقم کے تنازع پر (بظاہر تو ایسے آثار نہیں کہ مرحومہ کی ویڈیو وغیرہ دیکھ کر بھائی کی غیرت جاگی ہو) یہ ہر لحاظ سے ریاست اور معاشرے کی ناکامی ہے۔ یہ موقع ہی کیوں آیا کہ قوم کی بیٹی کو اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کیلئے ایسی راہ پر چلنا پڑا ۔ اگر گھر والے مجبور تھے تو کھلے عام ہونے والی حرکات سے روکنا کس کا کام تھا۔ کل کلاں کو کوئی بھی ماڈل شہرت حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کرنے پر تل جائے تو آخر روکنا کس کو ہے۔ اس کا تعین کرنے میں تامل کرنے والے قندیل بلوچ کے بھائی سے بھی کہیں بڑے مجرم ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
'اللعربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے