ترکی میں بھونڈی قسم کی فوجی بغاوت ناکام ہو گئی۔ اس غیر جمہوری تبدیلی کو ترکی کے عوام نے رد کر دیا۔ فوجی بغاوت کرنے والوں کا دعویٰ تھا کہ وہ جمہوری آزادیوں اور سیکولر ازم کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ اس مرتبہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن اپنا اقتدار بحال کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ فوجی بغاوت ترکی میں نظام کے استحکام کے لئے اچھا شگون نہیں ہے۔ علاوہ ازیں داخلی بے سکونی کے علاوہ ترکی کے خارجی حالات دگر گوں ہیں۔ صدر ایردوآن شام کے صدربشار الاسد کو نکالنے کے لئے جن طاقتوں کو پال پوس رہے ہیں وہ ویسی ہی ہیں جیسے جنرل ضیاء الحق نے افغانستان میں مجاہدین کو آگے بڑھایا تھا۔ جس طرح سے پاکستان میں انتہا پسند جہادی کلچر معرض وجود میں آیا تھا اس کی اولین نشانیاں ترکی میں ظاہر ہونا شروع ہو گئی ہیں: ایک سال میں دو بڑے دہشت گرد حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایردوآن کی جہادی پالیسیوں کے منفی نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

ترکی میں صدر ایردوآن کی حکومت کی پاکستان سے کافی مماثلت ہے بلکہ بعض اوقات تو یہ لگتا ہے کہ کافی پہلوئوں سے ترکی میں پاکستانی اسکرپٹ پر کام ہو رہا ہے۔ صدر ایردوآن نہ صرف اپنے مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے میں مصروف ہیں بلکہ ان کے بیٹوں پر ویسے ہی بد عنوانی کے الزامات ہیں جیسے وزیر اعظم کے بچوں پر ہیں۔ صدر ایردوآن نے شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہزار کمروں کا صدارتی محل تعمیر کروایا ہے جس پر کئی سو ملین ڈالر خرچ ہو ئے ہیں اور جس کا سائز امریکہ کے وائٹ ہاؤس سے نو دس گنا سے بھی زیادہ ہے۔ صدر ایردوآن اپنے معترضین کو فوراً جیل بھیج دینے کے لئے تیار رہتے ہیں۔انہوں نے فیس بک اور ٹوئٹر پر پابندیاں عائد کرکے بھی غیر جمہوری رویوں کا ثبوت دیا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان منفی اوصاف کے باوجود عوام نے کیوں ان کا ساتھ دیا اور ان کی حکومت کو بچایا؟

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ترکی نے صدر ایردوآن کے دور میں معاشی طور پر کافی ترقی کی ہے۔ ملک کے اندر بھی سرمایہ دارانہ طاقتوں نے اپنے آپ کو مضبوط کیا ہے اور ترکی میں بیرونی سرمایہ کاری میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں درمیانے طبقے میں خوشحالی کی نئی لہر آئی ہے اورکچھ پہلوئوں سے گورننس کا نظام بھی بہتر ہوا ہے۔ ملک میں معاشی تبدیلیوں کے نتیجے میں ایسے درمیانی طبقات وجود میں آئے ہیں جو جمہوریت اور مذہبی روایت پرستی کے حامی ہیں۔ یہ طبقات ترکی کے روایتی انتہا پسندانہ سیکولرازم کے بھی مخالف ہیں۔ صدر ایردوآن کی اسلام پسندی بھی ان طبقات کی ترجمانی کرتی ہے۔ بعض دانشور صدر ایردوآن کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے مماثل تصور کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ دونوں ملکوں میں معاشی تبدیلیوں کے نتیجے میں مخصوص طرز کی مذہب پرستی کا ابھار آیا ہے جس کی رہنمائی صدر ایردوآن اور نریندر مودی کر رہے ہیں۔

ترکی کے سیاق وسباق میں معتدل قسم کی مذہب پرستی ایک طرح سے جمہوری قدروں کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔ ذہن نشین رہے کہ ترکی میں اس طرح کا سیکولرازم تھا کہ فوجیوں پر نماز جمعہ پڑھنے اور روزہ رکھنے کی ممانعت تھی۔ ترکی کی فوجی چھائونیوں میں کوئی خاتون دوپٹہ یا چادر نہیں اوڑھ سکتی تھیں۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو صدر ایردوآن کی اسلام پسندی مذہبی آزادیوں کا اظہار تھی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام نے فوجی بغاوت کے خلاف صدر ایردوآن کی حمایت کی۔امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک میں صدر ایردوآن کی معتدل اسلام پسندی کو ایک ماڈل کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔ لیکن صدر ایردوآن کی شام میں عسکریت پسندوں کی حمایت سے امریکہ اور مغربی ممالک کافی مایوس ہوئے ہیں۔ ترکی پر ویسے ہی الزامات لگائے جاتے ہیں جیسے پاکستان پر افغان طالبان کو پناہ گاہیں مہیا کرنے کی تہمت لگائی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بہت سے جہادی گروہ ترکی کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور بر ملا علاج معالجے کے لئے آتے جاتے ہیں۔ غرضیکہ امریکہ اور یورپی ممالک سمجھتے ہیں کہ ترکی جہادی کلچر کو پروان چڑھا رہا ہے جس سے شام اور عراق میں داعش اور دوسرے عسکری گروہوں کے خلاف فوجی اقدامات کامیاب نہیں ہوتے۔ترکی پر الزام ہے کہ وہ پاکستان کی طرح دہری پالیسیوں پر گامزن ہے۔ ایک طرف تو وہ عسکریت پسندوں کی حمایت اور اعانت کر رہا ہے اور دوسری طرف نیٹو کا ممبر ہوتے ہوئے اپنے ہوائی اڈے داعش کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دے رہا۔

پاکستان کی طرح ترکی کے بھی اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ اس نے روس کا جہاز گرا کر اسے بھی اپنا مخالف بنا لیا تھا لیکن پچھلے دنوں صدر ایردوآن نے روس سے معافی مانگ لی ۔ بہرحال روس کے ساتھ تعلقات معمول کے نہیں ہیں۔ پاکستان کو بلوچستان میں علیحدگی پسندی کی تحریک کا سامنا ہے تو ترکی کردوں کی آزادی کی تحریک سے نبرد آزما ہے۔ کردوں کے حوالے سے ترکی کا امریکہ کے ساتھ بھی مناقشہ ہے کیوں کہ کرد داعش کے خلاف امریکہ کے قریبی اتحادی ہیں۔ الغرض ترکی کی خارجہ پالیسی پاکستان کی طرح بہت سے مسائل کا شکار ہے۔

صدر ایردوآن بودی قسم کی فوجی بغاوت کو کچلنے میں تو کامیاب ہو گئے ہیں لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ مستقبل میں بھی ترکی کو ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن رکھنے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ فوجی بغاوت کی ناکامی کے بعد صدر ایردوآن کے غیر جمہوری رویوں میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کئی ہزار ججوں کو نوکری سے برخاست کر دیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ فوج اور حکومت کے دوسرے اداروں سے اپنے مخالفین کو نکال باہر کریں گے۔ اس سے ان کے دشمنوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا اور مستقبل میں ترکی کا سیاسی استحکام متاثر ہو گا۔

ہمارا خیال ہے کہ ترکی کے لئے اہم ترین مسئلہ انتہا پسند کلچر کا ہے۔ ابھی تک تو ترکی میں اکا دکا دہشت گرد حملے ہوئے ہیں لیکن اگر صدر ایردوآن نے جنرل ضیاء الحق جیسی پالیسیاں اپنائے رکھیں تو آخر کار ترکی کا بھی وہی حال ہو گا جو چند برس پیشتر پاکستان کا تھا۔ ترکی کو چاہئے کہ وہ پاکستان کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی پالیسیاں ترک کر کے معاشی ترقی کی طرف توجہ دے۔ بشکریہ روزنامہ 'جنگ'
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے