بہت سے عربوں کے لیے یہ کوئی اچنبھے کی بات یا کوئی نیا مظہر نہیں کہ وہ کسی غیرملکی یا علاقائی رہ نما کی مختلف وجوہ کی بنا پر حمایت کرتے ہیں۔یہ خواہ مصر کے مرحوم صدر جمال عبدالناصرہوں ،ایران کے مرحوم آیت اللہ روح اللہ خمینی ،عراق کے مصلوب صدر صدام حسین ہوں یا دوسرے ،وہ ان کے پرجوش مؤید رہے ہیں۔اب ان کی نئی محبت کا محور ترک صدر رجب طیب ایردوآن ہیں۔

وہ عرب جو سوشلسٹ اور پان عرب تھے،انھوں نے جمال عبدالناصر کی حمایت کی تھی۔اسلام پسندوں نے خمینی کی حمایت کی تھی،بعثی اور پان عرب صدام حسین کے مدد گار بنے تھے۔بعض عرب غیرملکی لیڈروں کی حمایت اپنی حکومتوں کے خلاف خاموش احتجاج کے طور پر کرتے ہیں کیونکہ وہ ویسے تو ان حکومتوں کے خلاف بولنے کا حوصلہ نہیں رکھتے ہیں۔

سہانے سپنے دیکھنے والے اور مایوس عرب چالیس سال قبل خمینی کے پیچھے اس وقت کھڑے ہوئے تھے،جب انھوں نے فلسطین کو آزاد کرانے اور مغرب سے محاذ آرائی کا نعرہ بلند کیا تھا۔صدام حسین نے بھی وہی کیا تھا جو اب ایردوآن کررہے ہیں۔یہ عرب غلط طور پر یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ شخصیات ان کی لڑائیاں لڑیں گی۔ان کے لیے کوئی بھی نہیں لڑے گا یا فلسطین کو آزاد کرائے گا۔

رجب طیب ایردوآن شاید شامی شہر حلب کو بھی آزاد نہ کراسکیں۔یہ بات نہیں کہ وہ ایسا نہیں چاہتے ہیں بلکہ اس لیے وہ ایسا نہیں کرسکیں گے کیونکہ لڑائی ان کی صلاحیتوں سے ماورا ہوچکی ہے۔وہ یہ لڑائی اسی وقت لڑیں گے جب ترکی کی قومی سلامتی شدید خطرے میں ہوگی۔

ان میں بعض لیڈر اپنی ہی مقبولیت کا شکار ہوگئے تھے اور وہ اپنے بڑے بڑے وعدوں کو ایفاء کرنے میں ناکام رہے تھے۔مثال کے طور پر جمال عبدالناصر نے عرب نظاموں کو تبدیل کرنے اور فلسطین کو آزاد کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا لیکن انجام کار وہ سب کچھ کھو بیٹھے تھے۔

مسخ شدہ تشخص

جو لوگ ایردوآن کو آئیڈیل بنا رہے ہیں، وہ ان کے لیے ان کے مخالفوں سے زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں۔وہ ایک منتخب صدر ہیں۔انھیں اپنے ملک میں مقبولیت حاصل ہے۔ان کی اقتصادی کامیابیوں میں کوئی شبہ نہیں ہے۔وہ ایک اعتدال پسند اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں اور اس کا ان کے عرب مداحوں کے اسلام سے دانش یا نفاذ کے حوالے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

کیونکہ وہ ان تفصیلات سے آگاہ نہیں ہیں ،اس لیے وہ ایردوآن کی ایک مختلف تصویر تراش رہے ہیں،ایسی تصویر، جو خلیج ،مصر اور اردن کے انتہاپسند شیوخ کے نزدیک تر ہے۔انجام کار وہ صدمے سے دوچار اور مایوس ہوں گے اور پھر کسی اور لیڈر کو آئیڈیل بنانے چل پڑیں گے۔
----------------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے