گائوں میں کسی خاندان کے ساتھ واردات ہو جائے تو موقع غنیمت جان کر سب مخالفین کو لپیٹنے کی کوشش کی جاتی ۔ایف آئی آر درج کرواتے وقت اگلے پچھلے سب حساب کتاب برابر کرنے کے لئے اس شخص کو بھی نامزد کر دیا جاتا ہے جس نے کبھی ادھار نہیں دیا ہوتا۔اگر دشمنی کے کھاتے میں کوئی کسر رہ بھی جائے تو آنکھیں دکھانے والے کسی بھی شریکے کو نامعلوم افراد کی مد میں گرفتار کروایا جا سکتا ہے۔عصر حاضر کے صلاح الدین ایوبی اور امت مسلمہ کے چاکلیٹی ہیرو طیب اردوان بھی فوجی بغاوت ناکام ہونے کے بعداسی روش پرچل پڑے ہیں۔پہلے 90جرنیلوں سمیت 7500فوجیوں کو گرفتار کیا گیا ،اس کے بعد 9000پولیس اہلکاروں کو قربانی کا بکرا بنایا گیا مگر میرا ماتھا تب ٹھنکا جب 1481ججوں سمیت عدلیہ کے 3000آفیسرز کو برطرف کیا گیا۔بھلا عدلیہ کا بغاوت سے کیا تعلق،کیا وہ بھی وردیاں پہن کر بندوقیں تھام کر سڑکوں پہ نکل آئے تھے؟انتقامی کارروائی کا سلسلہ یہیں نہیں رکا بلکہ 15200اساتذہ کی چھٹی کروا دی گئی،نجی تعلیمی اداروں کے 21000اساتذہ کے لائسنس منسوخ کر دیئے گئے اورملک بھر کی یونیورسٹیوں کے 1577ڈینز کو مستعفی ہونے کا الٹی میٹم دیدیا گیا ۔

وزارت خزانہ کے 1500اہم عہدیداروں کو نوکری سے نکال دیا گیا اوروزیراعظم سیکرٹریٹ سمیت مختلف وزارتوں سے 1200سول سرونٹس کی چھٹی کرا دی گئی۔بہت جلد یہ بلی تھیلے سے باہر آگئی کہ اس عمل تطہیر کا مقصد بغاوت کرنے والوں کو عدالت کے کٹہرے میں لانا نہیں تھا بلکہ بدیع الزماں نورسی کی فکر کو آگے بڑھانے والے فتح اللہ گولن کے پیروکاروں کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہے۔طیب اردوان کے قصیدے پڑھنے والے جماعت اسلامی کے کارکنوں نے ایک طرف تو یہ بے پر کی اڑائی کہ ترکی میں سیکولرازم کو منہ کی کھانا پڑی اور اسلام فتح یاب ہوا جبکہ دوسری طرف یہ افواہ پھیلائی کہ اس فوجی بغاوت کے پیچھے امریکہ میں بیٹھے فتح اللہ گولن کا ہاتھ ہے۔ان بیچاروں کواتنا بھی معلوم نہیں کہ اگر واقعی فتح اللہ گولن ہی اس بغاوت کا محرک تھا تو پھر یہ حق اور باطل کی کشمکش نہیں بلکہ اردوان اور گولن کے درمیان اقتدار و اختیار کی جنگ ہے کیونکہ دونوں ہی اسلام پسند ہیں۔فتح اللہ گولن ہی وہ شخص ہے جس نے ترک سیکولر ازم کی کشتی میں پہلا سوراخ کیا اور تعلیمی اداروں کے ذریعے اسلام کی شمع روشن کرنے کی سعی بلیغ کی۔2003ء کے انتخابات میں گولن نے اردوان کا بھرپور ساتھ دیا مگر بعد ازاں اردوان کو یہ خطرہ محسوس ہوا کہ ایک نیام میں دو تلواریں کیسے رہ پائیں گی چنانچہ اس نے متحارب تلوار کو کند کرنے کی ٹھان لی۔یہیں سے دونوں کے راستے الگ ہوئے اور فاصلے بڑھتے چلے گئے۔

اردوان کے اٹھائی گیروں نے یہ گرہ بھی لگائی کہ ترک عوام جمہوریت بچانے کے لئے نہیں نکلے بلکہ انہوں نےعالم اسلام کے سرخیل طیب اردوان کی آواز پر لبیک کہا کیونکہ اس کی شخصیت بے داغ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اردوان کے دور میںترک معیشت نے تیزی سے ترقی کی،لوگوں کے حالات زندگی بہتر ہوئے ،گڈ گورننس متعارف ہوئی مگر جس طرح ہمارے ہاں سیاسی قیادت پر بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات لگتے ہیں ،اس طرح کی ایک طویل چارج شیٹ طیب اردوان کے خلاف بھی ہے۔جس طرح نواز شریف کے طرز حکومت کوسیاسی مخالفین سول آمریت قرار دیتے ہیں اسی طرح اردوان پر بھی سول ڈکٹیٹر کی پھبتی کسی جاتی ہے۔جیسے یہاں اپوزیشن نواز شریف اور ان کے اہلخانہ کے اثاثہ جات کا حساب مانگتی ہے ویسے ہی ترک اپوزیشن لیڈر بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جو شخص کبھی ٹافیاں اور ڈبل روٹی بیچا کرتا تھا اس کی اولاد کے پاس کھربوں روپے کہاں سے آئے؟اردوان پر الزام ہے کہ انہوں نے داعش کو تیل فروخت کر کے ناجائز ذرائع سے دولت کمائی،کچھ عرصہ قبل سونے کا ترک تاجر رضا زراب میامی میں منی لانڈرنگ کے مقدمے میں گرفتار ہوا جس نے انکشاف کیا کہ اردوان نے سونے کے بدلے ایران سے تیل اور گیس کی تجارت کی۔

ترکی میں یہ تاثر ہے کہ ہر بڑے کاروبار میں اردوان کے صاحبزادوں بلال اور احمد اور صاحبزادیوں اسریٰ اور سمیعہ کے شیئرز ہیں۔لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ اردوان کے فرزند احمد کے پاس وہ کونسی گیدڑسنگھی ہے کہ وہ چند ہی برس میں 80ملین ڈالر اثاثہ جات کے مالک بن گئے؟جب 2013ء میںاردوان کابینہ کے تین اہم وزراء کو کرپشن بے نقاب ہونے پر مستعفی ہونا پڑا تو ایک مبینہ آڈیو ٹیپ سامنے آئی جس میں طیب اردوان مبینہ طور پراپنے بیٹے بلال سے پوچھ رہے ہیں کہ رقم کو کہاں ٹھکانے لگایا ہے۔طیب اردوان کے دونوں بھائی حسن اردوان اور مصطفی اردوان کا شمار ملک کی بڑی کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں اس کے جماعتی بہی خواہوں نے نہ صرف یہ مشہور کر دیا کہ اردوان کا بھائی ٹھیلے پر پھل بیچتا ہے بلکہ اس کی من گھڑت تصویر بھی سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ان بیچاروں کو تو شاید یہ بھی معلوم نہ ہو گا کہ چند برس قبل مصطفی اردوان کے مبینہ سیکس اسکینڈل پرمبنی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی اور اردوان کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔کیوں نہ لگے ہاتھوں اردوان کی سادگی کی حقیقت بھی بیان کرتا چلوں ۔

یہاں رائیونڈ محل کی بات ہوتی ہے مگرجماعت اسلامی کے ’’عمر بن عبدالعزیز ثانی‘‘ نے اپنے لئے انقرہ میں پہاڑ کی چوٹی پر 615ملین ڈالر کی لاگت سے ایک پرشکوہ شاہی محل تعمیر کروایا جس میں ایک ہزار کمرے ہیں۔اس کی وسعت کا اندازہ یوں لگائیں کہ یہ امریکہ کے وائٹ ہائوس سے 30گنا بڑا ہے۔اگر چاہیں تو یہاں نیٹو اتحاد میں شامل تمام ممالک کی حکومتوں کے دفاتر قائم کر لیں۔اس قصر شاہی میں صرف قالین بچھانے پر 7.8ملین پائونڈ خرچ ہوئے۔اور اب یہاں ایک جدید مانیٹرنگ روم بن رہا ہے تاکہ ’’اتا ترک ثانی‘‘ سلطنت عثمانیہ کے کھوئے ہوئے کروفر اور طنطنے کے ساتھ 8کروڑ ترک عوام پر کڑی نظر رکھ سکیں اور ان کی مرضی کے بغیر کوئی چڑیا بھی پر نہ مار سکے۔

اقربا پروری کا یہ عالم ہے کہ اپنے داماد Berat Albayrak کو توانائی کا وزیر بنا رکھا ہے اور منصوبے یہ ہیں کہ عبداللہ گل اور دیگر پارٹی قائدین کو دیوار سے لگانے کے بعد داماد جی کو ہی وزیر اعظم بنایا جائے۔ سچ یہ ہے کہ ان تمام تر خرابیوں کے باوجود ترک عوام سڑکوں پر نکلے کیونکہ پے درپے مارشل لاء کے بعد انہیں یہ سمجھ آ گئی ہے کہ ووٹ سے آنے والی تبدیلی ہی دیرپا ہوتی ہے۔یہ بغاوت اس لئے ناکام ہوئی کہ وہاں آمریت کو کندھا دینے کے لئے کوئی مسلم لیگ (ق) ،کوئی متحدہ مجلس عمل دستیاب نہ تھی۔بُلٹ کے مقابلے میں تو اردوان کو کامیابی ملی مگر وہ منتقم مزاجی اور مطلق العنانیت کی جس راہ پر چل نکلا ہے، الٹی گنتی شروع ہو چکی اور بہت جلد ایک اور بغاوت ہوگی، بیلٹ کی بغاوت۔ میں تصویر کا یہ رُخ نہیں دکھانا چاہتا تھا کیونکہ 17جولائی کا سورج دنیا بھر کے جمہوریت پسندوں کے لئے ایک صبح خوش جمال کا پیام لے کر طلوع ہوا مگر ہمارے ہاں پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ بننے والوں نے داد وستد کے ڈونگرے برسا کریہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ،ارے بھائی او بھائی،اتنی نہ بڑھاپا کی داماں کی حکایت۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’العربیہ‘‘ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے