وہ جماعتیں یا فریق جو میڈیا پروپیگنڈے کا بڑا میکانزم رکھتے ہیں مثلا خمینی کا ایران اور الاخوان المسلمین جماعت، ان کے درمیان بہت سے رجحانات اور تدابیر مشترک ہوتے ہیں۔ آج میں اس کی مثال پیش کروں گا۔

اس سلسلے میں نمایاں مثال جو سامنے آتی ہے وہ ہے "فوبیا" کے خیال کے ساتھ ڈرانا یعنی کہ تنقید کرنے والے کا نفسیاتی اور عوامی طور پر حصار کر لینا اور ایسی تصویر پیش کرنا کہ وہ نفسیاتی طور پر وہم کا شکار ہے۔ اس وہم کی بنیاد یا تو دشمن کی مبالغہ آمیز حد تک مرض کی صورت ہوتی ہے اور یا پھر "فوبیا" میں مبتلا فریق اس کے ذریعے ان خامیوں سے لوگوں کی نظریں ہٹانا چاہتا ہے جس کا وہ شکار ہوتا ہے۔ ہماری مثال میں مریضوں کو ایران یا الاخوان سے خوف ہے یعنی "ایران فوبیا" اور "الاخوان فوبیا"۔

سائنسی تعریفوں کے مطابق "فوبیا" ایسی مبالغہ آمیز "دہشت" یا خوف ہے جو کبھی کبھار وہم کی حد تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان میں انفرادی خوف بھی ہو سکتا ہے مثلا بند یا تاریک جگہاؤں، سمندر یا لفٹ سے خوف اور یہ رنگ، مذہب اور نسل کے لحاظ سے مختلف نوعیت کا اجتماعی خوف بھی ہوسکتا ہے۔ انفرادی فوبیا کی صورت میں نفسیاتی علاج کے ذریعے مداخلت کی جاتی ہے۔ یہ لفظ اصل میں یونانی زبان کا ہے تاہم بعد میں انگریزی میں بھی آ گیا اور پھر دنیا بھر میں عام ہو گیا۔

نام نہاد "بہار عرب" سے پہلے بعض بائیں بازو کے عرب دانش وروں اور ایران کے بعض حامیوں کی جانب سے بھی ہر اس شخص کی زجر وتوبیخ کی گئی جو الاخوان جماعت کے خطرے، عالمی کنٹرول کے حوالے سے ان کے دور دراز ہدف تک پہنچنے کی قدرت اور جمہوریت کے ذریعے ایمان کے دعوے میں جھوٹ سے خبردار کررہا تھا۔

ان معترض دانش وروں بلکہ امریکی جمہوریت کی طرز پر خواب کی تشہیر کرنے والے بعض عناصر مثلا ڈاکٹر سعد الدین ابراہیم وغیرہ کی جانب سے کہا جا رہا تھا کہ الاخوان سے ڈرایا جانا محض ایک "ہوّا" ہے جس کے ذریعے عام لوگوں، مغربی دنیا اور شہری حقوق کے محافظین میں افراتفری اور اضطراب کو پیدا کیا جارہا ہے۔

بعد ازاں ظاہر ہو گیا کہ یہ لوگ خود کو دھوکہ دے رہے تھے بلکہ ان میں سے بعض نے تو اعتراف بھی کیا کہ وہ اپنی باتوں میں سادہ لوح تھے۔ یہ سب کچھ الاخوان کی جانب سے اپوزیشن کا ماسک اتار دینے اور پوری آب و تاب کے ساتھ "خلافت" کے حامیوں کے ظاہر ہونے کے بعد ہوا۔

الاخوان کی طرح اب خمینی ایرانی پروپیگنڈے میں بھی اسی طرح کیا گیا۔ اپنے مخاصمین کو نفسیاتی مریض کے خانے میں رکھ کر انہیں "فوبیا" کا شکار قرار دیا گیا۔ مثلا ایران کے اخبار "کیہان" کا یہ عنوان" ان وجوہات کی بنا پر سعودی عرب، ایران کے فوبیا میں مبتلا ہے"۔ اس مضمون کو فاطمہ سلامہ نامی خاتون نے تحریر کیا۔

یہ ایک حیلہ ہے جس کا مقصد اپنے پروپیگنڈے اور توسیع کے واسطے موجودہ زمینی پالیسیوں پر ہونے والی تنقید پر روک لگانا ہے۔ عقل اور نفسیاتی صحت وہ قیمتی ترین متاع ہے جس کی ایک انسان حفاظت کرتا ہے۔ اسی واسطے اس بیش قیمت متاع کو ہی نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ تنقید اور مقابلے کو جاری رکھنے والوں کو باز رکھا جائے۔ کیا کوئی ایسا "عاقل" انسان ہے جو اس بات پر راضی ہو کہ اسے جنون اور وہم سے متصف کیا جائے ؟ !

یہ حیلہ ختم نہیں ہوتا، ہمیشہ استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ کو اب بھی اس کے حامی بدستور ملیں گے۔ بشکریہ روزنامہ "الشرق الاوسط"

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے