جن لوگوں نے ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے تجزیے اور اس کے بارے میں کوئی مؤقف اختیار کرنے میں عجلت سے کام لیا ہے،ان کے لیے اب دوسرا موقع ہے کہ وہ صورت حال پر نظرثانی کریں۔یہ فوج نہیں تھی جس نے ملک کے جائز اور منتخب صدر رجب طیب ایردوآن کے خلاف بغاوت برپا کی اور نہ ہی یہ سیکولر حزب اختلاف تھی۔ حکومت کا تختہ الٹنے کی یہ سازش فتح اللہ گولن کی اسلامی تحریک نے برپا کی تھی۔صدر ایردوآن نے اس کو ''متوازی ڈھانچے'' کا نام دیا ہے اور اس پر اقتدار پر قبضے کا الزام عاید کیا ہے۔ یہ گروپ اپنی ہیئت ترکیبی ،پیغام اور تنظیمی ڈھانچے میں اخوان المسلمون سے مشابہ ہے۔یہ اور بات ہے کہ اس کا اس کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔

ترکی میں اس وقت سیکڑوں تفتیش کار اور سکیورٹی افسر اس گروپ کا پیچھا کررہے ہیں۔اس کو ترکی اور وسط ایشیا میں سب سے بڑی منظم اسلامی تحریک خیال کیا جاتا ہے۔اس کے لیڈر شیخ فتح اللہ گولن پر فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے کا الزام ہے۔ایردوآن حکومت نے امریکی حکومت سے گولن کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

گذشتہ چند روز کے دوران رونما ہونے والے پے درپے حیران کن واقعات کے بعد میں نے دیکھا ہے کہ اخوان المسلمون کے ارکان اور سیاسی اسلام کے ہمدردان یہ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں کہ آخر ترکی میں ہوا کیا ہے؟

جس کسی نے بھی ایردوآن سے بے وفائی کی ہے اور ایک جائز حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی ہے،وہ اس اسلامی سیاسی گروپ سے تعلق رکھتا ہے اور اس گروپ نے حکومت میں خدمات انجام دینے والے اپنے خفیہ اراکین، افسروں اور ملازمین حتیٰ کہ وزیراعظم کے دفتر کے ملازمین کو استعمال کیا ہے۔اس نے حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے ایک خفیہ تنظیم پر انحصار کیا تھا جس میں جج صاحبان اور اساتذہ شامل تھے۔

ناکام فوجی بغاوت کی تفتیش کرنے والے سکیورٹی تحقیقات کار دفاتر میں ہتھیاروں کی تلاش میں ہیں اور نہ وہ مشتبہ افراد کے گھروں کی تلاشی لے رہے ہیں بلکہ وہ مذہبی کتب اور ان مطبوعات کی تلاش میں ہیں جن کا اس گروپ سے تعلق ہے تاکہ ان افراد کا اسلامی گروپ سے تعلق ثابت کیا جاسکے۔تفتیش کار ان کے گروپ سے تعلق کے بارے میں ہی سوالات پوچھ رہے ہیں۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولیہ کے مطابق ان کے قبضے سے گروپ کی مذہبی کتب برآمد ہوئی ہیں۔ایجنسی نے ایک مشتبہ شخص کا حوالہ دیا ہے، جوسقاریہ یونیورسٹی میں اسسٹینٹ پروفیسر تھا اور اس کے دفتر سے فتح اللہ گولن کی کتاب ''امرالڈ ہلز آف دا ہارٹ''( دل کی سرسبزوشاداب پہاڑیاں) برآمد ہوئی تھی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ معطل،گرفتار یا برطرف ہونے والوں میں اکثریت فوجیوں کی نہیں بلکہ ان کا تعلق عدلیہ یا یونیورسٹی پروفیسروں اور اساتذہ سے ہے۔ترکی میں قریباً تیس ہزار سرکاری ملازمین کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ صرف نو ہزار فوجی پکڑے گئے ہیں۔یہ بھاری اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ صرف فوج کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے بلکہ اس کے بجائے گولن تحریک ہی کو مورد الزام ٹھہرایا جانا چاہیے۔

جو فوجی حکومت کا تختہ الٹنے کی اس سازش میں ملوّث تھے،وہ گولن گروپ کے ارکان ہیں۔ان میں ڈپٹی چیف آف اسٹاف لیوانٹ ترکن نمایاں ہیں۔انھوں نے گذشتہ کئی برسوں سے تحریک کا رکن ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

فوج میں دراندازی

گولن گروپ ترکی کی ایک انتہائی منظم تحریک ہے۔یہ عرب ریاستوں میں موجود اخوان المسلمون کی طرح ہے۔یہ سماجی ،تعلیمی اور بنک کاری کی سرگرمیوں کے ذریعے متوازی ریاستی ڈھانچے کو تشکیل دیتی ہے تاکہ کمیونٹیوں کی بنیادی سطح یعنی جڑ تک پہنچا جاسکے اور انھیں کنٹرول کیا جاسکے۔

گولن کے حامی بھی اس وقت اخوان المسلمون کی طرح ''پرہیزگار'' بن جاتے ہیں جب ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاتی ہے اور تبدیلی کے لیے خفیہ طور پر کام کرتے ہیں۔تاہم وہ کھلے عام کسی سازشی پلاٹ سے انکاری ہیں۔

ترک حکام کو ایک عرصے سے اس گروپ کے ارادوں کے بارے میں شکوک تھے۔انھوں نے پندرہ سال قبل فتح اللہ گولن کو ترکی سے باہر بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس کا ایک ثبوت یوٹیوب پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو ہے جس میں انھیں یہ اعتراف کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ وہ ترکی کے سیکولر نظام کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ترکی کے سابق صدر بلند ایجوت نے انھیں سازش کے الزامات پر جیل جانے سے بچانے کی کوشش کی تھی اور انھیں کہا تھا کہ وہ ملک سے باہر چلے جائیں۔چنانچہ وہ امریکا چلے گئے جہاں وہ اس وقت ریاست پنسلوینیا میں رہ رہے ہیں۔

فتح اللہ گولن نے بھی خود کو بعض ان متعصب مبلغین کی طرح معجزات پیش کرنے والے کے طور پر پیش کیا ہے،جن کا یہ دعویٰ ہے کہ فرشتے ان سے گفتگو کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے قرآن مجید صرف چار سال کی عمر میں حفظ کر لیا تھا۔ان کی والدہ انھیں آدھی رات کے وقت قرآن مجید حفظ کرنے کے لیے جگا دیا کرتی تھیں۔گولن اپنے منصوبے سے وفادار تھے۔انھوں نے پورے اناطولیہ میں چالیس سال تک مساجد میں ایک وکیل کے طور پر کام کیا۔انھوں نے ترکی میں سیکڑوں مذہبی اسکولوں کا ایک نظم قائم کیا اور اپنی تعلیمی اور خیراتی سرگرمیوں کا دائرہ کار سوویت یونین کے انہدام کے بعد آز ہونے والی وسط ایشیا کی ریاستوں تک بھی پھیلا دیا تھا۔

انھوں نے قازقستان کی حکومت کے ساتھ ایک بحران کھڑا کردیا تھا اوراس حکومت نے ان پر سازشوں کے تانے بانے بننے کے الزامات عاید کیے تھے۔گولن نے ترکی میں نام نہاد ''متوازی ڈھانچا'' تشکیل دیا تھا جو خیراتی اداروں ،بڑے مالیاتی اداروں ،ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشنوں اور اخبارات پر مشتمل ہے۔

انھوں نے اس حد تک وسیع تر اثرورسوخ حاصل کیا تھا کہ انھوں نے عدل اور ترقی پارٹی (آق) کی حمایت کی تھی اور ان کی حمایت کی بدولت ہی رجب طیب ایردوآن بمشکل تمام انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔تاہم ان دونوں شخصیات میں بعد میں شکررنجیاں پیدا ہوگئی تھیں اور انھوں نے تین سال قبل اپنے راستے جدا کر لیے تھے۔

فتح اللہ گولن ترک معاشرے میں تبدیلیاں رو بہ عمل لانے اور اپنے حامیوں کی بڑی تعداد پیدا کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔انھوں نے 1980ء کے عشرے کے بعد ترکی میں آزادیوں اور معاشی کھلے پن کی پالیسیوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔

حرفِ آخر یہ کہ صدر طیب ایردوآن انھیں اچھی طرح جانتے ہیں۔وہ جب گولن کے خفیہ گروپ سے متعلق اپنی اس تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ فوج میں دراندازی میں کامیاب رہا ہے تو وہ بالکل درست کہہ رہے ہوتے ہیں حالانکہ فوج ترکی میں سب سے قلعہ بند مضبوط ادارہ ہے۔

--------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔ ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے