دور حاضر کی اسلامی تحریکوں کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ شاید یہ ہے کہ ان کی تمام تر جدوجہد کا محور اقتدار و اختیار کا حصول ہوتا ہے۔علم السیاسیات میں سیاسی جماعت کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ وہ اپنے مقاصد اور منشور کے نفاذ کی غرض سے اقتدار تک رسائی کی جدوجہد کرتی ہے۔اسلامی تحریکیں بھی عام سیاسی جماعتوں کی ڈگر پر چل نکلتی ہیں۔عوام کی اخلاقی ،ذہنی اورسیاسی تربیت پر وہ کوئی زیادہ توجہ نہیں دیتی ہیں اور محض چند ایک جذباتی نعروں کے ذریعے اپنے حامیوں ،ووٹروں اور مؤیدین کو لبھانے کی کوشش کرتی ہیں۔

دور حاضر میں ریاست کا نظم ونسق کیسے چلایا جائے گا،ریاستی ڈھانچا کیا ہوگا،بین الممالک تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی؟اس سے انھیں کوئی زیادہ سروکار نہیں ہوتا اور نہ اس مقصد کے ان کے پاس رجال کار دستیاب ہوتے ہیں کیونکہ وہ مروجہ نظام اور ریاستی ڈھانچے ہی کو برقرار رکھنے میں یقین رکھتی ہیں اور صرف چہروں اور شخصیات کی تبدیلی ہی ان کا مطمح نظر ہوتا ہے۔نتیجہ یہ کہ انھیں انتخابی سیاست میں منھ کی کھانا پڑتی ہے۔انقلاب کی غوغا آرائی کرنے والی مذہبی یا سیاسی جماعتیں ''شارٹ کٹ''استعمال کرتی ہیں،عدلیہ ،فوج ،پولیس ،تعلیم ایسے اداروں میں اپنے ہم نواؤں کو بھرتی ہیں یا انھیں تبلیغ وترغیب کے ذریعے اپنا ہم نوا بناتی ہیں اور یوں اپنے ''رجل رشیدوں''کا جال بچھاتی ہیں،انقلاب کے نام پر برسراقتدار ٹولے کو ہٹا کر اپنی شخصیات کو آگے لانے کی کوشش کرتی ہیں۔اگر یہ کوشش کامیاب رہے تو ان کا ''انقلاب برپا ہوجاتا ہے اور اگر ناکام ہوجائے تو فوجی بغاوت بن جاتی ہے اور پھر ان کا وہی حشر ہوتا ہے جو ترکی میں گولن تحریک کا ہوا ہے۔

ترکی میں 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد اب تطہیر کا عمل جاری ہے اور اس کا ہدف کا فتح اللہ گولن کے ہزاروں حامی اور مؤیدین ہیں۔صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت فوج ،پولیس ،عدلیہ ،تعلیم اور دوسرے سرکاری اداروں میں ''متوازی ڈھانچے'' سے تعلق رکھنے والوں کو فارغ خطی دے رہی ہے۔انھیں معطل یا گرفتار کیا جارہا ہے ،تفتیش وتحقیق کے عمل سے گزارا جارہا ہے اور پھر انھیں پس دیوار زنداں کردیا جائے گا اور اگر حکومت پھانسی کی سزا بحال کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو پھر بہت سوں کو تختہ دار پر لٹکانے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔

علامہ فتح اللہ گولن کی تحریک کا طریق کار بہت حد تک اخوان المسلمون اور دوسری معاصر اسلامی تحریکوں سے مشابہ رہا ہے۔انہی تحریکوں میں ایک حزب التحریر بھی ہے جو تمام اسلامی دنیا میں خلافت الٰہیہ کے قیام کے لیے گذشتہ کئی عشروں سے پُراسرار انداز میں جدوجہد کررہی ہے۔کئی مسلم اور مغربی ملکوں میں اس پر پابندی عاید ہے اور اس کو دہشت گرد گروپ قرار دے کر کالعدم قرار دیا جاچکا ہے۔گولن تحریک گذشتہ برسوں کے دوران ترکی کی ہئیت حاکمہ اور ریاستی اداروں میں اپنا ''متوازی ڈھانچا''قائم کرنے میں کامیاب رہی ہے اور اسی کے ذریعے اس نے مبینہ طور پر اقتدار پر قبضے کے لیے فوجی بغاوت برپا کی تھی مگر وہ جدید جمہوری سیاست کی حرکیات کا درست اندازہ نہیں کرسکی ہے۔اس میں عوام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔یوں اس کے تربیت یافتہ کارپردازوں کو ناکام فوجی بغاوت پر سخت ہزیمت اٹھانا پڑی ہے۔انھیں مُنھ کی کھانا پڑی ہے۔ان کی تدبیر الٹ ہوچکی اور اب ترکی سے ان کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مکو ٹھپّا جارہا ہے۔نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔

بہرکیف!اس موضوع پرسنجیدہ تحقیقی مطالعے کی ضرورت ہے اور اس مطالعے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ایسی اسلامی تحریکیں استعمار کی بالواسطہ یا بلاوسطہ ،شعوری یا غیر شعوری طور پر آلہ کار کیوں بن جاتی ہیں اور انھیں استعمال کے بعد (اور ان کی ناکامی کی صورت میں بھی) ٹشو پییر کی طرح کوڑے دان میں کیوں پھینک دیا جاتا ہے؟

پس تحریر: حزب التحریر اور گولن تحریک کے مالی ذرائع بہت ہی پُراسراررہے ہیں۔کوئی نہیں جانتا ،ان ایسے گروپوں کو دنیا بھر میں لوگوں کو منظم کرنے اور ان میں بیش قیمت لٹریچر تقسیم کرنے کے لیے رقوم کہاں سے ملتی ہیں یا مل رہی ہیں؟علامہ فتح اللہ گولن امریکی ریاست پنسلوینیا میں جس طرح کی عیش پسند زندگی گزار رہے ہیں،اس سے ان کے بارے میں شکوک کو اور بھی تقویت ملتی ہے۔ان کی مغربی تصورات کے عین مطابق اسلام کی تعبیر وتشریح کے بارے میں پہلے ہی بحث جاری ہے۔

---------------------------
(العربیہ ڈاٹ نیٹ کا لکھاری کے نقطہ نظر سے متفق ہونا بالکل بھی ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے