گذشتہ دس روز کے دوران بڑے بڑے واقعات رونما ہوئے ہیں۔فرانس میں قومی دن کے موقع پر دہشت گردی کا حملہ ہوا۔ترکی میں ناکام فوجی بغاوت برپا ہوئی۔ڈونلڈ ٹرمپ سرکاری طور پر ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ٹھہرے ہیں اور پاکستان میں غیرت کے نام پر ریالٹی اسٹار قندیل بلوچ کو قتل کردیا گیا۔

یہ بات شاید قابل فہم ہو کہ ہم سے بہت سوں نے ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کی حالیہ رپورٹ سے صرف نظر کیا ہے۔اس میں سعودی عرب میں عورتوں پر مردوں کی بالادستی اور سرپرستی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔مرد سرپرستی کی ایک عام تعریف یہ کی جاسکتی ہے کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں عورتوں کو اپنے خاوندوں یا دوسرے مرد رشتے داروں سے سفر ،کام یا گھر سے باہر دوسری مختلف سرگرمیاں انجام دینے کے لیے اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔

مذکورہ بالا بحرانوں سے قطع نظر مردوں کی سرپرستی کے ایشو کے حوالے سے اچھی خبر یہ ہوسکتی ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے فی الواقع کچھ ہو رہا ہے۔ میں بڑے اعتماد کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کیونکہ میں یہ حقیقت جانتا ہوں کہ اس کا تعلق ازکارِرفتہ رسوم و روایات سے ہے۔

درحقیقت ہم قبائلی دور میں زندگیاں نہیں گزار رہے ہیں جب لوگوں ایک دوسرے کو مفتوح بناتے تھے اور عورتوں کو لونڈیاں بننے اور کسی قسم کے نقصان سے بچنے کی ضرورت ہوتی تھی۔لیکن اب ایسا نہیں ہے اور بیشتر لوگ اس نقطہ نظر کے حامل ہیں کہ مردوں کی سرپرستی کا مروجہ موجودہ عمل بالکل غیرمنطقی ہے کیونکہ اس کے تحت ایک نابالغ بچہ بھی اپنی والدہ کو آزادانہ سفر کی اجازت دینے کے حق کا حامل ہوسکتا ہے۔اس لیے اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

اب معاملات کے سدھار پر توجہ دینے کے بجائے بہت سے لوگ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ ''نامہ بر ہی کو گولی'' مار دی جائے۔وہ یہ دلیل دے رہے ہیں کہ ایچ آر ڈبلیو ایک غیرملکی حکومت کی ایجنٹ ہے ،اس کا کوئی خفیہ ایجنڈا ہے یا سعودی مملکت کے دشمنوں نے اس کو یہ رپورٹ جاری کرنے کے لیے رقوم دی ہیں۔

اب شاید یہ الزامات درست ثابت نہ ہوسکیں اور ایسا ہوگا بھی نہیں لیکن حقیقت یہ ہےکہ رپورٹ کے بیشتر مندرجات درست ہیں۔اگر رپورٹ میں کچھ سقم ہیں اور کوئی بات نادرست ہے تو سرکاری ادارے اور چینلز اس کو درست کروا سکتے ہیں۔اگر ضروری ہوتو وہ غلطیوں کی نشان دہی کرکے ان کو درست کرنے کا کہہ سکتے ہیں۔

سعودی عرب کے متعلقہ اداروں کے لیے یہ زیادہ اہم ہے کہ وہ اپنے اصلاحات کے پروگرام پر زیادہ توجہ مرکوز کریں،اس کو تیز کرنے کے لیے کوششیں کریں۔اسی طرح انسانی حقوق کی تنظیموں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سعودی عرب نے غلامی کے خاتمے اور خواتین کی تعلیم کے لیے اصلاحات پر عمل درآمد کا آغاز ایچ آرڈبلیو کے قیام سے بھی قبل کیا تھا۔یہ تنظیم تو 1978ء میں قائم ہوئی تھی۔اصلاحات کا یہ عمل رکے گا نہیں خواہ نیویارک سے تعلق رکھنے والی یہ تنظیم اپنا وجود برقرار رکھتی ہے یا ختم ہوجاتی ہے۔

شاہی فرمان کے مطابق سعودی عرب کی شوریٰ کونسل کی ایک تہائی ارکان خواتین ہونی چاہییں۔مزید برآں سعودی عرب کی تاریخ میں خواتین کی افرادی قوت کا حصہ بننے ،بیرون ملک تعلیم اور زندگی کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے کے لیے اتنی حوصلہ افزائی پہلے کبھی نہیں کی گئی ہے،جتنی اب کی جارہی ہے۔

تاہم صورت حال ابھی آئیڈیل نہیں ہے،اس سے کوسوں دور ہے اور یہ بات سعودی حکومت میں موجود لوگ بھی کہیں گے۔مردوں کی سرپرستی کے علاوہ سعودی عرب شاید واحد ملک رہ گیا ہے جہاں خواتین کے کاریں چلانے پر پابندی ہے۔یہ ایک اور مظہریت ہے اور اس کا بھی حل تلاش کیا جانا چاہیے کیونکہ اس پابندی کی کوئی مذہبی یا قانونی بنیاد نہیں ہے۔

بعض سعودی خواتین کارکنان شاید یہ ٹویٹ کریں کہ وہ مردوں کی سرپرستی کے حق میں ہیں اور ان کی یہ دلیل ہو کہ اس نظام کے تحت درحقیقت اپنا تحفظ کرسکتی ہیں۔میں اس دلیل سے متفق نہیں ہوں اور نہ آپ کو ہونا چاہیے کہ وہ سعودی مملکت کی تمام خواتین کی جانب سے بول رہی ہیں۔(اس صورت حال کے بیانیے کے لیے میں یہ تجویز کروں گا کہ ٹائم میگزین کے حالیہ شمارے میں جیسمین بیگر کا مضمون پڑھیے۔اس کا عنوان :'' میں ایک سعودی عورت ہوں ،جس کا ایک مرد سرپرست ہے اور وہ میرا بہت بڑا حامی ہے''۔)

اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ امر بھی افسوسناک ہے کہ بعض سعودی خواتین،جنھیں وظائف دے کر بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجا گیا تھا اور انھیں مثبت تبدیلی کے لیے مدد مہیا کی گئی تھی ،وہ صورت حال سے متعلق فعال انداز میں سازشوں کے تانے بانے بُن رہی ہیں۔

ہمیں اس حقیقت سے بھی منھ نہیں چُرانا چاہیے کہ سعودی خواتین کے لیے روزمرہ کی زندگی پہلے ہی بہت زیادہ کٹھن ہے۔یہ کہنا مبالغہ نہیں ہو گا کہ مقامی میڈیا جان بوجھ کر خواتین کے حقوق سے متعلق ایشوز کو رپورٹ نہیں کرتا ہے۔

درحقیقت بہت سے میڈیا ذرائع (خواہ وہ عربی ہوں یا انگریزی) پر بہت سے مذہبی قدامت پسندوں کا یہ الزام ہے کہ وہ حد سے زیادہ لبرل ہیں۔وہ مغربی اقدار کو فروغ دے رہے ہیں۔ان کے قریباً اس متفقہ مؤقف کی وجہ سے خواتین سے متعلق ایشوز کی رپورٹنگ کے حوالے سے امتیاز برتا جاتا ہے۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سعودی عرب میں صرف خواتین ہی کو چیلنجز درپیش نہیں ہیں۔مثال کے طور پر ترقی اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جب تارکین وطن کے معیار زندگی اور ان کے کام کی صورت حال کو بہتر بنایا جائے۔اقلیتوں اور اظہار رائے کی آزادی سے متعلق ایشوز کو بہتر بنایا جائے۔

اور پھر بہت سے ایسے سعودی موجود ہیں جو کسی اور کو دیکھنا نہیں چاہتے ہیں۔جی ہاں ہم میں الٹرا قدامت پرست موجود ہیں۔وہ خواتین کو دبائے رکھنے ہی کے حق میں ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے مرد حضرات بھی موجود ہیں جو کھلے عام یہ کہتے ہیں کہ وہ خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کے حق میں ہیں اور بالغ خواتین پر مرد سرپرستی کی کسی بھی شکل کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

حرفِ آخر یہ کہ ہیومن رائٹس واچ کی حالیہ رپورٹ کے کچھ حصے ایسے ہیں جن پر سنجیدہ غور وفکر کی ضرورت ہے۔تاہم اگر انسانی حقوق کے علمبردار گروپ یہ چاہتے ہیں کہ انھیں سنجیدگی سے لیا جائے اور وہ ان ایشوز کو طے کرنا چاہتے ہیں جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ان کا فی الحقیقت کوئی دیرپا حل چاہتے ہیںتو پھر انھیں گمراہ کن عمومیت کی جانب لے جانے والے اپنے کام کو بہتر بنانے کے لیے زیادہ توانائیاں اور سرمایہ صرف کرنا چاہیے۔

ایسی رپورٹس میں ایک ایشو جس کے بارے میں احتیاط نہیں برتی جاتی ہے،وہ یہ مفروضہ ہے کہ تمام سعودی خواتین ہی مصائب کا شکار ہیں اور یا تمام سعودی مرد سرپرستی کے نظام سے متفق ہیں۔ یہ دونوں مفروضے ہی درست نہیں ہیں۔

اس کو اگر درست سیاق وسباق میں سمجھانے کی کوشش کی جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر آپ کا تعلق امریکا سے ہے تو آپ کیسا محسوس کریں گے اگر ہم یہ فرض کریں کہ تمام امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے خواتین کے بارے میں نقطہ نظر سے متفق ہیں۔وہ مسلمانوں اور میکسیکن کے امریکا میں داخلے پر پابندی سے بھی متفق ہیں یا ان کے بارے میں تنقیدی انداز میں رپورٹ کرنے والے میڈیا کے پریس ایکریڈیٹیشن کی منسوخی سے متعلق ان کے نقطہ نظر کے حامی ہیں؟
---------------------------------

(فیصل جے عباس العربیہ انگریزی کے ایڈیٹر انچیف ہیں،ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے