شہر کی صورت، اس کے باسیوں کا برتاؤ، ان کے الفاظ یہاں تک کہ حقائق کے ساتھ ان کی معاملہ بندی ، شہر کی سڑکیں اور پارک ، گاڑیوں کے چلانے کا انداز ، قطار کا احترام اور مقامی لوگوں کا اجنبی افراد کے ساتھ معاملہ.. یہ تمام امور آپ جس شہر میں داخل ہوئے ہیں اس کو اور اس کی تہذیب کو اختصار کے ساتھ آپ کے سامنے بیان کردیں گے !

شہر انسانی برتاؤ کو شائستہ بناتے ہیں اور اسی طرح ہونا بھی چاہیے۔ تمدّن ایک علم اور برتاؤ کی سطح ہے تاہم دنیا کے بہت سے شہروں میں یہ ابھی تک پروان نہیں چڑھا۔ اس لیے کہ عمارتوں کے حامل شہروں اور مقاصد کے حامل شہروں میں بے پایاں فرق ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ تمدّن کئی صدیوں سے ہمارے مسلمان علماء کا دلچسپی کا مرکز رہا ہے۔ الفارابی (874-950) نے "سِول سائنس" کی تفصیلات بیان کرنے کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھائی۔

اس بڑے فلسفی کا کہنا ہے کہ " جہاں تک سول سائنس کا تعلق ہے تو یہ وہ علم ہے جو افعال اور انتظامی اطوار کے تنوع اور اُن اخلاق اور خصوصیات کی جانچ کرتا ہے جن پر افعال اور اطوار کی بنیاد ہوتی ہے.. اور ان افعال اور اطوار کو انسان میں کس طرح موجود ہونا چاہیے جو شہروں اور قوموں کے درمیان مشترکہ طور پر تقسیم ہیں"۔

تمدّن شائستگی بھی ہے اور اس کے ساتھ یہ بہتری کی جانب تبدیلی اور افراد کے گروہوں کے درمیان تعاون کے لیے سماج کی آرزو ہے جو زمین پر سب کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ یہ جان لوک (1632- 1704) کا بھی ویژن ہے جس کے نزدیک متعدد افراد کا مخصوص نوعیت کی آزادیوں سے دست بردار ہونا ، ایک ایسا حقیقی منظرنامہ تیار کرنے کی بنیاد ہے جس سے افراد کے بڑے مجموعے استفادہ کرتے ہیں۔

سب سے بڑی آرزو یہ ہے کہ لوگوں کی تہذیب شہر کے قابل ہو! بشکریہ روزنامہ 'عکاظ'
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے