امریکی صدارتی انتخابات کے ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے تجزیہ کاروں اور تبصرہ نگاروں کو چکرا کر رکھ دیا ہے جن کی ٹرمپ کے بارے میں اکثر توقعات پوری نہ ہوئیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ٹرمپ اپنے 17 ریپبلکن حریفوں کے ساتھ دوڑ سے جلد ہی خارج ہوجائیں گے تاہم انہوں نے ہونٹوں پر منہ چڑاتی مسکراہٹ کے ساتھ یکے بعد دیگرے سب کو اس دوڑ سے باہر کردیا۔ کہا گیا تھا کہ انہوں نے امریکا میں مسلمانوں کو داخل ہونے سے منع کرنے کے متعلق بیان دے کر اپنے ہاتھوں سے خود کے لیے قبر کھود لی ہے تاہم اس کے بعد ان کی مقبولیت میں اور اضافہ ہوگیا۔ انہوں نے عورت کے حق میں نامناسب عبارتوں کا استعمال کیا تاہم ان کی خواتین پرستار بڑھ گئیں۔

عام طور پر امیدوار کی غلطی ایسے چھرے میں تبدیل ہو جاتی ہے جس سے وہ اپنی قسمت کا گلا خود کاٹ دیتا ہے۔ گزشتہ صدارتی انتخابات میں ریپبلکن امیدوار میٹ رومنی کے ساتھ بھی اسی طرح ہوا تھا۔ انہوں نے ایک نجی محفل میں یہ بیان دے ڈالا کہ 47% امریکی سُست ہیں.. اس طرح صدارت کی کرسی ایک بار پھر اوباما کو تحفے میں پیش کردی۔ ٹرمپ کے ساتھ اس قاعدے کا برعکس معاملہ ہوا ہے۔ جتنا ان کی بھول چوک اور چیخ و پکار میں اضافہ ہوا، اتنا ہی زیادہ اُن کا ستارہ چمکا اور ان کے حامیوں میں اضافہ ہوا۔

متضاد بیانات اور ٹوئیٹس کے کے نتیجے میں یہ جاننا دشوار ہوگیا کہ ٹرمپ درحقیقت ہیں کون.. وہ قدامت پسند ہیں یا آزاد خیال؟ نسل پرست ہیں یا محض انتخابی غرض سے نسل پرستی کا استعمال کرتے ہیں؟ وہ غیرمعمولی ہیں یا ایک کامیاب شخص جس کی دولت اربوں تک پہنچ گئی؟

حقیقت میں ایسا نظر آتا ہے کہ ٹرمپ کے اندر ایک نہیں تین شخصیات ہیں۔ اس بات کو ان کے متعدد قریبی دوستوں نے بھی اٹھایا ہے جن کا کہنا ہے کہ کیمرے کے سامنے والے ٹرمپ اور اس کے پیچھے موجود ٹرمپ مکمل طور پر مختلف ہے گویا کہ وہ دو مختلف افراد ہیں۔

ٹرمپ کی پہلی شخصیت وہ ہے جو ہمیں اسکرین پر نظر آتی ہے۔ ایک معاند اور بے ہودہ قسم کی شخصیت جو دوسروں کی طبیعت اور شکل وصورت کے حوالے سے سب و شتم اور استہزاء سے ہر گز نہیں ہچکچاتی۔ ٹرمپ نے اپنے حریف ٹیڈ کروز کو جھوٹا قرار دیا ، ہیلری کلنٹن کو چوری سے متصف کیا، مارکو روبیو کو پسینوں میں ڈوبا ہوا کہا اور جیب بوش کو منفی شخصیت اور طاقت سے محروم قرار دیا۔ ٹرمپ نے صرف شخصیات پر نکتہ چینی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ چین سے لے کر میکسیکو کو بھی لپیٹ میں لے لیا اور امریکا میں دراندازی کرنے والے ان ممالک کے شہریوں کو قاتل اور آبرو ریزی کرنے والوں کا نام دیا۔ اس شخصیت میں ٹرمپ مسیحی اقدار پر یقین رکھنے والے ایک قدامت پسند کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں، اگرچہ وہ انجیل کا ایک چھوٹا سے اقتباس بھی ذکر کرنے سے قاصر ہیں۔ اس شخصیت کو ایک غیرتربیت یافتہ اور منہ پھٹ انتخابی شخصیت قرار دیا جاسکتا ہے۔

ٹرمپ نے اپنی اس شخصیت کے ذریعے بہت ذہانت سے سیاسی ادارے کے لیے مثالی سمجھے جانے والے نمونے کی دانستہ مخالفت کا ارادہ کیا۔ ٹرمپ کے تمام اقوال و افعال اس محتاط روایتی شخصیت کی مخالفت کرتے ہیں جو اپنے ہر قول اور فعل پر غور کرتی ہے۔

واشنگٹن میں اس سیاسی طبقے کے بارے میں امریکی عوام کے اطمینان کی شرح کم ہو کر 15% فی صد سے بھی کم رہ گئی۔ ٹرمپ نے اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھایا۔ معاملہ صرف اشتعال انگیز جذبات کا نہیں تھا بلکہ ٹرمپ نے اپنے افعال کو جواز کا حامل بنانے کے لیے منطقی دلائل کا استعمال کیا۔ مثلا ٹرمپ کی یہ دلیل کہ اگر فصیح و بلیغ خطاب اور خوف کا حامل قدیم محتاط برتاؤ (جس کی مثال اوباما ہیں) ہی اگر بہتر روش ہے تو پھر ہمارے سامنے داعش، پوتن ، بشار الاسد اور پے درپے اقتصادی بحران کیوں آئے۔

ٹرمپ کی دووسری شخصیت ایک کامیاب کاروباری شخصیت ہے جس کو اپنے والد سے ترکے میں 10 کروڑ ڈالر ملے تھے اور پھر ٹرمپ نے اس کو 10 ارب ڈالر میں تبدیل کردیا۔ (فوربز جریدے نے اس کا اندازہ 4 ارب ڈالر لگایا ہے)۔ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ٹرمپ نے اپنا نام ایک عالمی ٹریڈ مارک میں بدل ڈالا۔ اگر بات ہو کاروبار اور مال کی تو ٹرمپ اسکرین پر نظر آنے والے تُند و تیز مزاج اور بچکانہ شخصیت کے برعکس ایک سنجیدہ ، برد بار اور معتدل مزاج شخص کے روپ میں ظاہر ہوتے ہیں۔ سرمایہ کاری کا منفرد تجربہ رکھنے والی کاروباری شخصیت کے طور پر خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ یکسر ایک مختلف شخص میں بدل جاتے ہیں۔ ایسا شخص جو سکون سے گفتگو کرتے ہوئے قیمتی مالیاتی ہدایات اور نصیحتیں پیش کرتا ہے۔

ٹرمپ کے مخاصمین نے ان پر کئی مرتبہ ناکام ہوجانے کا الزام عائد کیا تاہم پھر سے اپنے قدموں پر کھڑا ہوجانا ، کمزوری کی نہیں بلکہ طاقت اور ذہانت کی علامت ہے۔ ان کے پاس کام کرنے والوں میں ہر رنگ ونسل اور مذہب سے تعلق رکھنے والے شامل ہیں۔ کچھ عرصہ قبل سامنے آنے والے یہ الزامات کہ وہ سیاہ فام کو ملازمت نہیں دیتے ہیں قطعی طور پر غلط ثابت ہوئے۔ ان الزامات کو ٹرمپ کے خلاف یکجا امریکی صحافت نے ان کی ساکھ خراب کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس روپ میں ٹرمپ قدامت پرستی کا لبادہ اتار کر اپنے اصل روپ میں ظاہر ہوتے ہیں۔ ایک ایسا آزاد خیال جو رواداری اور عالمی اقدار پر یقین رکھتا ہے۔

جہاں تک ٹرمپ کی تیسری شخصیت کا تعلق ہے تو وہ صدارتی شخصیت ہے جس کے ہم نے ابھی کچھ ہی آثار دیکھے ہیں۔ ٹرمپ کو ناپسند کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ وہائٹ ہاؤس میں پہنچ کر اپنے تمام پُر آفت وعدوں کو پورا کریں گے جن میں نیٹو سے انخلاء، چین کا مقابلہ اور مسلمانوں کا داخلہ روک دینا شامل ہیں۔ تاہم ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ عالمی حکومتوں اور ممالک کے ساتھ معاملات انہیں دیگر صدور کی طرح اپنا رویہ نرم کرنے پر مجبور کردیں گے۔

یہ بات بڑی حد تک خارج از امکان ہے کہ صدر بن کر ٹرمپ کی وہ ہی شخصیت ہو جس کو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ ٹرمپ آج اس شخصیت کے بھیس میں ہیں جو امریکا کی عظمت بحال کرنے کے وعدے کررہی ہے۔ ہیلری کلنٹن پر غالب آنے تک ٹرمپ اس شخصیت سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں ہیں، اس کے بعد وہ ایک دوسرے ٹرمپ ہوں گے۔ ٹرمپ کا مائیک بینس کو اپنا نائب چُننا جو کہ ایک تجربہ کار اور سنجیدہ مزاج ریپبلکن شخصیت ہیں، ان کے حقیقت پسند ہونے کی ایک مثبت علامت ہے۔

یہ تمام محض اندازے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ صدر بن کر ڈونلڈ ٹرمپ ہمیں ایک چوتھی شخصیت کے ساتھ حیران کردیں جس کی ہمیں توقع نہ ہو۔ ان کی عادت ہے کہ وہ تجزیہ کاروں کی توقعات کو خاک میں ملادیتے ہیں۔ وہ ہی تجزیہ کار جنہوں نے ابتدا میں ٹرمپ کو ایک مضحکہ خیز شخصیت قرار دیا تھا اور اب وہ ٹرمپ سے خبردار کرتے ہوئے انہیں ہٹلر اور مسولینی کے ساتھ ملا رہے ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے