اسرائیل کی موجودہ حکومت بڑے تسلسل کے ساتھ ملک کی جمہوری اقدار کو پامال کر رہی ہے۔وہ اظہار رائے کی آزادی کی محدود کرکے ، قانون سازوں پر پابندیاں عاید کرکے ،انسانی حقوق کی تنظیموں کو ہراساں کرکے اور عدالت عالیہ پر مسلسل حملوں کے ذریعے ایسا کررہی ہے۔

ریاست کو صہیونی قرار دینے سے اس کا جمہوری اور مثبت رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔یہودی آبادی کے لیے تمام مراعات اور سہولتوں کی نوازشات کی جارہی ہیں مگر وہ دوسروں کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔امیگریشن کے ایسے قوانین متعارف کرائے جاتے ہیں جن سے یہودی نسل ہی کو فائدہ پہنچتا ہے اور اس طرح جمہوریت کے ساتھ ایک کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔ان میں سے بعض امتیازی اقدامات قابل جواز تھے لیکن ان کا جواز ہمیشہ متاثر کن نہیں ہوتا تھا اور اس کی ایک مثال یہودی عوام کا اڑوس پڑوس میں واقع ممالک سے حالت جنگ میں ہونا ہے لیکن ان جمہوری اسقام کے باوجود یہ ابھرتی ہوئی جمہوریت پھلتی پھولتی رہی اور اظہار رائے کی آزادی ،ووٹ دینے کے عالمی حق ،کسی عہدے کے لیے انتخاب لڑنے اور ایک آزاد عدالتی نظام کے قیام کی روایات کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔

تاہم اسرائیلی معاشرے میں ایسے عناصر ہمیشہ موجود رہے ہیں جنھوں نے اس بات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ ہر کسی کو تمام حقوق مساوی طور پر حاصل ہوسکتے ہیں۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ حکومت میں ان کے نمائںدوں کی اکثریت رہی ہے اور اس وقت بھی وہ برسراقتدار ہیں۔یہ بالکل غیر عاقلانہ بات ہوگی کہ ان قابل تشویش رجحانات کو فلسطین کے لاینحل تنازعے سے نہ جوڑا جائے۔قریبا پانچ عشروں پر محیط دوسرے لوگوں پر قبضہ ہے۔ان کے شہری اور سیاسی حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے اور یہ عمل بتدریج خود اسرائیلی معاشرے میں بھی درانداز ہورہا ہے۔

اسرائیل کی مخلوط حکومت نے حال ہی میں تین مختلف قوانین متعارف کرائے ہیں۔ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شہری اور سیاسی حقوق کا بالکل بھی احترام نہیں کرتی ہے۔اسرائیلی پارلیمان الکنیست نے حال ہی میں ایک بل منظور کیا ہے۔اس کو اس کی پیش کنندہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی وزیرانصاف ایلیت شیکڈ نے غلط طور پر ''شفافیت بل'' کا نام دیا ہے۔اس کے تحت این جی اوز کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ اگر ان کی نصف سے زیادہ فنڈنگ بیرونی حکومتوں یا یورپی یونین اور امریکی حکومت ایسے سرکاری اداروں سے ہورہی ہیں تو وہ اس کی تفصیل فراہم کریں۔بظاہر یہ ایک ایسا اقدام ہے جس سے سول سوسائٹی کی تمام تنظیمیں مساوی طور پر متاثر ہوسکتی ہے اور معاملے کے باریک بینی سے جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اصل معاملہ اس سے بھی کہیں سنگین ہے۔

بین الاقوامی سرکاری اداروں کی جانب سے مالی امداد زیادہ تر انسانی اور شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور ان کے علاوہ ان تنظیموں کو دی جارہی ہے جو فلسطینیوں کے ساتھ امن کو آگے بڑھانے کے لیے فعال کردار ادا کررہی ہیں۔دوسری جانب امداد دینے والے نجی ادارے اور شخصیات اور اسرائیلی حکومت سیاسی نقشے کے دائیں جانب والی این جی اوز کی حمایت کرتی ہیں۔ان میں مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں سے تعلق رکھنے والے بھی شامل ہیں۔اس قانون سازی کا واضح مقصد اسرائیلی معاشرے میں انسانی حقوق اور امن نواز تنظیموں کو شکنجے میں لانا ہے۔

مس شیکڈ اور بل کی حمایت کرنے والے دوسرے ارکان پارلیمان میں معصومانہ انداز میں شاید یہ دعویٰ کریں کہ وہ تو شفافیت لانا چاہتے ہیں لیکن درحقیقت شفافیت تو یہ ہے کہ یہ حکومت اور اس کی سیاست پر تنقید کو غیر قانونی قرار دینے کی ایک عریاں کوشش ہے۔حکومت مخالف آوازوں کو غیر ملکی مفادات سے جوڑنے کی سفاکانہ کوششوں سے تاریخ بھری پڑی ہے اوران کے قانونی تحفظات کا ازالہ کرنے کے بجائے انھیں غیرملکی مفادات سے جوڑ دیا گیا۔

حزب اختلاف کا مقابلہ کریں ،خاموش نہ کریں

''شفافیت بل'' اس قسم کا کوئی پہلا بل نہیں ہے۔گذشتہ ماہ کنیست نے ایک تندوتیز بحث کے بعد ایک اور متنازعہ قانون کی منظوری دی تھی۔اس کے تحت ریاست کے خلاف نسل پرستی کہ شہ دینے اور ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کے حامی کسی بھی رکن پارلیمان کو بے دخل کیا جاسکے گا۔اسرائیل کے تناظر میں یہ پارلیمان کے منتخب ارکان کا اظہار رائے کی آزادی کا حق سلب کرنے کی ایک کوشش ہے۔اس مضبوط احساس سے مفر نہیں کہ اس بل کا مقصد عرب ارکان پارلیمان کو ہدف بنانا ہے۔اس کو حنین زعبی بل کا نام دیا گیا ہے۔مس زعبی اسرائیلی پارلیمان کی ایک عرب رکن ہیں۔

وہ اپنے خیالات کے اظہار میں بڑی دبنگ واقع ہوئی ہیں۔ان کے حلقے کے لوگوں سمیت بہت سوں کی یہ خواہش ہے کہ وہ اسرائیلی فلسطینی تنازعے کو زیادہ پیچیدہ انداز میں سمجھنے اور بیان کرنے کے بجائے آسان طریقے سے سمجھنے اور بیان کرنے کی کوشش کریں۔تاہم ایک حقیقی جمہوریت اور ایک مشمولہ معاشرے کی مضبوطی یہ ہے کہ ان کے تحفظات کا دلائل سے جواب دیا جائے اور انھیں یا کنیست کے دوسرے حکومت مخالف ارکان کو غیر جمہوری قانون سازی کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔

اگرچہ پارلیمان کے اپوزیشن ارکان اور سول سوسائٹی نے نیتن یاہو کی حکومت کو پریشان کررکھا ہے لیکن میڈیا سے زیادہ کسی اور نے انھیں اپ سیٹ نہیں کیا ہے۔میڈیا نیٹ ورکس اور صحافیوں پر مخلوط حکومت کے ارکان کی جانب سے تابڑ توڑ زبانی حملے کیے جارہے ہیں۔ان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اپنی عوامی ذمے داری کا احساس کرتے ہوئے حکومت کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں اور عوام کو اس سے مطلع کرتے ہیں۔

حال ہی میں آرمی ریڈیو کے کمانڈر کو وزیر دفاع ایویگڈور لائبرمین نے ایک ''چیٹ'' کے لیے طلب کیا تھا تاکہ ان سے ریڈیو اسٹیشن کے فلسطین کے قومی شاعر محمود درویش کے بارے میں نشر کیے گئے ایک پروگرام پر گفتگو کی جاسکے۔اس پروگرام پر غصے کا شکار لائبرمین نے درویش کی نظموں کو ایڈولف ہٹلر کے ادبی شہ پاروں کی طرح مقدس قرار دینے ایسا فعل قرار دے دیا۔

محمود درویش شاید اسرائیل میں متنازعہ ہوں لیکن ان کی شاعری اسرائیل کے اسکولوں میں پڑھائی جاتی ہے۔مزید برآں ایک مشمولہ معاشرے کی اس وقت کیا قدر رہ جاتی ہے اگر وہ مہذب انداز میں سیاسی فن پر مہارت سے بات نہ کرسکے۔محمود درویش کے کام کا ہٹلر کے افکار سے موازنہ حقیقت پر گرفت کھونے کے مترادف ہے۔اس کی سرحدیں ہسٹریا سے ملتی ہیں۔ایک ایسے سیاست دان کے معیار سے بھی جو تقسیم ،خوف اور نفرت کے بیج بوتا ہے۔

یہ اسرائیلی حکومت کے قانون سازی یا زبانی اظہار رائے کی آزادی کو دبانے کے لیے اقدامات کا ایک حقیر سا نمونہ ہے۔اس کا مقصد اظہار رائے کی آزادی اور اپنے ہی معاشرے میں مباحثے کو محدود کرنا ہے۔1967ء سے قبل کی سرحدوں کے اندر اسرائیل میں جمہوری اقدار مضبوط ہیں لیکن حالیہ رجحانات زوال کا اشارہ کرتے ہیں۔اگر ان کی فعال انداز میں مزاحمت نہ کی گئی تو ملک کا چہرہ بدترین صورت حال سے دوچار ہوسکتا ہے۔
____________

(یوسی میکلبرگ رائل انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی امور چیتم ہاؤس لندن میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا پروگرام کے ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔وہ عالمی تنازعات کے حل اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے پروگرام سے وابستہ ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے