ماہ جون میں متحدہ عرب امارات نے رواداری کے قومی پروگرام کی منظوری دی اور ساتھ ہی اعلان کیا کہ وہ ایک تحقیقی مرکز متعارف کرانے اور رواداری اور باہمی بقاء کا منشور جاری کرنے کے لیے تیار ہے۔ اماراتی وزیر برائے رواداری محترمہ الشیخہ لبنی بنت خالد القاسمی کی جانب سے پیش کیے جانے والے رواداری کے قومی پروگرام کی بنیاد اسی منشور کو بنایا گیا۔

بڑے افکار کا آغاز چھوٹی کاوشوں سے ہوتا ہے۔ گزری عید الفطر کے موقع پر عزت مآب الشیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے عید کو رواداری کے ساتھ مربوط کیا۔ انہوں نے عید کے معنی کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کہا کہ رواداری برتنے والے خیرمقدم کا تعلق تہنیت ، مادی خرچ ، دوسروں کا حال معلوم کرنے ، عفو در گزر ، افراد اور معاشروں کے درمیان اور اسی طرح مذاہب اور اقوام کے درمیان اختلافات ختم کرنے سے ہے۔

رواداری انسانی عقل کے پیدا کردہ اہم ترین مفاہیم میں سے ہے۔ فلسفیانہ معنوں میں یہ ایثار اور دوسروں کی بہبود کے مفاہیم میں سے ہے یعنی کہ اس کا تعلق تعمیر کی خاطر دوسروں کے ساتھ مل کر حصہ لینے کے ساتھ ہے جس میں کم سے کم زیادتی اور اختلاف واقع ہو۔

اس مفہوم کو پیش کرنے والوں میں ایک نمایاں ترین نام فرانسیسی فلسفی جون لوک کا بھی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ "کسی بھی شخص کو کسی صورت یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے شخص سے صرف اس وجہ سے بغض رکھے کہ اس کا تعلق دوسرے فرقے سے ہے یا وہ کسی دوسرے مذہب پر ایمان رکھتا ہے۔ انسان یا ہم وطن ہونے کی حیثیت سے اس شخص کو جو تمام تر حقوق اور مراعات حاصل ہیں لازم ہے کہ وہ اس کے لیے بنا کسی خلاف ورزی کے محفوظ ہوں"۔ لوک کا مزید کہنا ہے کہ " یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم انصاف ، محبت اور احسان کے لیے تنگ دلی پر مبنی معیار وضع کرنے پر قائل نہ ہوںبلکہ ہمیں چاہیے کہ رواداری کا بھی اضافہ کریں۔ یہ تمام وہ امور ہیں جن کی تعلیم مذہب دیتا ہے اور عقل جن کے ذریعے ہدایات دیتی ہے۔ فرد اور اس کے دیگر ساتھیوں کے درمیان تعلق کی طبیعت کے تناظر میں ہم سے یہ ہی مطلوب ہے"۔

دیگر معنی میں رواداری انسان اور اس کے گرد موجود دیگر افراد کے درمیان تعلقات کا فارمولا ہے۔ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے اگر کوئی بھی معاشرہ اس پہلو کو کھو دے۔

کسی شخص کے لباس ، مذہب یا ثقافت کا تمسخر روک دیا جانا چاہیے۔ یہاں ذاتیات اور عامیات کے ایک دوسرے کو ڈھانکنے کا سلسلہ روکنے کے لیے رواداری کا کردار آتا ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ ان امور کو یقینی بنانے کے لیے سماجی اور سرکاری سطح پر ارادہ ہو۔ قانی راستوں کے بنا رواداری کو معاشرے اور لوگوں پر حکمرانی کرنے والا بنیادی اسلوب بنانا ممکن نہیں۔ اس کے لیے ایک پورا ادارہ ہونا چاہیے جس کے اپنے پروگرام ، منصوبے ، نظام اور ایجنڈا ہو۔

رواداری کے مفہوم کو اس کی عملی صورت میں لیا جانا چاہیے جس پر یورپ میں کئی صدیوں سے عمل جاری ہے۔ سماجی آداب کا یہ رنگ حقیقتا منعکس ہوتا ہے اور آپ اسے لوگوں کے روز مرہ معمولات ، ان کی زندگی اور معاشرے میں ان کی نقل و حرکت میں دیکھتے ہیں۔
مشہور فرانسیسی فلسفی ژاں پال سارتر کہتا ہے کہ "مجھے کسی غیر کی ضرورت ہے تاکہ میں وہ رہ سکوں جو ہوں" جب کہ امانوئیل لیوناس کا کہنا ہے کہ " آپ کے مقابل کوئی دوسری ذات نہیں"۔

یہاں رواداری دوسرے کے ساتھ ایثار سے جوڑتی ہے۔ رواداری کسی مخصوص ذات کے حوالے سے نہیں ہوتی۔ انسان کے لیے رواداری اسی وقت ممکن ہے اگر وہ معاشرے کی تشکیل کا حصہ بننے والے افراد کے درمیان اپنے پورے وجود کو یقینی بنائے۔ بصورت دیگر اس کا وجود ناقص اور دراڑوں والا ہوگا۔ متحدہ عرب امارات میں رواداری کی وزارت کے نتیجے میں معیشت ، سرمایہ کاری اور سیاست کی سطح پر بھی فائدہ پہنچنے گا۔ اس میں کوئی حیرت کی بات بھی نہیں اس لیے کہ متحدہ عرب امارات نے اپنی اولین تشکیل کے وقت سے ہی رواداری کا دامن نہیں چھوڑا۔ دیگر دنیاؤں اور مختلف ثقافتوں کے ساتھ گھل مل جانا اس کی تجارتی ثقافت کا ایک حقیقی جزو ہے۔

پرانے دور کے ایک بڑی فلسفی الکندی نے کہا تھا کہ " یقینا دوست ایک انسان ہے جو تم خود ہو تمہارے سوا کوئی نہیں"۔

رواداری سے اقوام کا احیاء ہوتا ہے اور افراد کی شخصیات سنورتی ہیں۔


بشکریہ روزنامہ البيان

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے