ایران کی بظاہر اسرائیل کے ساتھ شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔پاسداران انقلاب ایران کے ڈپٹی کمانڈر حسین سلامی نے حال ہی میں کہا ہے:'' حزب اللہ کے پاس ایک لاکھ میزائل ہیں۔اگر صہیونی رجیم نے ماضی کی غلطیوں دُہرایا تو یہ میزائل مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو آزاد کرانے کے لیے اسرائیل کو ہدف بنانے کو تیار ہیں''۔

انھوں نے مزید کہا:''آج صہیونی رجیم کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور اس کے انہدام کے لیے زمین پہلے سے کہیں زیادہ ہموار ہے''۔سلامی نے خبردار کیا کہ ''اگر اسرائیل نے کوئی غلط اقدام کیا تو وہ حملے کی زد میں آجائے گا''۔

چند ہفتے قبل پاسداران انقلاب ایران کی ایلیٹ قدس فورس کے ایک سینیر مشیر احمد کریم پور نے کہا تھا کہ ''اگر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای حکم دیں تو ایران اسرائیل کو آٹھ منٹ سے بھی کم وقت میں تباہ کرسکتا ہے''۔

غوغا آرائی

اس بات کی بہت سی وجوہ موجود ہیں کہ ایران کیوں اسرائیل مخالف بیانات دُہرا رہا ہے۔اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ یہ سب غوغا آرائی نفسیاتی جنگ کا ایک حربہ ہے کیونکہ ایران اسرائیل کے ساتھ براہ راست تنازعے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔اگرچہ ایران جغرافیائی اور آبادی کے لحاظ سے اسرائیل سے بڑا ہے لیکن اس کی عسکری صلاحیت اس سے کم تر ہے۔جہاں تک میزائل صلاحیتوں کا تعلق ہے جن کے بارے ایرانی جرنیل بڑھ چڑھ کر باتیں کررہے ہیں،اسرائیل کے میزائل زیادہ فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت اور تعداد کے لحاظ سے کہیں بڑھ کر ہیں۔

لیکن جو چیز طاقت کے توازن کو تبدیل کرتی ہے،وہ اسرائیل کی جوہری صلاحیت ہے۔یہ یقین کیا جاتا ہے کہ اسرائیل کے پاس کم سے کم دو سو جوہری ہتھیار ہیں۔یہ بین البراعظمی میزائلوں کے علاوہ جوہری ہتھیاروں سے لیس آبدوزوں کے ذریعے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

چنانچہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایران اسرائیل پر پہلے حملہ نہ کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔اگر وہ اسرائیل پر پہلے حملہ آور ہوتا ہے تو یہ حکمراں سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے لیے خودکشی کے مترادف ہوگا جبکہ اس کا بنیادی مقصد اپنے اقتدار کو برقرار رکھنا ہے۔اس لیے ایران کے لیے یہ زیادہ مؤثر ہوگا کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنی گماشتہ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ذریعے جنگ لڑے۔

تہران کی جانب سے پاسداران انقلاب کی جنگی صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا مقصد ایرانی عوام میں قوم پرستانہ جذبات کو مہمیز دینا ہے کیونکہ ایرانی قائدین جانتے ہیں کہ ایرانی عوام کی اکثریت سخت گیروں اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ سے ناخوش ہے۔

ایرانی قیادت کا مذکورہ طریق کار بہت کامیاب رہا ہے۔رائے عامہ کے جائزوں سے متعدد بار یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ ایسے بہت سے ایرانی جو سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے مخالف ہیں،وہ ابھی تک ملک کے جوہری طاقت بننے کے حق میں ہیں یا وہ اپنے ملک کو خطے میں کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں۔

علی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کے جرنیل داخلی توازن اقتدار کی پیمانہ بندی کی کوشش کررہے ہیں اور یہ واضح کررہے ہیں کہ حتمی فیصلہ ساز وہی ہیں۔ وہ سخت گیروں کی حمایت کے حامل سماجی حلقے کو بھی اپیل کرتے ہیں کیونکہ وہ بظاہر یہ دکھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ 1979ء کے انقلاب کی اقدار کو دوسرے ایشوز پر ترجیح دیتے ہیں۔
_________________

(ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ ایرانی نژاد امریکی اسکالر ہیں۔وہ امریکا کی خارجہ پالیسی کے ماہر ہیں اور انٹرنیشنل امریکن کونسل کے صدر ہیں۔وہ ہارورڈ یونیورسٹی اور کولمبیا یونیورسٹی میں مختلف تدریسی اور تحقیقی ذمے داریاں انجام دے چکے ہیں اور متعدد کتب اور تحقیقی مقالوں کے مصنف ہیں۔ان سے ان پتوں پر برقی مراسلت کی جاسکتی ہے:Dr.Rafizadeh@post.harvard.edu اور Twitter: @Dr_Rafizadeh العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا ان کے نقطہ نظر سے متفق ہونا ضروری نہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے