روزانہ ہی میڈیا نے عرب دنیا میں بگڑتی ہوئی سیاسی اور اقتصادی صورت حال پر اپنی توجہ مرکوز کی ہوتی ہے اور خلیجی ریاستوں میں دہشت گردی پر قابو پانے کا چیلنج درپیش ہے۔

مگر اس سے بھی بڑا ایک خطرہ درپیش ہے اور اس کے بارے میں حکام ،منصوبہ ساز اور معاشرہ بظاہر مکمل طور پر بے خبر لگتے ہیں اور یہ پانی کی شدید قلت کا اُمڈتا ہوا بحران ہے۔

نئی دہلی میں قائم مرکز برائے پالیسی ریسرچ میں تعینات پروفیسر برائے تزویراتی مطالعات برہما چیلانے نے حال ہی میں پراجیکٹ سینڈیکیٹ رپورٹ میں عرب دنیا کو درپیش پوشیدہ خطرے کو مرکزی موضوع بنایا ہے۔ پروفیسر صاحب نو کتب کے مصنف ہیں اور انھوں نے واضح طور پر لکھا ہے کہ عرب دنیا کو دہشت گردی یا بنیاد پرستی کا بڑا مسئلہ درپیش نہیں ہے بلکہ اس سے بھی بڑا پانی کی قلت کا مسئلہ درپیش ہے۔

تاہم اس طرح کی رپورٹس کا یا تو مطالعہ ہی نہیں کیا جاتا یا پھر انھیں بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے۔گذشتہ کئی برسوں سے میں یہ حقیقت اجاگر کرنے کی کوشش کررہا ہوں کہ خلیجی ریاستیں قریب قریب بے آب ہیں۔

بڑھتی ہوئی آبادی اور قدرتی ماحولیاتی نظام کے معدوم یا انحطاط پذیر ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ زیادہ شدت اختیار کرگیا ہے۔اس پر طرہ یہ کہ عوام کو اس بارے میں کوئی تشویش لاحق نہیں ہے اور میڈیا اس خوف ناک صورت حال کی حقیقت اجاگر کرنے کے بجائے دوسرے موضوعات ہی کو اجاگر کررہا ہے۔

ایک بالکل واضح تصریح شدہ آبی پالیسی ہونی چاہیے اور علاقائی ماہرین کی ایسے کسی منصوبے کو وضع کرنے کے لیے خدمات حاصل کی جانی چاہییں۔ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ یہ سنگین مسئلہ موجود ہے۔اس لیے پانی پر دیے جانے والے زرتلافی کو ختم کردیا جائے اور پانی کو محفوظ بنانے اور ذخیرہ کرنے کے منصوبوں پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔

اس کے ساتھ ہی ساتھ ہمیں اسراف پر مبنی ان تمام زرعی منصوبوں کو روک دینا چاہیے جو پانی کی وافر مقدار کو ہڑپ کررہے ہیں۔ہمیں اپنے لوگوں کو پانی کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کرنے کی ضرورت ہے اور انھیں یہ بتایا جانا چاہیے کہ پانی کی ہر بوند تیل کے قطرے سے زیادہ قیمتی ہے۔حکومت کو مقامی آبی ماہرین کی خدمات حاصل کرنی چاہییں اور وہ بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن اس تمام عمل میں اقربا پروری کا قلع قمع کیا جانا چاہیے۔قبل ازیں ایسے حضرات کو سعودی عرب کی قومی آبی کمپنی کے بورڈ ارکان مقرر کیا گیا تھا جن کا پانی کے ساتھ کوئی تعلق واسطہ نہیں تھا۔

زبانی جمع خرچ نہیں!

ضائع شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے اور اس کو زیراستعمال لانے سے بہت زیادہ مدد مل سکتی ہے لیکن ماضی میں اس طرح کے تمام منصوبوں کو چند ایک افراد کے خود غرضانہ مفادات کی وجہ سے نظر انداز کردیا گیا تھا۔پانی کو مصفیٰ کرنے کے لیے نئے پلانٹس کی تنصیب بہت اچھی بات ہے لیکن پانی کو محفوظ بنانا اور زیر زمین ذخائر کا تحفظ زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔معاشرے کو بہ حیثیت مجموعی اس قومی مہم میں حصہ لینا چاہیے۔ اسکولوں، مساجد اور کمیونٹیز کو بھی اس مہم میں شریک کیا جانا چاہیے۔

جو لوگ قیمتی آبی وسائل کو محفوظ بنانے کی وکالت کررہے ہیں،انھیں انعامات سے نوازا جانا چاہیے۔پانی کے ذخائر کے پروگرام کے حوالے سے محض زبانی جمع خرچ نہیں ہونا چاہیے۔خلیجی شہری دنیا بھر میں فی کس مقدار کے حساب سے سب سے زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں۔یہ ایک شرم ناک امر اور گناہ ہے کہ اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کیا جارہا ہے۔

ہم تمام لوگ آبی وسائل کو محفوظ بنانے کے عمل کے متعلقہ فریق ہیں۔میری یہ خواہش ہے کہ ہمارا میڈیا میٹرو سسٹمز ،شاہراہوں اور بلند وبالا عمارتوں کی تعمیر کے منصوبوں پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کے بجائے ہماری بقاء کو درپیش اس پوشیدہ اور خوف ناک خطرے پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔

---------------------------------

کہنہ مشق صحافی اور تجزیہ کار خالدالمعینا اخبار سعودی گزٹ کے ایڈیٹر ایٹ لارج ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ان سے ان پتوں پر برقی مراسلت کی جاسکتی ہے:kalmaeena@saudigazette.com.sa اور Twitter: @KhaledAlmaeena

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے