امریکی انتخابات میں ابھی کچھ ماہ باقی ہیں، امریکی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ ایک دوسرے پر سبقت حاصل کر نے کیلئے پوری قوت صرف کررہے ہیں۔ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کے بارے میں مسلسل سخت بیانات دے کر انہیں تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں مگر گزشتہ دنوں ڈونلڈ ٹرمپ کو اسلام مخالف رویہ اُس وقت مہنگا پڑگیا جب عراق بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانی نژاد امریکی مسلمان فوجی کیپٹن ہمایوں خان کے والد خضر خان نے ڈیموکریٹک کنونشن کے آخری دن اپنی اہلیہ غزالہ خان کے ہمراہ جذباتی تقریر کے دوران اسلام مخالف انتخابی مہم پر ڈونلڈ ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لیا جس کے بعد امریکہ سمیت دنیا بھر میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی مقبولیت کے گراف میں خاطر خواہ کمی آئی۔

عراق جنگ میں مرنے والے مسلمان امریکی فوجی کیپٹن ہمایوں خان کے والد خضر خان کی تقریر کے دو اقتباسات نے نہ صرف کنونشن میں موجود شرکاءبلکہ امریکہ کے ہر شہری کو بے حد متاثر کیا۔ ان کی تقریر کے ہر لفظ میں غم جھلک رہا تھا جس نے مجھ سمیت ہر سننے والے کو آبدیدہ کردیا۔ خضر خان نے اپنی تقریر میں ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’’کیا تم کبھی امریکی شہداء کے آرلنگٹن قبرستان گئے ہو؟ وہاں جاکر دیکھو، تمہیں مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب اور قومیتوں کے شہداء کی قبریں بھی نظر آئیں گی جنہوں نے امریکہ کی سلامتی و دفاع کیلئے اپنی جانیں قربان کیں مگر شاید تم قربانی کے لفظ سے آشنا نہیں ہو کیونکہ تم اور تمہارے خاندان کے لوگوں نے کوئی قربانی نہیں دی، اگر تمہاری اسلام مخالف پالیسیاں امریکہ پر لاگو ہوتیں تو نہ میرا بیٹا امریکی شہری بنتا اور نہ ہی وہ امریکی فوج کا حصہ بن کر امریکہ کیلئے قربان ہوتا۔‘‘

خضر خان نے خطاب کے دوران اپنی جیب سے پاکٹ سائز امریکی آئین نکالتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کیا کہ ’’کیا تم نے امریکہ کا آئین پڑھا ہے؟ شاید نہیں، میں آج اس آئین کی کاپی تمہیں دیتا ہوں جس میں امریکہ میں مذہبی آزادی، اظہار رائے اور مسلمانوں سمیت تمام قومیتوں کیلئے یکساں قانون ہے۔‘‘ خضر خان کے خطاب کے دوران کنونشن میں شریک ہزاروں امریکیوں نے ان کی تقریر کو سراہتے ہوئے کھڑے ہوکر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ خضر خان کی تقریر کے بعد امریکہ میں پاکٹ سائز امریکی آئین کی فروخت میں اضافہ ہوگیا ہے اور امریکہ میں کتابیں فروخت کرنے والی سب سے بڑی ایک کمپنی کے مطابق اس وقت پاکٹ سائز امریکی آئین سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے جسے پڑھ کر امریکیوں کو احساس ہورہا ہے کہ امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کے بھی یکساں حقوق ہیں اور مسلمانوں کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ یاد رہے کہ امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اپنی صدارتی مہم کے دوران واضح الفاظ میں یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر وہ صدر منتخب ہوگئے تو امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کردی جائے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اسلام کو انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کا مذہب بھی قرار دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹرمپ میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے اور غیر قانونی تارکین وطن کو اٹھاکر باہر پھینکنے جیسی متنازع باتیں بھی کرچکے ہیں۔

ٹرمپ کی جگہ کوئی اور سیاستدان ہوتا تو وہ جوان بیٹے سے محروم ہونے والے والدین کے دکھ کو سمجھتے ہوئے خاموشی اختیار کرتا مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی خفت مٹانے کیلئے پہلا تبصرہ یہ کیا کہ ’’تقریر ضرور ہیلری کلنٹن کے اسٹاف نے لکھی ہوگی۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ میں نے بھی امریکہ کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں، میرا بزنس امپائر اس کا ثبوت ہے جہاں میں نے ہزاروں لوگوں کو ملازمتیں فراہم کی ہیں۔انہوں نے یہ احمقانہ بیان بھی دیا کہ ’’خضر خان کی تقریر کے دوران ان کی اہلیہ غزالہ خان کو اس لئے بولنے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ وہ مسلمان خاتون ہیں اور اسلام میں خواتین کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوتا ہے۔‘‘ واضح ہو کہ خضر خان کے تاریخی خطاب کے دوران ان کی اہلیہ غزالہ خان سرپر دوپٹہ اوڑھے اسٹیج پر ان کے ساتھ ہی موجود تھیں مگر وہ خطاب کے دوران خاموش رہیں۔ ٹرمپ کی تنقید پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے غزالہ خان نے کہا کہ میرے بیٹے کی تصویر پیچھے لگی ہوئی تھی اور میں اس وقت بہت جذباتی تھی حالانکہ مجھے بولنے کی آزادی حاصل ہے مگر میرے شوہر جو کچھ کہہ رہے تھے وہ میری آواز تھی اور اسلام میں بھی عورتوں کو اظہار رائے کی مکمل آزادی حاصل ہے، گوکہ میں چپ رہی مگر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ پورے امریکہ نے میرے درد کو محسوس کیا۔

خضر خان پاکستانی نژاد امریکی ہیں۔ ان کے بیٹے ہمایوں خان 1976ء میں دبئی میں پیدا ہوئے۔ بعد ازاں یہ فیملی 1980ء میں امریکہ منتقل ہوگئی۔ ہمایوں نے ہارورڈ لاء اسکول سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ 1986ء میں ہمایوں کی فیملی کو امریکی شہریت حاصل ہوئی۔ بعد ازاں ہمایوں نے امریکی فوج میں کیپٹن کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی اور 2004ء میں عراق میں تعیناتی کے دوران ایک بم حملے میں مارا گیا۔ ان کی بہادری کے صلے میں انہیں بعد از مرگ امریکی فوجی اعزاز ’’پرپل ہارٹ‘‘ سے نوازا گیا تھا جو اعلیٰ ترین امریکی اعزاز ہے اور اس اعزاز کے حقدار شخص کے والدین کو ’’گولڈ اسٹار والدین‘‘ کہا جاتا ہے، یہاں تک کہ اگر کسی محفل میں گولڈ اسٹار والدین موجود ہوں تو امریکی صدر کو ان کے احترام میں کھڑا ہونا پڑتا ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک گولڈ اسٹار ماں کے بارے میں تنقید کرکے امریکیوں کو شدید مایوس کیا۔ایک اندازے کے مطابق امریکی افواج میں اس وقت 4 ہزار سے زائد مسلمان فوجی خدمات انجام دے رہے ہیں اور ہمایوں خان وہ واحد مسلمان فوجی نہیں تھا جس نے امریکہ کیلئے اپنی جان قربان کی بلکہ نائن الیون کے بعد عراق، افغانستان اور دوسرے ممالک میں درجنوں مسلمان فوجیوں نے امریکہ کیلئے اپنی جانیں قربان کیں۔ میں نے خضر خان کے خطاب کی ویڈیو کئی بار دیکھی جو ایک انتہائی طاقتور پیغام تھا جس نے یہ پیغام دیا کہ ہر مسلمان دہشت گرد نہیں اور امریکہ کیلئے مسلمانوں کی قربانیاں کسی دوسرے مذہب سے کم نہیں۔

اس تقریر سے امریکیوں کے ذہنوں میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں کیا گیا پروپیگنڈہ زائل ہوا اور انہیں یہ احساس ہوا کہ یہ ملک جتنا ان کا ہے، اتنا ہی امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کا بھی ہے۔مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ایک مسلمان امریکی آئین اپنے ہاتھ میں لہراکر ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی آئین اور امریکہ میں مذہبی آزادی، امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کے یکساں حقوق اور امریکی اقدار کے بارے میں بتارہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے گولڈن والدین کے بارے میں تضحیک آمیز رویئے سے ان کے مسلمانوں کے خلاف دل میں چھپی اپنی نفرت کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ اپنی تقریروں میں مسلمانوں کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں مگر آج یہی تنقید انہیں مہنگی پڑگئی ہے۔ خضر خان کی تقریر کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے، ٹرمپ کے مخالفین تو مخالفین، حامی بھی ان کے مخالف ہوگئے ہیںجو ٹرمپ کے زوال کی ابتداہے۔ یہ تقریر امریکی الیکشن میں ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوسکتی ہے اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ٹرمپ کی شکست اور ہیلری کی فتح میں ایک مسلمان کی تقریر کا اہم کردار ہوگا ۔ بشکریہ روزنامہ 'جنگ'
-------------------
"العربیہ" کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے