حافظ سعید کے انکشاف یا شکوے نے محفل پر سکتہ طاری کر دیا تھا۔

انہوں نے عوام کو کشمیریوں پر بھارتی فوج کے حالیہ مظالم سے آگاہ کرنے کے لئے سڑکوں کے کنارے مختلف بورڈ لگائے، ان پر برہان وانی شہید کی تصویریں تھیں، ان کشمیریوں کے چہرے تھے جو بھارتی فوج کی گولیوں سے چھلنی ہو چکے تھے، ان نو عمر لڑکوں کی پھٹی پھٹی آنکھیں دکھائی گئی تھیں جن میں بیسیوں چھرے گھس گئے تھے اور وہ بینائی کھو بیٹھے تھے، مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی پرچموں کی بہار کی منظر کشی بھی کی گئی تھی۔ کرفیو کی پرو انہ کرنے والے مرد وخواتین کے ہجوم بھی دکھائے گئے تھے۔

مگر حافظ سعید نے روہانسی آواز میں کہا کہ ہم نے لوگوں سے مانگ پن کر لاکھوں روپے خرچ کر کے یہ بورڈ نصب کئے تھے، صبح اٹھے تو ہماری محنت رائیگاں جا چکی تھی، یہ بورڈ اتار دیئے گیے تھے۔ مگر ہم کسی سے گلہ نہیں کریں گے، ہمارے بورڈ اترتے رہیں گے، ہم نئے بورڈ لگاتے رہیں گے، کبھی نہ کبھی تو بورڈ اتارنے والے تھک جائیں گے یا ان کا ضمیر بیدار ہو جائے گا۔

مجھے یاد آیا جب ایک سارک کانفرنس کے لئے بھارتی وزیر اعظم راجیو گامدھی اسلام آبادا ٓئے، ان دنوں ملک پر محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت تھی، انہوں نے راجیو گاندھی کی خوشنودی کے لئے اسلام آباد کی سڑکوں سے کشمیر ہائوس کے بورڈ اتروا دیئے تھے، پی ٹی وی پر سرینگر کے موسم کا حال نشر کرنا بند کر دیا تھا، اور سارک کانفرنس کے اسٹیج پر بیٹھ کر راجیو گاندھی سے داد لینے کے لئے انکی طرف مسکرا کر دیکھا تھا، مسکراہٹوں کے اس تبادلے نے پاکستانیوں اور کشمیریوں کا دل چیر کے رکھ دیا۔

محترمہ کی حکومت کو ان کے مخالف نواز شریف کے کیمپ نے سیکورٹی رسک قرار دے رکھا تھا مگر آج تو خود نواز شریف کی حکومت ہے، پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت ہے، اسحا ق ڈار وزیر خزانہ ہیں، خواجہ آصف وزیر دفاع ہیں، خواجہ سعد رفیق وزیر ریلوے ہیں۔آصف کرمانی وزیر اعظم کے خصوصی معاون ہیں، سرتاج عزیز خارجہ امور کے مدار المہام ہیں، عطا الحق قاسمی پی ٹی وی کے سربراہ ہیں، قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق ہیں۔ ایک وانی صاحب ہیں جو پی ایم ہائوس کا میڈیا چلاتے ہیں۔ میں نے یہ نام اس لئے گنوائے ہیں کہ یہ سب کشمیری ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے کشمیریوں کے ساتھ وہ سلوک تو نہیں ہونا چاہئے جو بے نظیر کی حکومت میں ہوا تھا۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ پاکستان کے حالات دیکھ کر شاید ہی پاکستان میں شامل ہونے کے لئے ووٹ دیں۔

مجھے ذاتی طور پر سردست حکومت کی کشمیر پالیسی میں کوئی جھول نظر نہیں آتا، وزیراعظم نے لندن سے واپسی پر پہلی کابینہ میٹنگ میں بھارت کو آڑے ہاتھوں لیا، سرتاج عزیز نے بھارتی مظالم پر بھر پور احتجاج کیا، چودھری نثار نے راجناتھ کو کھری کھری سنائیں۔ ملیحہ لودھی یو این او میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا پردہ چاک کرر ہی ہیں۔ پرویز رشید روزانہ بھارتی بر بربریت پر احتجاج کرتے ہیں۔ تو پھر سڑکوں سے بورڈ اتروانے والا کون ہے؟ کیا پنجاب انتظامیہ کو ابھی تک بے نظیر کے احکامات ازبر ہیں، کیا اس صوبے کی افسر شاہی کو علم نہیں کہ صوبے کی حکومت تبدیل ہو چکی ہے۔ ویسے کوئی انوشہ رحمن کو بھی سمجھائے کہ پاکستان کے کنٹرول میں مقبوضہ کشمیر POK نام کی کوئی ریاست نہیں۔

میں نے کبھی پی ٹی وی نہیں دیکھا، میں کوئی بھی چینل نہیں دیکھتا مگر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ عطا الحق قاسمی کی سربراہی میں پی ٹی وی کس حد تک کشمیر کاز کو بڑھاوا دے رہا ہے، سنا یہ ہے کہ وہ اپنے ٹی وی کی ہر ادبی محفل میں فروکش ہوتے ہیں، وہ کالم بھی لکھتے ہیں تو مزاحیہ، ہلکے پھلکے، جیسے وہ کشمیر کے حالات سے باکل بے خبر ہوں، ایک بار انہوں نے سہیل ضیا بٹ کا کھانا کھایا، بٹ صاحب وزیر اعظم کے بہنوئی ہیں اور خالص کشمیری، ان کے کھانے میں انواع واقسام کی کشمیری ڈشیں شامل تھیں، قاسمی صاحب نے خوب چٹخارے لے کر ان کے ذائقوں کی تعریف کی تھی مگر سہیل ضیا بٹ ہوں یا عطا الحق قاسمی، دونوں میں سے کسی کو اس کشمیری ڈش کا علم نہیں جو بھارتی فوج کو مرغوب ہے، اس ڈش میں نہ تو کشمش ہوتی ہے، نہ زعفران، نہ اسے شب دیگ کہتے ہیں، بلکہ بھارتی فوج یہ ڈش کشمیری نوجوانوں کے تازہ تازہ گرم گرم خون میں پکاتی ہے۔

محترم قارئین! مجھے معاف فرمایئے گا، میرا قلم اس قدر سفاک کیوں ہو گیا۔

مگر ایک بات اور کروں گا کہ اگر کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے یوم سیاہ منانا ہے تو اس کے لئے مسلم لیگ [ن]، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، احتجاجی جلوس کیوںنہیں نکالتی، یہ کیوں فرض کر لیا گیا ہے کہ جماعت ا سلامی، اور جماعت الدعوہ کے جلوس فرض کفایہ کا کام دیں گے اور ہاں یہ بل بورڈ جو اتارے جا رہے ہیں، جن پر کسی جماعت کا نام بھی نہیں لکھا، یہ ناپسند ہیں تو حکمران جماعتیں خود کیوں ایسے بورڈ نصب نہیں کرتیں جن سے مظلوم کشمیریوں کی حالت زار اجاگر ہو سکے اور جو پاکستانی عوام کو خواب غفلت سے بیدار کر سکیں۔

اس طرف بھی قبلہ حافظ سعید نے اشارہ کیا۔ دفاع پاکستان کونسل داد کی مستحق ہے کہ وہ کشمیریوں کے حق یا بھارت کی مذمت میں جلوس نکالتی ہے تو اس میں صرف اور صرف پاکستان کے جھنڈے لہرائے جاتے ہیں، کوئی جماعت اپنا جھنڈا نہیں لہراتی، اور ان جماعتوں کو بھی یہ سبق مظلوم کشمیریوں نے دیا ہے جو ہر روز گلی بازاروں میں پاکستان کے پرچم لہراتے ہیں، ان کی بھی اپنی اپنی سیاسی پارٹیاں ضرور ہیں مگر وہ اپنے پرچم کو بھول کر صرف ایک جھنڈا اٹھاتے ہیں اور وہ ہے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم۔

حافظ محمد سعید کہتے ہیں کہ ہمیں اپنا یوم آزادی بھی کشمیریوں کے لئے یوم آزادی کی آرزو کے طور پر منانا چاہئے اور چھ ستمبر کا دن کشمیریوں کے دفاع کے لئے مخصوص کر دینا چاہئے۔

ہمارے ہاں ایک بحث چل پڑی ہے کہ کشمیری دہشت گرد ہیں یا حریت پسند، میرے نزدیک یہ کوئی گالی نہیں، ایک اعزاز ہے جو یاسر عرفات کو ملا، نیلسن منڈیلا کو ملا ، ہو چی منہ کو ملا اور مائو زے تنگ کو ملا۔ امریکیوں نے بھی اسی طور، برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی، برطانیہ والے اسکاٹ لینڈ والوں کو دہشت گرد کہتے ہیں مگر آخر مجبور ہو کر ریفرنڈم تک آ گئے ہیں۔ دہشت گردی سے حریت پسندی تک کوئی زیادہ فاصلہ نہیں، بس ایک عزم محکم کی ضرورت ہے اور کشمیری اس عزم سے سرشار ہیں، جو لوگ انہیں دہشت گرد کہتے ہیں، وہی اپنے منہ سے انہیں حریت پسند بھی کہیں گے اور ان کے جذبہ حریت کو سلام بھی پیش کریں گے۔ بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے