یورپ میں دائیں بازو کے نظریات پھیل رہے ہیں۔ فرانس میں نیس اور جرمنی میں میونخ کے واقعات نے مذہبی فکر اسلامی خطاب پر اپنی پرچھائیاں ڈالی ہیں۔ مساجد اور دعوتی مقامات کے حوالے سے اقدامات کیے گئے ہیں۔ فرانسیسی وزیر داخلہ برنر کازنوو نے یکم اگست کو شدت پسندی کے تناظر میں بیس مساجد اور نماز کے ایک ہال کی بندش کا اعلان کیا۔

انہوں نے دیگر مساجد کی بندش اور شدت پسند مبلغین کو فرانس سے بے دخل کیے جانے کا بھی عندیہ دیا۔ فرانسیسی وزیر نے واضح طور پر کہا کہ "فرانس میں ایسے لوگوں کی کوئی جگہ نہیں جو نماز کے ہالوں یا مساجد میں نفرت کا پرچار کرتے ہیں اور جمہوریت کے متعدد بنیادی اصولوں کا احترام نہیں کرتے"۔

میں نے نیس کے واقعات کے بارے میں تحریر کرتے ہوئے لڈوگ بیتھوون کے چھوٹے سے گیت کو بھی یاد کیا تھا جس میں اس نے انسانی اخوت کی شکل میں انسان کی سب سے بڑی قدر کے لیے نغمہ سرائی کی کوشش کی۔ تاہم ساتھ ہی مجھے یہ بھی یاد آیا کہ اسلام کا بطور مذہب فرانس میں عمومی وجود پرانا ہے جو انیس ویں صدی کے اواخر میں شروع ہوا۔ 1914 میں پہلی جنگ عظیم سے ما قبل وہاں مسلمانوں کی تعداد کا اندازہ تیس سے چالیس ہزار تک لگایا گیا جن میں اکثریت الجزائر اور مراکش کے ورکروں کی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ فرانسیسی حکام ملک میں 2500 مساجد اور نماز کے مقامات میں سے تقریبا 120 مقامات کو مسلمانوں کے درمیان شدت پسند نظریات پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

یورپ میں دائیں بازو کے عناصر کسی بھی مہاجر یا مسلمان کی کارروائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے حکومتوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اعداد و شمار ان لوگوں کے لیے انتخابی مواقع میں اضافے کا پتہ دیتے ہیں۔ بالخصوص شامی پناہ گزینوں کے یورپ کے کئی ممالک میں پہنچنے کے بعد جن میں جرمنی اہم ترین ہے۔ اس سلسلے میں چاقوؤں سے حملوں، مار پیٹ اور سیکورٹی فورسز اور ہوائی اڈوں کے علاوہ تفریحی مقامات کو نشانہ بنانے سے متعلق واقعات نے دائیں بازو کی آگ کو مزید سلگاتے ہیں۔

یورپ کا مسئلہ یورپ کو ہی حل کرنا ہے۔ تاہم مسلمانوں کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے خلاف مرتکب ان جرائم کے بارے میں استفسار کریں جو بنیاد پرستی پر مبنی شدت پسند تقریروں کے سبب واقع ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں غیرملکیوں کی کمزوری کے علاوہ رنگ ، نسل یا مذہب کے امتیاز سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ یہاں پر بنیاد پرست تقریروں کو معاشرے میں نفرت کا بیج بونے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

نصر ابوزید جو گزشتہ صدی میں اسّی کی دہائی سے مذہبی تقاریر اور خطابوں کے ناقد ہیں، ان کا کہنا ہے کہ " مذہبی خطاب تاریکی میں تاریک اور روشنی میں روشن ہوتا ہے"۔ یہ امر اُن بعض مبلغین پر منطبق ہوتا ہے جو روشنیوں اور کیمروں کے سامنے تو روشن خیالی کی بات کرتے ہیں تاہم بند دیواروں اور پراسرار غاروں میں ہونے والے خطاب میں تشدد اور شدت پسندی کا رخ کرتے ہیں۔

یہ مسئلہ سکیورٹی طور پر ہی حل ہوسکتا ہے جہاں سب سے پہلے تو یورپی ممالک مسلمانوں کے درمیان سرائیت کیے ہوئے شدت پسندوں کو تلاش کریں۔ یہ لوگ کانفرنسوں اور سیمیناروں میں تو اپنی تقریروں کو خوب چمکاتے ہیں تاہم جیسے ہی مخصوص حاضرین کے درمیان بند مقامات پر پہنچتے ہیں تو تاریک خیالات کا پرچار شروع کردیتے ہیں۔ ان میں اکثریت سے گفت و شنید نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ان کے خیالات تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ لوگ یورپ میں تعلیم حاصل کرنے اور تعلیم دینے والے نہیں بلکہ فاتح بننے آئے ہیں.. یہ لوگ مکالمے کرنے والے نہیں بلکہ حملہ آور کا کردار ادا کرنے پہنچے ہیں۔

مسلمانوں میں آگاہی نہ ہونے کے سبب بنیاد پرست عناصر مسلمان کو دوسروں کی دہشت کے تحت رکھتے ہیں۔ یہ طریقہ کار خالص شناخت کے نام پر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو جال میں پھنسانے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اسی طرح بنیادی معاشرے کے متوازی ایک دوسرے معاشرے کی تاسیس کے ذریعے بیگانگی کا علاج کیا جاتا ہے۔

جس کمیونٹی میں بھی گھل مل جانے کی سطح کم ہوگی ہوگی اس میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے مواقع بڑھ جائیں گے اس لیے کہ گھل مل جانے سے فرضی شناخت کی مرکزیت کم ہو جاتی ہے۔

اس طرح بیگانگی محض ایک یاد بن کر رہ جاتی ہے۔ یورپی اور امریکی معاشروں میں گھل مل جانے والے عرب اور مسلمانوں کی بے شمار مثالیں ہیں۔ اس سلسلے میں لندن کے میئر صادق خان کا تذکرہ کافی ہوگا جو ایک پاکستانی بس ڈرئیور کے بیٹے ہیں۔ اسی طرح فلسطینی نژاد ایڈورڈ سعید جن کا شمار امریکا کے اہم ترین اکیڈمکس میں ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ فرانس میں امین معلوف اور دوسرے بہت سے۔

یورپ روشنیوں کا براعظم رہے گا۔ شدت پسند تنظیموں کی مراد ہے کہ مسلمانوں اور یورپی حکومتوں کے درمیان تصادم ہو۔ یہ تنظیمیں معاشرے میں انضمام کے خلاف مزاحمت پیدا کر رہی ہیں۔ تاہم اب کوئی آپشن نہیں ہے ، فرانس اور اسی طرح جرمنی خبردار کر رہے ہیں کہ یا تو معاشرے میں انضمام یا پھر اپنے اصل وطن واپسی۔ یہ ہے یورپ جو اپنی تاریخ اور حال کا پہرہ دے رہا ہے۔ گیند اب وہاں کی مسلم کمیونٹی کے کورٹ میں ہے۔ دائیں بازو کی چڑھائی کی دلیل کے ساتھ یا تو اختیاری اعتدال یا اضطراری ترمیم !!! * بشکریہ روزنامہ "البیان"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"العربیہ" کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے