امریکی چارج شیٹ، راج ناتھ کی منہ چھپا کر واپسی اور کوئٹہ بم دھماکے آگے پیچھے ہی وقوع پذیر ہوئے۔ بظاہر ان میں کوئی کنکشن ہے نہ کوئی مماثلت۔ لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں کوئی ناتا، کوئی تعلق ان واقعات میں ضرور ہے۔ بھارت تو پاکستان کا ازلی دشمن ہے ہی۔ لیکن ماضی کے غیر منتخب حکمرانوں کا سرپرست اعلیٰ اور آزمودہ دوست امریکہ پاکستان کے متعلق سوچ کے کن راستوں پر چل رہا ہے۔ اس کو سمجھنے کیلئے حالیہ امریکی اشاروں کو سمجھنا ہوگا کہ دہشت گردی کی اس نئی نہر کے پیچھے کون ہے اور کس کا ہاتھ ہے؟

تازہ ترین امریکی چارج شیٹ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے نائب ترجمان کی جانب سے چند روز پہلے سامنے آئی۔ ماتھے پر تیوریاں ڈالے سفارتکاروں کے لئے مخصوص نشینی لہجے میں لیکچر دیتے ہوئے ترجمان سے ایک پلانٹڈ سوال ہوا۔ دہشت گردی کے معاملہ میں حکومت پاکستان کی کارکردگی کیسی ہے؟ مسئلہ امریکیوں کا یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک ان کا سرٹیفیکیٹ جاری نہ ہو ان کی جانب سے مہر تصدیق ثبت نہ ہو۔ اصلی چیز بھی نقلی ہی رہتی ہے۔ لہٰذا نائب ترجمان جو دراصل نوکری پیشہ بابو ہیں۔ کام ان کا وہی کہتا ہے جو ان کو طوطے کی طرح رٹایا گیا ہو۔ لہٰذا طے شدہ سوال کے جواب بھی سرکاری طوطے نے دماغ کی میموری میں فیڈ، اگل دیے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں سنجیدہ نہیں۔ بعض مخصوص گروپوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی۔ پاکستان کو اپنی پرفارمنس ثابت کرنے کیلئے ’’ڈو مور‘‘ کی ضرورت ہے۔

امریکی نائب ترجمان کے جواب میں فوری جواب تو دفتر خارجہ نے دے دیا۔ دفتر خارجہ کے بیانات عمومی طور پر خوبصورت ریپر میں لپٹی کڑوی گولی کی مانند ہوا کرتے ہیں۔ سفارتی آداب کا تقاضا یہی ہوا کرتا ہے۔ لیکن اس بار دفتر خارجہ نے حق ادا کیا اور امریکیوں کو منہ توڑ جواب دیا۔ لیکن دانشورانہ بددیانتی کا شکار امریکیوں سے یہ ضرور پوچھنا چاہئے کہ ان کا تجزیہ کس بنیاد پر ہے۔ کیا عقل سلیم اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ایسا ملک جو دہشت گردی کے خلاف 60 ہزار جانیں گنوا چکا ہو۔ جو سوا 100 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی خسارہ برداشت کر چکا ہو۔ جس کے پانچ ہزار قیمتی سولجر شہید ہو چکے ہوں۔ وہ ملک دہشت گردی میں سنجیدہ نہ ہو۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ جس ملک کے بچے شہید کئے جا چکے ہوں۔ جس کے ڈاکٹر نشانہ پر ہوں۔ جس کے علماء شہید کئے جا چکے ہوں۔ جس کے فنکار دہشت گردی کا شکار ہوئے ہوں۔ جس کے سکول، کالج، یونیورسٹیاں، چرچ، مساجد، سرکاری دفاتر، سینما ہاؤسز نشانے پر ہوں۔ جہاں جی ایچ کیو، نیول ہیڈکوارٹر، کامرہ کمپلیکس پر حملے ہو چکے ہوں۔ جہاں ایک دن میں 50 سے زائد وکلاء شہید ہو جائیں۔ 10 سالوں میں سو سے زائد صحافی ادائے فرض کی راہ میں قربان ہو جائیں۔ جس کے کھیل کے میدان سونے ہو جائیں۔ وہ ملک دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں سنجیدہ نہیں ہوگا۔

نہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔ ایسی چارج شیٹ تو ردی کی ٹوکری میں پھینکے جانے کے لائق ہے کیونکہ اصل معاملہ یہ نہیں۔ کچھ اور ہے۔ امریکی کسی اور ایجنڈے پر ہیں۔ وہ ایجنڈا دنیا کی نظروں سے اتنا بھی اوجھل نہیں۔ امریکی چین کی بڑھتی ہوئی طاقت، اس کے معاشی اثرات، اس کی دفاعی اہلیت کے ہاتھوں بہت پریشان ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جیسے جیسے چائنا کی بین الاقوامی اہمیت بڑھتی جائے گی۔ ویسے ویسے امریکہ کی اکلوتی سپر پاور کی حیثیت گھٹتی جائے گی۔ اس کی گلوبل تھانیداری کا دائرہ سکڑتا جائے گا اور آخرکار ایک روز چین اس کے برابر کی نشست پر بیٹھا اس کی بدمعاشی کی راہ میں رکاوٹ بن جائے گا۔ لہٰذا وہ ہر قیمت پر اس کا راستہ روکنے کیلئے کمر بستہ ہے۔ جیسے کبھی اس نے روس ایسی سپرطاقت کو گھٹنوں کے بل گرا دیا تھا۔ تب عالم اسلام کی مجبوریوں اور آمروں کی ضرورتوں کا سودا کر کے اسلام کو کمیونزم کے مقابلے میں کھڑا کیا اور وہ جنگ جیت لی۔

اب چین کے خلاف نئی جنگ میں اس کا گھیراؤ کرنے کیلئے اس نے نئے اتحادی کا چناؤ کیا ہے۔ اس کا نیا فائٹنگ پارٹنر بھارت ہے اور چین کا ہر دوست، اس کا دشمن۔ پاکستان چین کا نمبر ون اتحادی ہے۔ لہٰذا پاکستان اب امریکہ کا دوست نہیں۔ لیکن فی الحال سی آئی اے کے کاغذوں میں پاکستان کو سرکاری طور پر دشمن ڈیکلیئر نہیں کیا گیا۔ اس کو رام کرنے کے لئے میٹھی گولیاں اور زہریلا مواد دونوں تیار ہے۔ اقتصادی پیکیج، امداد اور خفیہ پراکسی دونوں حربے ساتھ ساتھ استعمال کئے جا رہے ہیں۔ اس کام کے لئے ’’را‘‘ اور ’’این ڈی ایس‘‘ کی خدمات اس کے پاس بلامعاوضہ موجود ہیں۔ امریکی تھنک ٹینکس میں اس بات پر بحث مباحثہ جاری ہے کہ پاکستان کی حیثیت اس کی نظر میں کیا ہے؟

پاکستان کو کس کیٹیگری میں رکھنا ہے؟ امریکی یہ فیصلہ بہت جلد کر لیں گے۔ لیکن وہ کیا اور کس طرح سوچ رہے ہیں اس کے واضح اشارے موجود ہیں اور آسانی سے سمجھے جا سکتے ہیں۔ ابھی گزشتہ ہفتے ہی پینٹاگون نے اپنی تفصیلی تحقیقی رپورٹ جاری کی ہے۔ پاکستان میں ہر روز شام کو برپا ہونے والے سیون الیون کے جغادری چھاتہ بردار اینکروں میں سے شاید ہی کسی نے زحمت کر کے یہ رپورٹ پڑھی ہو۔ اخبارات میں چونکہ اب بھی ذمہ دارانہ صحافت کی رمق موجود ہے لہٰذا بعض اخبارات نے اس رپورٹ کے کچھ حصہ شائع کئے ہیں۔ ٹی وی اینکر بھی قصور وار نہیں۔ حالات حاضرہ کے لائیو پروگراموں کے موضوعات کا انتخابات وہ خود کب کرتے ہیں۔ بہرحال پینٹاگون کی اس چشم کشا رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ اگلے 20 سالوں میں امریکی بالادستی کو جن چار ممالک سے خطرہ ہے وہ ممالک روس، چین، پاکستان اور شمالی کوریا ہیں۔ ان چار ممالک کا اتحاد اگر ابھر کر سامنے آ گیا تو وہ امریکی تھانیداری کیلئے چیلنج بن کر سامنے آئے گا۔ اس سے پہلے 2015ء کی پینٹاگون کے پالیسی پیپرز میں روس کو نمبر ون مخالف ملک ڈیکلیئر کیا جا چکا ہے۔

اسی طرح 11 جولائی 2015ء کو کانگریس کمیٹی میں اس بات پر تفصیلی بحث کی گئی۔ اب اس بات کا فیصلہ کر لیا جائے کہ پاکستان دوست ملک ہے یا دشمن؟ امریکی پالیسی ہے کہ جو ممالک مستقبل میں اس کیلئے خطرے کا باعث ہوں ان کے خلاف ہر قسم کے حربے استعمال کر کے ان کو کمزور کر دیا جائے۔ لہٰذا اب وہ بھارت کے غبارے میں ہوا بھر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ بھارت اور ایران کے مابین اتحاد کو مضبوط بنا رہا ہے تاکہ خطے میں اپنے دوستوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ لہٰذا وہ بھارت کے تمام جرائم صاف کر کے اس کو چین سے لڑانے کی تیاری کر رہا ہے۔ پاکستان کو چین سے دوستی سے پیچھے ہٹانے کیلئے وہ سی پیک کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ وہ یہ بھی بھول چکا ہے کہ پاکستان میں بھارتی جاسوس پکڑے جا چکے ہیں۔ اس نے بھارت کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ وہ پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے جو چاہے کر گزرے امریکہ اس کی سپورٹ کرتا رہے گا۔ حالیہ بم دھماکہ کو سی پیک، بھارت امریکہ دوستی، تحریک آزادئ کشمیر کی بڑھتی ہوئی طاقت کے تناظر میں دیکھنے سے منظر نامہ واضح ہو کر سامنے آ جاتا ہے۔ کوئٹہ بم دھماکے میں داعش کے ملوث ہونے کے اشارے مل رہے ہیں۔ بھارتی مشیر برائے قومی سلامتی اجیت ڈول کے داعش سے رابطوں کی کہانی بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کر چکا۔ امریکہ، بھارت اور داعش کے تعلقات کو سمجھ لیا جائے تو پاکستان میں دہشت گردی کے مجرم کا چہرہ خود بخود بے نقاب ہو جاتا ہے۔ بشکریہ روزنامہ "نئی بات"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"العربیہ" کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے