گذشتہ ہفتے کا آغاز مصر میں دولت اسلامیہ (داعش) سے وابستہ جنگجو گروپ کی جانب سے ایک ویڈیو کے اجراء سے ہوا تھا۔اس میں اس نے اسرائیل کو دھمکی دی تھی کہ اس کو بہت جلد بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ہفتے کا اختتام جزیرہ نما سیناء میں اس گروپ کے کمانڈر ابو دعا الانصاری کی مصری فضائیہ کے ایک اہدافی حملے میں ہلاکت سے ہوا تھا۔

اس ریکارڈ پیغام میں دھمکی دی گئی تھی کہ ''یہود فلسطین میں بدستور نہیں رہیں گے۔ہم اس کو یہودیوں کے قبرستان میں تبدیل کردیں گے''۔اب یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان دونوں واقعات کا آپس میں کوئی تعلق ہے یا نہیں۔البتہ اس نے ایک مرتبہ پھر جزیرہ نما سیناء کی بدلتی ہوئی سیاسی صورت اور انصار بیت المقدس سے درپیش خطرے کے بارے میں عوامی شعور کو بیدار کردیا ہے۔

مصر اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کے بعد تیس سال تک جزیرہ نما سیناء کا علاقہ دونوں ملکوں کے درمیان کسی ہلچل کے بغیر ایک بفر زون رہا ہے۔اپنی بہت تھوڑی مگر دوستانہ آبادی ، خوب صورت مناظر اور تاریخی جگہوں کی وجہ سے یہ ایک اہم سیاحتی مقام بن سکتا ہے اور یہاں سیاحت کی صنعت پھل پھول سکتی تھی۔مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت کے 2011ء میں خاتمے کے بعد سے اس جزیرہ نما علاقے میں امن وامان کی صورت حال بگڑنا شروع ہوئی تھی اور بڑی تیزی کے ساتھ یہاں قاہرہ کی حاکمیت اور عمل داری کے لیے ایک براہ راست چیلنج پیدا ہوگیا۔

مصری نظام کی گرفت کو یقینی بنانے والے ریاست کے سکیورٹی ڈھانچے کا راتوں رات ہی دھڑن تختہ ہوگیا۔ چنانچہ ایک سیاسی خلا پیدا ہوگیا۔ابتدا میں اس کو بدّو آبادی نے پورا کیا لیکن جہادی بہت جلد اس علاقے کی جانب راغب ہوگئے۔ان میں سے بعض پہلے ہی اس جزیرہ نما میں موجود تھے اور دوسرے بیرون ملک سے آگئے۔وہ بتدریج اسرائیل کے لیے بھی خطرہ بننا شروع ہوگئے۔ایک ایسا خطرہ، جس کا تعلق اسرائیل غزہ کی پٹی میں اپنی دیرینہ دشمن فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ جوڑتا رہا ہے مگر اسرائیل کے پاس اس کا بہت محدود جواز رہا ہے۔

1978ء میں کیمپ ڈیوڈ میں اسرائیل اور مصر کے درمیان طے شدہ امن معاہدہ نامساعد حالات اور بعض آزمائشوں کے باوجود برقرار رہا ہے لیکن اب انصار بیت المقدس کی فعال مزاحمت کاری نے مصر اور اسرائیل کے لیے یہ جواز پیدا کردیا ہے کہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ تزویراتی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔

اگرچہ یہ ایک چھوٹی تنظیم ہے اور اس کے فعال ارکان کی تعداد ڈیڑھ ایک ہزار تک ہے لیکن یہ جنوری 2011ء میں اپنے ظہور کے بعد سے بہت فعال اور تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔پہلے یہ تنظیم القاعدہ سے وابستہ تھی اور 2014ء کے آخر میں  اس نے اپنا رشتہ داعش سے استوار کر لیا تھا(داعش سے وابستہ ہونے کے چند ماہ بعد اس نے اپنا نام انصار بیت المقدس سے تبدیل کرکے داعش کا صوبہ سیناء رکھ لیا تھا)۔

اس تنظیم نے مصر میں جولائی 2013ء میں مسلح افواج کے ہاتھوں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد اپنی جنگجوئی کی سرگرمیاں تیز کردی تھیں۔مصر میں اس اتھل پتھل کے بعد جنرل عبدالفتاح السیسی ملک کے صدر بن گئے تھے۔اگرچہ اپنے جنگجوؤں کی تعداد کے لحاظ سے یہ ایک چھوٹی تنظیم ہے مگر اس کا عزائم پر مبنی ایک ایجنڈا ہے اور وہ مصر ،اسرائیل اور بین الاقوامی مفادات کو نقصان پہنچانا ہے۔یہ پہلی مرتبہ اس وقت منظرعام پر آئی تھی جب اس نے سیناء میں ایک گیس پائپ لائن کو بم دھماکے سے تباہ کرنے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس پائپ لائن کے ذریعے مصر سے اردن اور اسرائیل کو گیس مہیا کی جاتی تھی۔

اس کے بعد اس نے سیناء سے سرحد پار اسرائیل کے سیاحتی قصبے ایلات پر راکٹ حملہ کیا تھا۔اس نے سرحدی علاقےمیں اسرائیلی فوج کی ایک گشتی پارٹی پر بھی حملہ کیا تھا۔ان حملوں سے اسرائیل اور مصر کے درمیان پُرامن سرحد کے لیے پہلی مرتبہ سنگین خطرات پیدا ہوگئے تھے۔مؤخرالذکر کی جزیرہ نما سیناء اور اس سے ماورا دوسرے علاقوں میں عمل داری اور اہم اقتصادی مفادات کو سنگین خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔مصر یا اسرائیل دونوں ہی ان تزویراتی خطرات کے ہوتے ہوئے خاموش تماشائی نہیں بنے رہ سکتے تھے۔

مزاحمت یا دہشت گردی

مقامی بدّو قبائل نے مقامی سطح پر جو مزاحمت شروع کی تھی،اس کو برسوں تک مبارک حکومت نے دبائے رکھا تھا لیکن یہ بعد میں ایک بین الاقوامی مظہریت اور مسئلے کی شکل اختیار کرگئی ہے۔اس تنظیم نے اپنے حملوں کا دائرہ کار بڑھا دیا اور اس نے قاہرہ اور جیزہ میں بھی حملے کیے اور دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اکتوبر 2015ء میں شرم الشیخ کے ہوائی اڈے سے اڑنے والے ایک روسی طیارے میں بھی بم نصب کردیا۔اس کے پھٹنے سے طیارہ سیناء ہی میں گر کر تباہ ہوگیا اور اس میں سوار تمام 224 افراد لقمۂ اجل بن گئے۔

ان حملوں سے بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ شور وغوغا ہوا اور مصر کی سیاحت کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا۔ان حملوں اور اقدامات کے جواب میں مصر اور اسرائیل کی جانب سے مناسب اور مربوط ردعمل ناگریز ہوگیا تھا اور ان کے لیے اس کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں تھا۔نتیجتاً دونوں ممالک کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے انٹیلی جنس اور فوجی تعاون بڑھا دیا۔

ان دونوں ملکوں کے لیے انصار بیت المقدس یا داعش کا صوبہ سیناء ایک براہ راست خطرہ ہے۔اس سے ان کے وسیع تر تزویراتی مفادات کو بھی خطرات لاحق ہیں۔مصری حکومت اخوان المسلمون کے خلاف جاری جنگ کے ساتھ ساتھ جزیرہ نما سیناء میں بھی باقی ملک کی طرح اپنی عمل داری قائم کرنا چاہتی ہے۔مزید برآں وہ خطے میں انتہا پسند عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں بھی قائدانہ کردار ادا کررہا ہے۔یہ مصر کی معیشت اور خاص طور پر اس کی سیاحتی صنعت کے لیے بھی اہم ہے کہ وہ دہشت گردی پر قابو پائے۔

اسرائیل نے مصر کے ساتھ اپنی سرحد کو مزید مضبوط بنا دیا ہے۔اس نے 240 کلومیٹر طویل سرحد کو کنکریٹ کی رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا ہے۔اس کا ایک مقصد جنگجوؤں کی دراندازی کو روکنا اور دوسرا مقصد سوڈان ، ایتھوپیا اور اریٹریا سے پناہ کی تلاش میں آنے والے کو بھی اسرائیلی علاقے میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔دونوں ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ فلسطینی حماس تحریک کے سیناء میں موجود انتہا پسندوں سے قریبی تعلقات ہیں۔وہ اس تعلق کو توڑنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ موجودہ سیاسی صورت حال اور خطرات کو مزید بڑھاوا دینے سے بھی بچنا چاہتے ہیں۔

اسرائیل اور مصر کے درمیان طے شدہ امن معاہدے کے تحت سکیورٹی انتظام کا اہم ستون یہ تھا کہ جزیرہ نما سیناء کو غیر فوجی علاقہ برقرار رکھا جائے گا۔یہ کسی اچانک حملے کے خلاف ایک بفر زون ہوگا۔اسرائیل کی جانب اس اصول کو نظرانداز کرنے کا ایک ثبوت اب یہ سامنے آچکا ہے کہ اس کو اپنی جنوبی سرحد کے ساتھ داعش سے وابستہ گروپ کی موجودگی پر گہری تشویش لاحق ہے۔

اسرائیل نے ہمیشہ مصر کے اچانک حملے سے متعلق اپنے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔جزیرہ نما سیناء کا وسیع وعریض علاقہ ریاست اسرائیل کے حجم سے تین گنا بڑا ہے۔اس لیے اسرائیل نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ اس کو دونوں ملکوں کے درمیان غیر فوجی علاقہ ہونا چاہیے۔تیس سال سے زیادہ عرصے کے بعد مصر نے اسرائیل کی مکمل رضامندی سے اپنی زمینی دستے علاقے میں تعینات کردیے ہیں اور اس کے لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹر بھی فضا میں اڑ رہے ہیں۔ان دونوں ملکوں نے جب امن معاہدے پر دستخط کیے تھے تو انھوں نے آج درپیش ہونے والے اس خطرے کے بارے میں سوچا بھی نہیں ہوگا۔

مصر اور اسرائیل کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ وہ جزیرہ نما سیناء میں داعش کے خطرے پر قابو پائیں لیکن صرف تنہا فوجی قوت سے ان انتہا پسند اور دہشت گرد تحریکوں کے وجود کو برقرار رکھنے کے بنیادی اسباب اور ان کے معرض وجود میں آنے کے لیے زرخیز زمین کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے اور نہ ایسا ہوگا۔
__________________________
(یوسی میکل برگ رائل انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی امور چیتم ہاؤس لندن میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا پروگرام کے ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔وہ عالمی تنازعات کے حل اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے پروگرام سے وابستہ ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے