ترکی میں کسی نے یہ نہیں کہا کہ آئندہ فوجی بغاوت برداشت نہیں کریں گے ، یہ بھی نہیں کہا کہ آئندہ کسی کو فوجی بغاوت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس طرح کے بیانات صرف پاکستان میں چلتے ہیں، اور ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گرد ہم سے اجازت لے کر یا ہمارے پیمانہ صبر کو دیکھ کر اگلا دھماکہ کریں گے۔

ترکی میں پندرہ جولائی کی شب ایک حادثہ ہوتے ہوتے رہ گیا، واقعات کے مطابق فوج کے ایک گروپ نے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی جوناکام ہو گئی۔ ترکی میں یہ پہلی فوجی بغاوت نہیں تھی۔ لیکن پہلی ناکام بغاوت ضرور تھی اور ترک حکومت کوشش کر رہی ہے کہ یہ فوجی بغاوت کی آخری کوشش ہو۔

اس کے لئے ترک حکومت نے احتساب کا کوڑا پندرہ جولائی کی رات ڈھلتے ہی اٹھا لیا تھا ، بلکہ دوران بغاوت لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے فوج کے باغیوں کا مکو ٹھپ دیا تھا، ان کی وردیاں پھاڑ دی تھیں اور ان کی ننگی پیٹھ پر سر عام ریپٹے برسائے تھے۔ ترک صدر نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ باغیوں سے جی بھر کے انتقام لیں گے۔

ترک وزیر انصاف کے بقول فوری طور پر بیس ہزار افراد کو نظر بند کیا گیا ہے۔ ان پر شبہ تھا کہ وہ ناکام فوجی بغاوت میں ملوث تھے۔ ترک وزیر داخلہ نے بتایا کہ نظر بند کئے جانے والے بیشتر افراد کا تعلق فوج سے ہے جن میں ایک سو اٹھہتر کے قریب جرنیل کے عہدے کے فوجی ہیں۔ایک اعلان کے مطابق ان میں سے چار ہزارافراو کو رہا کر دیا گیا۔

ان نظر بندیوں کے علاوہ سولہ ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور مزید چھ ہزارا فراد کو پولیس کی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
ترک حکومت نے فوجی انٹیلی جنس کا محکمہ بند کر دیا ہے اور 5226 انٹیلی جنس افسروں کو حوالات کی راہ دکھا دی گئی ہے اور 151 جرنیل اور ایڈمرل بھی قید وبند کا شکار ہیں، یہ تعداد کل جرنیلوں کا ایک تہائی بنتی ہے۔ 1684 وکلا اور جج اور پولیس کے 1019 ملازمین بھی جیلوں کی ہوا کھا رہے ہیں۔ ایک حکومتی اعلان کی رو سے ان میں سے بارہ سو کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ وزیراعظم یلدرم کا کہنا ہے کہ صدارتی گارڈز کا محکمہ توڑ دیا گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بغاوت میں فوج کا 1.5 فی صد ملوث پایا گیا۔ باغیوں نے 35 جیٹ طیارے،37 ہیلی کاپٹر،246 بکتر بند گاڑیاں، تین بحری جہاز اور 3992 ہتھیار استعمال کئے۔

ترک حکومت کا الزام ہے کہ ڈیلی زمان نے گولن کے فلیگ شپ کا کردار ادا کیا، اس پاداش میں اخبار کے اسٹاف میں سے 47 ملازمین کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے جا چکے ہیں۔ متعدد نیوز ایجنسیوں کو بند کر دیا گیا ہے اور نجی ٹی وی چینلز کا گھیرا بھی تنگ کر دیا گیا ہے۔ 24 ریڈیو اور ٹی وی چینلز کے لائسنس منسوخ ہو چکے ہیں۔ ان سب کا قصور یہ بتایا جا رہا ہے کہ وہ گولن کے حاشیہ بردار تھے۔

احتساب کے کوڑے کی زد میں 68 ہزار سرکاری ملازمیں بھی آ گئے ہیں۔ انہیں مختلف ادراوں سے فارغ خطی دے دی گئی ہے۔ ان میں سترہ سو فوجی، ستاسی جنرل، 21738 سرکاری ملازمین ،21029 اساتذہ ، 2745 جج شامل ہیں۔ نوکریوں سے ہاتھ دھونے والوں کا تعلق ہر سرکاری محکمے سے ہے۔جن میں خوراک ۔ زراعت، سوشل ویلفیئر، سائنس، صنعت، ٹیکنالوجی، ٹرانسپورٹ، خزانہ، قدرتی وسائل، کھیل، امور نوجواناں، انرجی اور قدرتی وسائل، جنگلات، آبی وسائل، ترک ایئر لائن، کسٹمز، ماحولیات، ثقافت، سیاحت، بنکنگ، امور خارجہ، افرادی ترقی، شماریات ، اسٹاک ایکسچینج، ہاﺅسنگ، معیشت، سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لوگ برطرف کئے گئے ہیں۔ اگر اس فہرست پر ایک نظر ڈالیں تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ حکومت کے ہر محکمے کی تطہیر کی گئی ہے اور مخالفین کو چن چن کر انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔

ترکی میں دو ہزار ایسے ادارے بالکل بند کر دیئے گئے ہیں جن کا دورو نزدیک سے بھی گولن سے تعلق بنتا ہے۔ ترک جمہوریہ میں ہنگامی حالت نافذ ہے، اور ایک صدارتی فرمان کی رو سے کسی کو بھی بغیر کسی الزام کے تیس روز کے لئے بند کیا جا سکتا ہے۔

صدر اردوان نے بغاوت کی ناکامی کے فوری بعد دھمکی دی تھی کہ باغیوں کو موت کی سزا دی جا سکتی ہے مگر ترک قوانین کی روسے یہ سزا ختم کی جا چکی ہے اور اگر اردوان نے اپنی دھمکی پر عمل کیا تو یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ ترکی کی شمولیت کا مسئلہ کھٹائی کا شکار ہو سکتا ہے۔

یہ سب کچھ ایک جمہوری حکومت کو بچانے کے نام پرکیا جا رہا ہے۔ عام فہم ا لفاظ میں یہ سراسر انتقامی کاروائی ہے جو سیاسی مخالفین کے خلاف کی جا رہی ہے۔عام پکڑ دھکڑ، نوکری سے برطرفی، مقدمے، پیشیاں اور وہ بھی بغیر کسی ثبوت کے، سوال یہ ہے کہ آدھی رات کو ساری لسٹیں کیسے بن گئیں۔ لگتا یہ ہے کہ حکومت کے وفادار اپنے مخالفین پر نظر رکھے ہوئے تھے، ہر محکمے میں ان کی نشاندہی پہلے ہی سے کی جا چکی تھی ا ور کوئی بہانہ درکار تھا کہ ان پر کب تلوار چلائی جائے۔

یہ موقع فوجی بغاوت نے فراہم کر دیا، بعض حلقے کہتے ہیں کہ یہ سب خانہ ساز اور مصنوعی بغاوت تھی تاکہ مخالفین کو ٹھکانے لگایا جا سکے۔ ورنہ دنیا کی کونسی فوجی بغاوت ہے جس میں سب سے پہلے میڈیا، انٹرنیٹ، ہوئی اڈوں ،سرکاری ریڈیو اور ٹی وی، قصرصدارت اور وزیر اعظم ہاﺅس پر قبضہ نہ کیا جائے، جبکہ ترک باغی اس بانکے نکلے کہ پورے ملک کے ٹی وی چینلز کام کرتے رہے، اور صدر اردوان کی یہ اپیل نشر کرتے رہے کہ لوگو، باہر نکلو اور بغاوت کو ناکام بنا دو، یہ بھی انوکھی بات ہے کہ عام لوگوں نے فوجی افسروں کی وردیاں پھاڑیں اور انہیں سر عام کوڑے مارے۔

کیا واقعی یہ مار کھانے والے فوجی افسر تھے یا کوئی مسخرے۔ جنرل مشرف کی بغاوت کے دروان پی ٹی وی کی عمارت میں ایک بریگیڈیئر نے فوجیوں سے ضرور ہتھیار پھینکوائے مگرا س کا بھی یہ کہنا تھا کہ وہ ایک سینیئر افسر ہے اور ایک میجر کی کمان میں ٹرپل ون بریگیڈ کی پلٹن اس کے احکامات ماننے کی پابند ہے، پاکستان میںا س ایک لطیفے کے سوا کبھی کوئی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی۔ تو ترک باغی فوجیوں اور ان کے افسروں نے وردیاں کیسے اتروا لیں اور مار کیسے کھا لی۔

ترک حکومت بہر حال اپنے آپ کو مستحکم اور محفوظ بنانے کا حق رکھتی ہے اور اسی لئے اس نے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو گرفتار بھی کیا ہے اور نوکریوں سے بھی نکال دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان سب افراد کو گولن کے پیرو کار ہونے کی سزا دی گئی ہے مگر ابھی تک ترک حکومت یہ ثابت نہیں کر سکی کہ بغاوت کے پیچھے گولن کا ہاتھ ہے، ترکی نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ گولن کو اس کے حوالے کرے مگر امریکہ نے اس بات کاکوئی ا ثر نہیں لیا۔

ترک حکومت اپنے مخالفین کا تعاقب صرف ترکی ہی میں نہیں بیرونی دنیا میں بھی کر رہی ہے، اب تک پاکستان واحد ملک ہے جس پر اردوان کا حکم چل سکا ہے اور اس نے ترک اسکولوں کے سبھی پرنسپل فارغ کر دیئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ پرنسپل ترک حکومت کے ملازم تھے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان خدا نخواستہ ترکی کی باجگزار ریاست ہے۔

بہر حال انتقام اور احتساب کا یہ نیاماڈل ہے جو ترکی نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے