عراق کے آنجہانی صدر صدام حسین 1980ء میں اس احمقانہ سوچ کے اسیر تھے کہ آیت اللہ روح اللہ خمینی کی ایوان اقتدار میں واپسی کے وقت ایران جس افراتفری کا شکار رہا ہے وہ بغداد کی جنگ میں کامیابی کی راہ ہموار کرے گی۔ اسی اعتماد کے زیر اثر صدام حسین نے ایران پر عراقی حملہ روکنے کی تمام بین الاقوامی اپیلوں کو مسترد کر دیا تھا۔

عراق کے ایران پر حملے کے تین برس بعد، تہران نے عراقیوں کو مغربی ایران سے بیدخل کر دیا۔ بین الاقوامی مصالحت کاروں نے دونوں ملکوں کو جنگ روکنے پر آمادہ کرنے کی بہت کوششیں کیں تاہم اس مرتبہ تہران نے ان اپیلوں پر کان دھرنے سے انکار کر دیا۔ اگلے پانچ برسوں میں جنگ کی حدت مزید تیز ہو گئی جس کے باعث تہران کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

اس ہزیمت کے باوجود مذہبی پیشواوں نے مصالحت کی اپیلیں مسترد کر دیں کیونکہ اپنے تیئں وہ سمجھتے تھے کہ فتح دراصل مزید قربانیوں کی متقاضی ہے، اس لئے انہوں نے بچوں کو بھی اس جنگ میں جھونک دیا۔ تاہم جنگ میں مرنے کے لئے ہر دم تیار رہنے سے زیادہ فوجی برتری ہوتی ہے۔ عراقی فضائیہ نے ایرانی بری فوج کا خوب مقابلہ کیا، جس کے باعث 1988ء میں خمینی کو جنگ ختم کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔

حیلے اور بہانے

آج عراق کوا یران کی جانب سے ایک دوسری جنگ کا مرحلہ درپیش ہے جس میں تہران اپنے امیر ہمسایہ ملک پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے وہی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے جسے شام کے مرحوم صدر حافظ الاسد نے اپنے ہمسایہ ملک لبنان کا کنڑول حاصل کرنے کےروبعمل لائے۔ مشرق وسطی کے پیرس کو مبینہ خانہ جنگی سے بچانے کے لئے حافظ الاسد نے لبنان پرچڑھائی کی۔ مرحوم رہنما کا خیال تھا کہ وہ ایسا کر کے لبنان کو اسرائیلی محاذ آرائی سے بھی بچا سکیں گے۔ حقیقت حال اس کے برعکس تھی۔ شام، لبنان کو اپنا باجگزار بنا کر اس کے وسائل پر ہاتھ صاف کرنا چاہتا تھا اور بعد میں ایسا ہی ہوا۔

عراق کو دولت اسلامیہ عراق و شام المعروف داعش سے بچانے کے بہانے ایرانی پاسداران انقلاب کے بیرون ملک آپریشنز کے نگران ادارے القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی بغداد کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے عراق میں لاو لشکر سمیت جا گھسے ہیں۔ عراق کے فیصلہ سازی معاملات ایرانی مداخلت سے پیدا ہونے والی صورتحال سے بغداد مکمل طور پر آگاہ ہے۔ لبنانی قیادت کے علی الرغم عراقی رہنما باہمی تنازعات کے باعث اس ساری صورتحال میں عملاً کچھ کرنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتے۔

سابق عراقی وزیر اعظم نوری المالکی جیسے دیگر سیاسی رہنما کسی بھی قیمت پر دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے بغداد کی مرکزی حکومت کو کمزور کرنے کی شعوری کوششوں میں مصروف ہیں۔ دو برس قبل عراق میں وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے والے حیدر العبادی کو کام کرنے نہیں دیا جا رہا۔ نوری المالکی اور ایران جیسے فریقوں نے احتجاجی مظاہروں اوردھمکیوں کے ذریعے عراق میں افراتفری بپا کر رکھی ہے جس کی وجہ سے کوئی حکومت کام نہیں ہو پا رہا۔

اقتدار کی رسہ کشی

ایران نے عراق میں انتہا پسند تنظیموں پر مشتمل پاپولر موبائلزیشن یونٹس [الحشد الشعبی] نامی ملیشیا بنا کر انتہائی خطرناک کام کیا ہے۔ اس ملیشیا میں "وعد الله فورسز"، "عصائب الحق"، "الجهاد بریگیڈز"، "عاشوراء بریگیڈز" اور "العباس بریگیڈز" جیسی انتہا پسند مذہبی تنظیمیں شامل ہیں۔ یہ عراق میں سرگرم سنی القاعدہ اور داعش کی طرح شدت پسند تنظیمیں ہیں جو سنی قصبات کو آگ لگا کر اور بے خاماں عراقیوں کے قتل جیسے فرقہ وارانہ جرائم کا ارتکاب کر رہی ہیں۔

ایران الحشد الشعبی ملیشیا کے ذریعے عراقی فوج کو غیر موثر کرنے کا کام لے رہا ہے۔ سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے عراقی وزیر دفاع خالد العبیدی اپنی ہی ہم مسلک دوسرے رہنماؤں خلاف نبرد آزما ہیں۔ موصل سے تعلق رکھنے والے خالد العبیدی کا کردار ٹی وی بیانات کی حد تک رہ گیا ہے۔ وہ عملی طور پر بے اختیار وزیر دفاع ہیں۔

بعض لوگ سمجھتے ہوں گے کہ غیر مستحکم عراق میں ایران کی پکے پاؤں موجودگی پر شیعہ اکثریتی آبادی کو کوئی سروکار نہیں، ایسا ہر گز نہیں ہے۔ شیعہ اکثریت ملک چلا رہی ہے اور اسے کسی غیر ملکی طاقت کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ خود ایک غالب قوت کے طور پر عراق میں موجود ہیں۔

مقتدی الصدر، عمار الحکیم اور حیدرالعبادی کو تہران کی کیونکر ضرورت ہو گی؟ داعش کا مقابلہ کرنے کے لئے؟ امریکا انہیں لاجسٹک اور انٹلیجنس امداد دیتا ہے اور زیادہ تر لڑائی خود عراقی لڑ رہے ہیں۔ کیا ایران پیشہ دے رہا ہے؟ تمام تر افراتفری کے باوجود عراق کی مالی حالت ایران سے بہتر ہے۔ بغداد زیادہ تیل برآمد کرتا ہے۔

ایرانی انٹلیجنس کی سرگرمیوں ، عراق میں پاسداران انقلاب کی روز بروز بڑھوتری اورتہران کی بغداد کے داخلی معاملات میں نت نئی مداخلت نے عراق اور ایران کے درمیان تصادم کا خطرا بڑھتا جا رہا ہے۔

ایرانی فوج اور مذہبی پیشواؤں کی ہوس اقتدار اب سرحدوں سے باہر نکلنے لگی ہے۔ ماضی میں وہ اس خواہش کو پراکسی وار کے ذریعے پورا کیا کرتے تھے، تاہم شام اور عراق کی صورت میں اب وہ براہ راست مداخلت کر رہے ہیں جبکہ یمن اور لبنان میں بلواسطہ جنگ کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال مزید نہیں چل سکتی۔ عراق میں ایرانی غلبہ حاصل کرنے کی خواہش کا سب زیادہ نقصان وہاں کے شیعہ مسلک عوام کو پہنچ رہا ہے کیونکہ سنی قوت تو پہلے ہی اس کھیل سے باہر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"العربیہ" کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے