پاکستان میں سابق استعماری حکمراں (کالونیل قوت) برطانیہ کے طرز پر ایک پارلیمانی جمہوریت ہے۔اس میں ریاست کے سربراہ کو علامتی اختیارات حاصل ہیں اور تمام اختیارات پارلیمان کے پاس ہیں لیکن فی الوقت تو یہ انتظام ملک کی بہتر طور پر خدمت نہیں کررہا ہے۔

برطانیہ کی طرح پارلیمانی نظام کا ادارہ جاتی جمود اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اختیارات بڑی جماعتوں کے منتخب نمائندوں کو حاصل ہیں۔بعض حوالوں سے یہ ایک اچھی چیز ہے۔مثال کے طور پر برطانیہ میں اس نظام کے تحت بریگزٹ کے ریفرینڈم کے بعد انتقال اقتدار کا عمل احسن طریقے سے انجام پایا ہے اور سابق وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنی جانشین تھریسا مے کو اقتدار سونپ دیا تھا۔

سیاسی اتھل پتھل کے وقت اس نظام کے ذریعے قیادت کی تبدیلی کا یہ عمل بڑی سرعت سے انجام پایا اور اقتدار اس کو سونپ دیا گیا جس کو اہل اور محفوظ ہاتھوں کا حامل سمجھا گیا۔اس نظام کے تحت بالعموم جو قابل اعتماد اور موثر ہو اور جو دوسری صورت میں قیادت کے منصب پر فائز نہ ہو سکے،تو وہ برسراقتدار آجاتا ہے۔اب برطانیہ بریگزٹ مذاکرات پر توجہ مرکوز کرسکتا ہے اور ان ہی سے عشروں تک اس کے مستقبل کا تعیّن ہوگا۔

لیکن اسی طرح کا ادارہ جاتی جمود ،جس کے تحت اختیارات اعلیٰ سیاسی قیادت تک مرتکز ہوجائیں،اس وقت زیادہ مثبت نہیں رہتا،جب حکومت اور ریاست کے بیشتر شعبوں پر کنٹرول سیاسی جماعتوں کی ایسی اعلیٰ قیادت کا ہو جو دائمی طور پر بدعنوان ہو۔پارلیمانی نظام نے پاکستان کو بار بارعشروں کے فوجی اقتدار کے بعد سیاسی استحکام بخشا ہے۔

لیکن یہ استحکام بھی بھاری قیمت چکانے کے بعد حاصل ہوا ہے اور یہ بھاری قیمت یہ ہے کہ ملک کی اعلیٰ سیاسی کلاس مؤثر احتساب سے ماورا ہے۔اس نظام نے فوج کے لیے سویلین حکومت کو اقتدار سے ہٹانا زیادہ مشکل بنا دیا ہے لیکن اس نے عوام کے لیے برسراقتدار حکومت کو چیلنج کرنا اور اس کا احتساب کرنا بھی مشکل تر بنا دیا ہے۔

اگر نئی تحریکیں یا جماعتیں میدان میں داخل ہونا چاہتی ہیں اور ملک کو چلانے کے لیے ایک متبادل وژن پیش کرنا چاہتی ہیں تو انھیں عشروں تک کام کرنا ہوگا۔بالکل برطانیہ کی طرح جہاں لیبر پارٹی مزدور تحریک کے بطن سے معرض وجود میں آئی تھی اور اس نے برطانوی پارلیمان پر حقیقی اثرات مرتب کیے تھے۔

کیا وقت گزرا جارہا ہے؟

پاکستان زیادہ عرصے تک انتظار نہیں کرسکتا ہے۔یہ بدعنوانیوں ،بد انتظامیوں حتیٰ کہ تمام سطحوں پر انتظامی نااہلیوں سے لتھڑا ہوا ہے۔ پارلیمانی نظام کو وراثتی استحکام بخشنے کے لیے اعلیٰ مراتب پر فائز صاحبان اقتدار پر بہت تھوڑا دباؤ ہے اور اس بات کا بھی بہت کم امکان ہے کہ انھیں کسی مؤثر طریقے سے ہٹایا جاسکے گا۔

پارلیمانی نظام کے تحت ہر سیاسی جماعت کم وبیش ہر حلقۂ انتخاب میں سیکڑوں امیدوار میدان میں اتارتی ہے لیکن نسل درنسل آنے والے سیاست دان کوئی زیادہ اہل اور ذہین وفطین نہیں ہوتے ہیں بلکہ ان میں زیادہ تر وہ ہوتے ہیں جن کے ارباب اقتدار کے ساتھ خاندانی تعلق اور گہرے مراسم استوار ہوتے ہیں۔اس کی عکاسی ملک میں اقربا پروری کے گہرے مسئلے سے ہوتی ہے۔

ان حالات میں یہ مضبوط دلیل موجود ہے کہ معاملات کو ازسرنو استوار کیا جائے۔اعلیٰ قیادت کی کارکردگی اسی وقت بہتر ہوگی جب عوام ان کا احتساب کرسکیں گے۔یعنی جب ان کی سیاسی قیادت خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرے یا یہ ثابت ہوجائے کہ وہ بدعنوان ہوں تو پھر وہ انھیں ہٹا سکیں۔

بہ الفاظ دیگر یہ بھی دلیل دی جارہی ہے کہ ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام کی جگہ براہ راست احتساب کے حامل جمہوریت کے صدارتی نظام کو رائج کیا جائے کیونکہ اس میں ریاست کی انتظامی شاخ مقررہ وقفے مثلاً چار یا پانچ سال کے بعد براہ راست جمہوری عوام کو جواب دہ ہوتی ہے۔

یقیناً زیادہ اختیار زیادہ ذمے داری بھی ڈالتا ہے۔یہاں جمہوری عوام کے معیار کا بھی سوال پیدا ہوتا ہے جو احتساب کرتے ہیں۔صدارتی نظام کے تحت ہی ڈونلڈ ٹرمپ ایسے لوگ امریکا میں میدان میں آئے ہیں اور فرانس میں میرین لی پین کو اپنے ملک کا اقتدار سنبھالنے کا موقع ملا تھا۔

اپنے لیڈر کو براہ راست منتخب کرنے کا اختیار کا حامل ہونے کی صورت میں یہ ضروری نہیں کہ عوام سب سے قابل شخص ہی کو منتخب کریں یا وہ ملک کے لیے سب سے زیادہ بہترلیڈر ہی کو منتخب کریں۔وہ ایسے سیاست دان منتخب کرسکتے ہیں جس کو وہ زیادہ پسند کریں یا وہ ٹیلی ویژن پر بھلا نظر آئے یا جو قوم کو درپیش حقیقی یا خیالی خطرات پر زیادہ کامیابی سے غصے اور خطرے کی گھنٹی بجاسکے۔

ملک میں نظام کے حوالے سے حقیقی خدشات موجود ہیں اور انھیں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ہر گزرتے سال کے ساتھ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ کی جانب سے بد انتظامی نے خطرات کے باوجود متبادل نظام کی تجویز کو زیادہ قابل قدر اور قابل توجہ بنا دیا ہے اور اس پر غور کیا جانا چاہیے۔

----------------------------------------

ڈاکٹر عظیم ابراہیم مینزفیلڈ کالج ،آکسفورڈ یونیورسٹی کے فیلو اور امریکی آرمی وار کالج کے اسٹریٹیجک اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ میں تحقیق کے پروفیسر ہیں۔انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی تھی۔ان سے ٹویٹر پر اس پتے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے:
@AzeemIbrahim

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے