امریکیوں اور دنیا کے لیے سچ کے لمحے کا فیصلہ 8 نومبر کو ہوگا۔آیندہ ہفتوں کے دوران ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان انتخابی مہم کا جنون اپنے عروج پر پہنچ جائے گا۔امریکا میں تمامم سابقہ صدارتی مہموں کے برعکس یہ مہم زیادہ شدید اور سفاکانہ نظر آتی ہے۔

الزامات عاید کیے جارہے ہیں ،بلند آہنگ غوغا آرائی کی جارہی ہے۔حتیٰ کہ امیدواروں کی ذاتی دیانت پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ٹیلی ویژن سکرینیں ایک طرح سے شمشیر زنی کا منظر پیش کررہی ہیں۔دونوں امیدواروں نے اپنے اپنے حامیوں کی اس فعل کے لیے حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے گلے کو آئیں۔

اس تمام انتخابی مہم کو دیکھیں تو ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کسی سرکس کی پہلے قطار میں بیٹھے ہوں۔ٹرمپ اپنے فن کا بھرپور مظاہرہ کررہے ہیں۔وہ دوسروں کی کسی شرم وحیاء کے بغیر توہین کررہے ہیں۔ وہ جوکر کا کردار ادا کررہے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ان کے لیے کچھ لوگ لڑرہے ہیں اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے اور انتخابات میں کامیاب نہیں ہوتے ہیں تو انھیں مایوسی ہوگی۔

کیا وہ سودائی ہیں؟ ایک خلیجی شہری نے سوال کیا؟ ''وہ چیخم دھاڑ کیوں کرتے ہیں؟'' ایک اور نے اپنی حیرت کا اظہار کیا۔ ٹرمپ پانچ روزتک مسلم امریکی خضرخان کا ٹھٹھا اڑاتے رہے۔خضر خان کا بیٹا امریکی فوج کی جانب سے لڑتا ہوا عراق میں مارا گیا تھا۔ٹرمپ ظالم اور غیر حساس بن گئے اور اس کا خمیازہ انھیں یہ بھگتنا پڑا ہے کہ وہ عراق جنگ لڑنے والے بہت سے سابق فوجیوں کی حمایت سے محروم ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب ہلیری کلنٹن انتخابی دورے پر نکلیں۔وہ ممکنہ ووٹروں کے ایک وسیع گروپ سے اقتصادی اپیلیں کررہی تھیں مگران میں سے بیشتر نے ان کے بارے میں ان کے ماضی کے اسکینڈلوں کی وجہ سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ان میں بن غازی ،ای میلز اور غیرشناختہ ذرائع سے رقوم کے حصول کا اسکینڈل شامل ہیں۔ان کے بارے میں بیشتر کا خیال ہے کہ یہ رقوم عرب ممالک سے آئی تھیں۔

مضحکہ اڑانے کا موقع

ڈونلڈ ٹرمپ اپنی حریف ہلیری کلنٹن کا مضحکہ اڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جبکہ مس کلنٹن امریکا میں آباد مختلف نسلی گروپوں سے اپیلیں کررہی ہیں جو مسٹر ٹرمپ کی نفرت پر مبنی غوغا آرائی کی وجہ سے پشیمان ہیں کیونکہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس نفرت کے نتیجے میں مسلمانوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔13 اگست کو نیویارک میں ایک مسجد کے پیش امام اور ان کے نائب کو دن دہاڑے گولی مار کر قتل کردیا گیا۔

ایک اور واقعے میں ایک لبنانی عرب مسیحی کو گرجا گھر جاتے ہوئے بالکل نزدیک سے گولی مار دی گئی اور اس کو گولی مارنے والے حملہ آور نے ''گندے عرب'' کا نعرہ لگانا بھی ضروری خیال کیا۔بہت سے سکھوں پر بھی حملے کیے گئے ہیں اور انھیں محض ان کی پگڑیوں کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔اوہائیو کے ایک ہوٹل میں ایک اماراتی کو محض اس کی میزبان کلرک کی شکایت پر پولیس نے دھر لیا اور تشدد کا نشانہ بنایا حالانکہ اس خاتون کے ساتھی ملازمین کا یہ کہنا تھا کہ وہ اونچا سنتی تھی لیکن اس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اس شخص کی داعش کی بیعت کا اظہار کرتے ہوئے سنا تھا۔

مسلم مسافروں کو طیاروں کی عین اڑان کے وقت نیچے اتارنے کے بہت سے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ ایک واقعے میں ریاضی کے ایک نوجوان اطالوی پروفیسر کو کھینچ کر طیارے سے اتار دیا گیا تھا کیونکہ ان کے ساتھ بیٹھا مسافر پروفیسر صاحب کے اپنے نوٹ پیڈ پر پُراسرار کام کی وجہ سے خوف زدہ ہوگیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی معاشرے میں پیرانویا اور ژینو فوبیا کی سطح بڑھا دی ہے۔آیندہ کیا ہوگا،اس کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا۔

''اس سب کچھ کا خلیج کے لیے کیا مطلب ہے؟'' ایک طالب علم نے سوال کیا۔''کیا واقعی ہماری کوئی اوقات نہیں ہے''۔ایک اور نے جواب دیا۔ہلیری کلنٹن نے بالکل آغاز میں اسرائیل کو خراج تحسین پیش کیا اور اسرائیلی لابی کے آگے جھکی جارہی تھیں لیکن اب وہ ٹرمپ کے حملوں کا مقابلہ کررہی ہیں اور انھیں ہمارے متعلق سوچنے کی کوئی کوئی فرصت نہیں ہے۔

جو کوئی بھی انتخاب میں کامیاب ٹھہرے گا،اس کو ہمارے مفادات کے بارے میں سوچنے کا کوئی وقت نہیں ہوگا اور وہ ماضی میں عرب دنیا کے ممالک کے ساتھ تعلقات کا بھی کچھ خیال نہیں کریں گے۔

امریکی سیاست دان اس وقت بڑے مثبت ہوتے ہیں جب ان کے اپنے مفادات کا معاملہ ہوتا ہے اور یہ تیل ،سیاسی اور اقتصادی بالادستی اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو مضبوط بنانا ہے۔وہ ان سے زیادہ کچھ نہیں سوچتے ہیں۔

اگر ہم اس کے علاوہ کچھ اور سوچتے ہیں تو یہ ایک احمقانہ مشق ہوگی۔جو کوئی بھی وائٹ ہاؤس کے تخت پر بیٹھے گا ،وہ اپنے ہی ایجنڈے پر عمل پیرا ہوگا۔اس لیے میرے پیارے عرب دوستو! اس کے سوا کسی اور چیز کے بارے میں کوئی کوئی قیافے نہ لگائیں۔ہم کبھی امریکا کی راڈار سکرین پر تھے اور نہ آیندہ کبھی ہوں گے۔

-------------------------------
کہنہ مشق، تجربے کار صحافی اور تجزیہ کار خالد المعینا سعودی گزٹ کے ایڈیٹر ایٹ لارج ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ان سے ان پتوں پر برقی مراسلت کی جاسکتی ہے۔
kalmaeena@saudigazette.com.sa اور Twitter: @KhaledAlmaeena

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے