ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی کے بعد، جماعت اسلامی پاکستان نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ وہ خطے اور دنیا کا تجزیہ کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔ وسط جولائی میں ترکی میں آئینی حاکمیت اور عوامی حاکمیت کے سیاسی نظریے کے خلاف عسکری حکمرانی کے لیے مہم جوئی ہوئی، اس کے بعد پاکستان میں جماعت اسلامی نے اس کو کفر اور اسلام کی جنگ قرار دے کر ’’لبرل قوتوں کی شکست‘‘ قرار دے دیا۔ کیا جماعت اسلامی اپنے حامیوں اور سارے پاکستانیوں کو شعوری طور پر گمراہ کر رہی ہے یا اُن میں اتنی اہلیت ہی نہیں سمجھنے کی کہ ترکی میں کیا ہورہا ہے۔ اس عمل میں صرف جماعت اسلامی ہی شامل نہیں بلکہ دیگر مذہبی جماعتیں اور چند ایک دانشور بھی پیش پیش ہیں جو اسے کفرو اسلام کی جنگ قرار دے رہے ہیں۔

حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ ترکی میں ایسی کوئی بحث ہی نہیں۔ جن پر بیت رہی ہے، جو اس جدوجہد میں شامل ہیں، ترک عوام اور سیاسی جماعتیں، ان کے ہاں یہ بحث ہی نہیں۔ یقین جانیں پورے ترکی میں گلی گلی محلے محلے میں ملت، قوم، جمہوریت، عوامی حاکمیت، وطن، ترک عوام اور اس کے اقتدار کے حوالے سے فوجی آمریت کے بینر لگے ہیں۔ کسی پر بھی یہ نہیں لکھا کہ سیکولرازم، کمال ازم، لبرل ازم، ڈیموکریسی کو شکست دے دی گئی اور اسلام فتح یاب ہوا۔ لوگ مسلمان ہیں مگر سیاست میں اسلام مسئلہ ہی نہیں۔ اور اہم بات یہ ہے کہ اردوآن کی جماعت AKP سے بڑھ کر اپوزیشن جماعتیں، جن میں وہ جماعتیں بھی شامل ہیں جو پارلیمنٹ میں نہیں، اس بغاوت کی ناکامی کا جشن منا رہی ہیں۔ اس کو لبرل ازم کی شکست اور اسلام کی فتح قرار نہیں دیا جارہا۔ اور اہم اور شاندار بات یہ ہے کہ اسے صدر طیب اردوآن کی فتح نہیں بلکہ عوامی حاکمیت کی فتح قرار دیا جا رہا ہے اور اس میں ایسی جماعتیں زیادہ متحرک ہیں جو ترک قوم پرستی اور کمال ازم کے حوالے سے زیادہ Concerned ہیں۔

جس بحث اور فتح کا تصور دے کر جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی اور دانشور حلقے پاکستان میں جشن منا رہے ہیں، وہ یہاں کا موضوع ہی نہیں۔ یہی وہ بحث ہے جو 1923ء میں ترکی کو Republic قرار دینے میں مکمل ہوئی کہ کسی شخص کی حاکمیت (نام نہاد خلافت) کی بجائے عوامی حاکمیت۔ صدر طیب اردوآن اور اُن کی حکومت کی طرف سے 15جولائی کی بغاوت کے بعد جو سب سے بڑا نعرہ سڑکوں پر، دیواروں پر، میڈیا پر چھایا ہوا ہے، وہ ہے ’’حاکمیت عوام کی‘‘۔ اور میں پھر دہراؤں گا کہ اسے کسی فرد کی کامیابی نہیں کہ صدر طیب اردوآن کی فتح قرار دیا جائے بلکہ اسے ترک ملت کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

جماعت اسلامی پاکستان کے سیاسی نظریے میں ترک ملت، قومیت، وطن، عوامی حاکمیت اور ایسے دیگر سیاسی نظریے سیاسی کفر تصور کیے جاتے ہیں۔ میں یہاں یہ بھی کھل کر کہنا چاہتا ہوں کہ ترک عوام کا تجربہ آئینی جمہوریت کی کامیابی میں ہے، اسی لیے وہ نام نہاد خلافت اور سلطانی نظام کی بجائے ایک سیکولر جمہوریت کی طرف گامزن ہیں۔ اُن کا نوے سالہ سیاسی سفر ایک بار پھر اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ عوام کی حکمرانی، ووٹوں سے چناؤ، سیکولرازم، ترک ملت اور اتاترک اُن کی سیاسی جدوجہد کا حاصل ہیں۔ پورے ترکی میں بغاوت کی ناکامی کے بعد جشن میں اِن نعروں کے ساتھ ساتھ جو اوپر درج ہیں، ترک جھنڈا اور ترکیہ جمہوریہ کے بانی اتاترک کی تصاویر نمایاں ہیں۔ کوئی اور جھنڈا، کسی جماعت کا جھنڈا نہیں اور کوئی تصویر نہیں اتاترک کے بغیر۔ ترکوں نے سیاست اور مذہب کا معاملہ ہم سے بہت پہلے طے کرلیا تھا۔ اسی لیے وہ سیاست میں بھی کامیاب ہوئے اور مذہبی حوالے سے بھی۔

جماعت اسلامی والے پاکستان میں بھنگڑے ڈالتے ہوئے مجھے ’’عبداللہ دیوانے‘‘ لگے۔ صدر طیب اردوآن، حکومت، ترک ریاست اور تمام سیاسی جماعتیں اس ناکام بغاوت کی ذمہ داری مذہبی مفکر فتح اللہ گُلین پر ڈال رہے ہیں اور اس حوالے سے ترک ریاست فتح اللہ گلین کی تنظیم ’’خدمت‘‘ اور اُن کے کارکنوں کے خلاف بڑا آپریشن کررہی ہے جن کا تعارف ہی مذہب ہے۔ ترک انتظامیہ اس تنظیم اور اس کے حامیوں کی کمر توڑنے میں دن رات ایک کررہی ہے کہ یہ ریاست کے اندر ریاست بنا کر ترکی میں اپنا نظریہ ٹھونسنا چاہتے ہیں اور ہمارے وطنِ عزیز کے یہ لاتعداد دانشور اور جماعت اسلامی بھنگڑے ڈال رہے ہیں۔

جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی جس کے سابق وزیراعظم و وزیرخارجہ احمت دعوت اولو کے کہنے پر ترکی نے خطے کی مذہبی قوتوں کو سپورٹ کرکے اپنی خارجہ پالیسی میں مذہب کو ایک عنصر کے طور پر شامل کیا تھا، اس خارجہ پالیسی کی ناکامی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ اُن کو چند ماہ قبل وزارتِ عظمیٰ سے سبکدوش کردیا گیا، یعنی اُن کی خارجہ پالیسی ناکام ثابت ہوئی جس نے ترکی کو آگ کے الاؤ میں دھکیلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور ترکی کو روس کے ساتھ جنگ کے قریب کھڑا کردیا۔ صدر طیب اردوآن نے AKP کی اس ناکام خارجہ پالیسی کو ہی تسلیم کرتے ہوئے روس، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور دمشق حکومت کے ساتھ معاملات طے کرنے کا آغاز کیا اور یہ سب کچھ 15 جولائی کی ناکام بغاوت سے پہلے شروع ہوگیا۔

میں یہاں ایک بات اور واضح کرنا چاہتا ہوں، ہمارے ہاں ایک خاندانی بادشاہت کے سرمائے سے پچھلے کئی سالوں سے اتاترک کے خلاف شعوری مہم چلائی گئی ہے کہ اتاترک کی کردارکشی کی جائے۔ یہ خاندانی بادشاہت، کمال ازم کو بادشاہتوں، فرد کی حاکمیت اور سامراج کے لیے خطرہ تصور کرتی ہے۔ اور یہ کتنی دلچسپ اور اہم بات ہے کہ ترکی میں جتنا بڑا کوئی کمالسٹ ہوتا ہے، وہ اتنا ہی بڑا مغرب کا نقاد ہوتا ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور مغرب اس کی تنقید کا نشانہ ہوتے ہیں، اس لیے کہ اتاترک نے مغربی قوتوں کو شکست دی تھی، یہ اس کے بنیادی فلسفے کا حصہ ہے کہ غیرملکی طاقتوں کے خلاف مؤقف اپنایا جائے۔

چاہے جماعت ہو یا دانشور جو یہاں کمالسٹ ہوتا ہے وہ بیرونی استعماری طاقتوں کا اتنا ہی بڑا نقاد بھی ہوتا ہے۔ اسی لیے تو 15جولائی کو اس بغاوت کی سرپرستی امریکہ پر ڈالتے ہوئے حکومتی حلقے اور صدر طیب اردوآن اپنی پوزیشن لیے ہوئے ترک قوم پرستی اور کمالسٹ Stand لے رہے ہیں۔ نجانے جماعت اسلامی اور متعدد دانشور کہاں کھڑے اس صورتِ حال کو دیکھ رہے ہیں۔ ترکی میں عوامی حاکمیت کا تصور جیتا ہے اور یاد رہے پھر عرض کروں گا کہ اس بغاوت کی ناکامی میں صدر ترکی یا حکومت ترکی کی فتح نہیں دیکھی جا رہی بلکہ ملت، جمہوریت، آئینی حکمرانی اور کمال ازم کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی لیے ساری ترک قوم ایک ہی مقام پر کھڑی ہے۔ یہاں کوئی تقسیم نہیں۔ نجانے جماعت اسلامی والے کہاں سے لبرل ازم کی شکست اور اسلام کی فتح ڈھونڈ کر لے آئے۔ ترک ریاست تو اُن لوگوں کی ہڈی پسلی تمام کرنا چاہتی ہے جو ایسے افکار رکھتے ہیں، جس قسم کے نعرے ہمارے ہاں بلند اور جو پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

جماعت اسلامی تو ملاں سعید نورسی کی پرانی مداح ہے۔ ملاں سعید نورسی، فتح اللہ گلین کے روحانی مرشد ہیں، وہ انہی کے افکار کے پیروکار ہیں۔ جماعت اسلامی پچھلے پچاس ساٹھ سالوں میں ملاں سعید نورسی کے حوالے سے متعدد کتابیں بھی شائع کر چکی ہے۔ جماعت اسلامی کے مرحوم جناب خلیل حامدی جن کا جماعت کے حلقوں میں بڑا مقام ہے، اُن کی ترکی کے سفر پر کتاب ہی پڑھ لیں تو اندازہ ہوگا کہ جماعت اسلامی کہاں کھڑی ہے۔ اس کتاب میں جناب خلیل حامدی، ملاں سعید نورسی کے عشق میں جس طرح مبتلا ہیں، آپ اس کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ فتح اللہ گلین، ملاں سعید نورسی کے کامیاب پیروکار ہیں جنہوں نے ترکی کے تاجر حلقوں سے لے کر دانش وسیاست اور ریاست کے متعدد شعبوں تک اپنے افکار کی پذیرائی حاصل کی، جسے تتر بتر کرنے کے لیے اکیلی اردوآن حکومت نہیں بلکہ ساری ملت ایک ہوگئی ہے۔ اور ہمارے ’’عبداللہ دیوانے‘‘ جو پاکستان میں اسلام کے دعوے دار ہیں، بھنگڑے ڈال رہے ہیں۔

جماعت اسلامی پاکستان کا تضاد دیکھیں کہ ترکی میں ایک قوم پرست، سیکولر اور آئینی حکمرانی کے اتحاد پر وہ بھنگڑے ڈال کر دراصل اپنی ہی نفی کر رہے ہیں۔ یہاں اُن دوستوں کے لیے بھی عرض ہے جو چرب زبانی سے رات کو ٹیلی ویژن سکرینوں پر نمودار ہوکر خلافت کی خوش خبریاں دے رہے ہیں۔ محترم دوستو، برطانیہ کی انٹیلی جینس MI5 اور MI6 ہے اس نام نہاد تصورِ خلافت کے پیچھے۔ اسی تصور نے عراق، شام کا بیڑا غرق کیا۔ وسطی ایشیا میں MI5 اور MI6 کے اس منصوبے کو بہت پہلے وہاں کی حکومتوں نے جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ وہ لوگ جو ترکی کو ایک مضبوط، خوش حال اور ترقی یافتہ قوم وملت دیکھنے کے لیے دن رات ایک کر رہے ہیں،اُن کے ہاں MI5 اور MI6 کے برطانوی سامراج کے ایسے جذباتی پلان بے نقاب ہیں۔

ہمارے ہاں ایک نئے مولود دانشور اپنے کالموں اور ٹیلی ویژن پروگراموں میں اس تصور کو پروموٹ کرتے ہوئے نہ جانے معصومیت سے اس برطانوی سامراج کے جال میں پھنستے ہیں یا یہ ان کا شعوری فیصلہ ہے۔ ترکی میں یہ تصور نہایت ناپسندیدہ ہے۔ یہاں آئینی حکمرانی، جمہوریت اور ملت کی کامیابی کا تصور نمایاں ہے۔

ترکی میں بغاوت ہی ناکام نہیں ہوئی بلکہ وہ تصورات بھی ناکام ہوئے جو ترکی کو مذہب کے نام پر خطے میں دھکیل کر تباہ و برباد کرنا چاہتے تھے۔ ترکی کے پڑوس میں پُراسرار خلافت جس کی قیادت پُراسرار اور گمنام ابو بکر بغدادی کے ہاتھوں قرار دی جاتی ہے،کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا تصور زیادہ زور پکڑا ہے۔لہٰذا ’’ہمارے عبداللہ دیوانے‘‘اپنا فکری زاویہ درست کریںیا پھر لوگوں کو فکری طور پر گمراہ کرنے سے اجتناب برتیں۔ ذرا تصور کریں کہ اگر وہ بینرزجو جماعت اسلامی نے اس بغاوت کی ناکامی کے بعد پاکستان میں لگائے، اگر وہ ان بینرز کو ترکی کے شہروں میں لگا کر ترکوں سے یکجہتی کا اظہار کریں تو کیا ہو گا؟

لوگ ان کو حیرانی سے دیکھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں۔ ایک بات اور یہاں عرض کرنا ہے۔AKPایک ملٹی کلاس پارٹی ہے، AKP کے جلسوں میں شامل ترک خواتین اگر منصورہ کے اخلاقی منشور پر پوری نہ اتریں ۔ AKP میں شامل مرد وزن کی بڑی اکثریت ایسے ہی لوگوں کی ہے۔ لگتا ہے جماعت اسلامی فکری طور پر زوال کا شکار ہے، اسی لیے تو اس کو یہ علم نہیں کہ دنیا میں برپا مختلف سیاسی تبدیلیوں میں وہ کہاں کھڑے ہیں۔ آخر میں ایک عرض یہ ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان، ترکی میں ’’لبرل ازم کی ناکامی‘‘(نام نہاد) کے بعد ملاں سعید نورسی اور فتح اللہ گلین کے خلاف تحریری قرار داد کیوں پاس نہیں کر دیتی۔ بشکریہ روزنامہ 'نئی بات'
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے