ایران کی جانب سے روس کو ہمدان کا فضائی فوجی اڈہ دینے سے متعلق معاہدے کے ساتھ بہت شور شرابہ سننے میں آیا۔ اس شور میں بعض ایسی باتیں بھی تھیں جو سنجیدگی سے لیے جانے کے قابل نہیں۔ مثلا یہ کہنا کہ پارلیمنٹ نے معاہدے کی مخالفت کی اور اس کو معطل کر دیا۔ ایران میں پارلیمنٹ اس طرح کے معاہدوں کو روک نہیں سکتی، اس حوالے سے جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ محض لغو ہے۔

ہم یہ جانتے ہیں کہ ایرانی نظام میں سپریم فیصلے ہمیشہ سے پارلیمنٹ کے اختیارات سے بالائے طاق ہوتے ہیں۔ ان معاہدوں کو صرف علی خامنہ ای روک سکتے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ بھی مشرق وسطی کی اکثر پارلیمنٹوں کی طرح سیاسی ڈیکوریشن کا ایک حصہ ہے۔ قومی سلامتی کے سربراہ علی شمخانی کی جانب سے اپنے بیان پر معذرت محض اس لیے سامنے آئی کہ انہوں نے حقیقت بیان کر کے سیاسی نظام کو شرمندہ کر دیا تھا۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر کی جانب سے تنبیہہ کے بعد شمخانی نے اپنی زبان درست کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کا مقصد پارلیمنٹ کی اہانت نہیں تھا۔ حالیہ ظاہری اختلاف محض پیالی میں طوفان کے مترادف ہے۔ ماسکو کے ساتھ تزویراتی معاہدے میں رکاوٹ پارلیمنٹ نے نہیں ڈالی۔

امریکیوں کا کہنا ہے کہ روسی اور ایرانی دونوں ہی سچے نہیں ہیں، تعاون، فضائی اڈہ اور کام سب کچھ پہلے کی طرح چل رہا ہے۔

پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی کا کہنا ہے کہ روس نے ہمدان کے اڈے کا استعمال روک دیا اور ایرانی سرزمین پر اپنی فوجی سرگرمیاں ختم کر دی ہیں۔ اس روایت کو ثابت کرنا یا اس کی نفی کرنا بہت آسان ہے۔ اس لیے کہ امریکیوں کو اگر ہمدان کے اڈے میں روسی لڑاکا طیاروں کی موجودگی نظر آتی ہے تو وہ ان کی تصاویر آئندہ چند ہفتوں میں جاری کریں گے۔ جیسا کہ انہوں نے گزشتہ بار بھی کیا جب ماسکو نے اعلان کیا تھا کہ اس نے شام سے اپنی فضائیہ کا زیادہ تر حصہ واپس بلا لیا ہے جب کہ واضح ہوگیا کہ اس نے مزید اضافہ کیا تھا۔ اگر اس امر کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ روس نے حقیقتا اپنا بڑا فوجی تعاون روک دیا ہے تو یہ ایک اہم مثبت تبدیلی ہوگی۔ پر اگر تصاویر نے ایران میں روس کی افواج میں اضافہ ظاہر کر دیا تو پھر یہ کہانی ہمارے گمان سے کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔
اگر روسیوں یا ایرانیوں کا تزویراتی معاہدے سے پیچھے ہٹ جانا درست ہے تو پھر غالب گمان یہ ہوگا کہ ماسکو نے تہران کے ساتھ اتحاد کی جانب تعلق وسیع کرنے کی غلطی محسوس کرلی ہے۔ امریکی صدر براک اوباما کے منفی مواقف کے نتیجے میں عرب حکومتیں ایک بڑا بلاک تشکیل دے کر ولادیمیر پوتن کی حکومت کے ساتھ تعلقات کی سطح بلند کرنے کی جانب متوجہ ہو سکتی ہیں۔ ان ممالک میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت، مصر، اردن اور مراکش شامل ہو سکتے ہیں۔

مذکورہ ممالک نے اوباما کی جانب سے ان ریاستوں کی سکیورٹی اور مفادات کے خلاف، ایران کے ساتھ مصالحت کے فیصلے کے بعد اپنا رخ روس کی جانب کر لیا۔ میں نے بقیہ عرب ممالک کا ذکر نہیں کیا اس لیے کہ ان کے روس کے ساتھ پہلے ہی اچھے تعلقات ہیں۔

عرب بلاک کے اکثر ممالک روس کے شام کی جنگ میں کود پڑنے اور اس کے ایران کے ساتھ قریب آنے کے حوالے سے اختلاف رکھتے ہیں۔ بہرحال جب ماسکو ایران کے لیے مرکزی فوجی حلیف بن جائے گا تو پھر توقع ہے کہ وہ اپنی قربت کو کم کرے اور اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے۔ سیاسی مساوات بہت سادہ ہے یعنی جو ایران کے قریب ہوگا وہ عربوں سے دور ہوجائے گا۔

ماضی میں تہران نے ماسکو کے ساتھ قربت کو، امریکیوں کو خطے میں ایران کے کردار کی اہمیت پر قائل کرنے کے لیے استعمال کیا۔ پر ایسا کیوں ہے کہ ایرانی ماسکو سے زیادہ واشنگٹن کے واسطے خُوگر نظر آتے ہیں جب کہ ماسکو نے مغربی محاصرے کے زمانے میں ایران کا ساتھ دیا تھا۔ اس لیے کہ ایرانیوں نے یہ جان لیا کہ مغربی ٹکنالوجی کے بغیر ان کا اپنی پیٹرولیئم کی پیداوار کی صلاحیت کو جدید بنانا ناممکن ہے ، ڈالر جو کہ ایران کے لیے ممنوع ہے اس میں لین دین کے بغیر وہ اپنی معیشت کو زوال پذیر ہونے سے نہیں روک سکتے اور امریکیوں سے علاحدہ رہ کر سیاسی ، عسکری اور علاقائی طور پر توسیع ان کے باس کی بات نہیں۔ یہ تمام امور ایران کے قطبین کے ساتھ تعلقات میں تضاد کو اچھی طرح سے بیان کرتے ہیں۔ جیسا کہ عوامی کہاوت ہے کہ "کانا مجھے بھاوے نہیں اور کانا بن سوہاوے نہیں"۔

روس اور ایران کے قریب آنے کا نتیجہ عرب ملکوں کے مجموعے کا کچھ مدت کے انحراف کے بعد واشنگٹن کی طرف واپسی کی صورت میں نکلے گا۔ اس سے خطے میں شورشوں میں اضافہ ہوگا۔ ایسے وقت میں روس کا یہاں صرف یہ جذبہ ہوگا کہ وہ وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ میں اپنے رسوخ کے مرکزی علاقوں میں بڑے کھیل کے لیے حالات کو سازگار بنائے۔

*بشکریہ روزنامہ "الشرق الاوسط"

"العربیہ" کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے