11 اکتوبر 2011 کو امریکی حکام نے واشنگٹن میں متعیّن سعودی سفیرعادل الجبیر( اب وزیرخارجہ)کے قتل سے متعلق ایک ایرانی سازش کی اطلاع دی تھی۔اس منصوبے کے تحت اس ریستوراں کو دھماکے سے اڑایا جانا تھا جہاں سعودی سفیر کھانے کے لیے جایا کرتے تھے اور پھر سعودی سفارت خانے میں دھماکا کیا جانا تھا۔

اس سازش میں ملوّث افراد نے اس تمام تفصیل کا اعتراف کیا تھا۔ایف بی آئی نے اس کو آپریشن سرخ اتحاد کا نام دیا تھا۔اس سازش میں ملوّث منصور ارباب سیئر اور غلام شکری کو گرفتار کر لیا گیا اور ان دونوں کے خلاف نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں عادل الجبیر کے قتل کی سازش کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

چند روز قبل لبنان میں متعیّن سعودی سفیر علی عواد العسیری اور عراق میں سعودی سفیر ثامر السبھان کے قتل کی سازش کا انکشاف ہوا ہے۔ عراقی حکومت اس حد تک چوکنا ہوئی کہ اس نے ثامرالسبھان سے ملک سے چلے جانے کے لیے کہہ دیا۔اس طرح کے کردار سے عراقی نظام میں ایران کی دراندازی کی نوعیت کی عکاسی ہوتی ہے۔

دہشت گردی کی تاریخ

آئیے اب ایران کی سفارت خانوں پر حملوں کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔نومبر 1979ء میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر حملہ کیا گیا اور اس پر قبضہ کر لیا گیا۔ایرانیوں نے 52 امریکیوں کو 444 روز تک یرغمال بنائے رکھا تھا۔ جون 1980ء میں بھارت میں کویتی سفارت خانے کے فرسٹ سیکریٹری مصطفیٰ مرزوق کو قتل کردیا گیا۔1982ء میں میڈرڈ میں کویتی سفارت کار نجیب الرفاعی کو قتل کردیا گیا۔اپریل 1983ء میں بیروت میں امریکی سفارت خانے کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔

دسمبر 1983ء میں کویت میں فرانسیسی سفارت خانے کو نشانہ بنانے کے لیے بم کو دھماکے سے اڑایا گیا۔اسی مہینے کویت ہی میں امریکی سفارت خانے پر ٹرک بم حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں سترہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اگست 1987ء میں تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملہ کر کے 275 سفارت کاروں اور سفارتی عملے کو حراست میں لے لیا گیا۔ فروری 1990ء میں تھائی لینڈ میں سعودی سفارت کاروں کو قتل کردیا گیا۔فروری 2011ء میں پاکستان میں سعودی سفارت کار حسن القحطانی کو قتل کردیا گیا۔

یہ چند ایک نمایاں واقعات ہیں جن کو بآسانی شمار کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ ایران کے سفارت کاروں یا سفارت خانوں پر حملوں میں ملوث ہونے کے بہت سے اور واقعات بھی ہیں۔ایران نے ان سفارت کاروں کو بھی ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی ہے جنھوں نے معاشرے کے مختلف طبقات سے ابلاغ کے لیے کوششیں کی تھیں۔

سفارت کاری

لبنان اور عراق میں سعودی سفارت خانے مختلف تحریکوں اور سماجی طبقات سے ابلاغ کی کوشش کررہے ہیں۔اس سے ایران تکلیف میں مبتلا ہے کیونکہ وہ صرف ایک ہی فریق سے ابلاغ کا عادی ہے۔ثامرالسبھان عراق میں شیعہ ،سنی اور کردوں کے گھروں تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے اور انھوں نے عراق میں سیاسی یکسانیت کو توڑنے کی کوشش کی ہے جس کے تحت خالص ایرانی خصوصیات کے حامل صرف ایک ہی دھڑے کی حمایت کی جارہی تھی۔

عراقی عہدے داروں کے ذریعے کیے جانے والے زبانی حملوں کے جواب میں ثامرالسبھان کا کہنا تھا کہ ''سعودی عرب نے ایک متوازن پالیسی اختیار کررکھی ہے اور اس کا لوگوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ سعودی عرب عراق کے عرب کردار یا عربیت سے دستبردار نہیں ہوگا''۔

سعودی عرب کے لبنانی حکومت کے ساتھ عدم اتفاق کی ایک بڑی وجہ اس ملک سے عربیت کی رخصتی تھی۔ عراق میں بھی بعض سیاست دان یہی کچھ کررہے ہیں۔ ایران ثامرالسبھان کے عراق کی عربیت پر اصرار کو پسند نہیں کرتا ہے جبکہ مقتدیٰ الصدر سمیت شیعہ سیاست دان عراق کے عربیت کی جانب لوٹنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔وہ فارس اور فارسی مفادات کے بجائے عرب کردار کا مطالبہ کررہے ہیں۔

سعودی سفارت کاری نے ان شعبوں کا سراغ پا لیا ہے جہاں اثرونفوذ پیدا کیا جاسکتا ہے جبکہ تہران اس میدان میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا ہے۔سفیروں کی کامیابیوں نے ایران کو تختہ مشق بنا دیا ہے۔آج تک عادل الجبیر ،ثامر السبھان اور عواد العسیری سیاست ہی کو بروئے کار لارہے ہیں عسکری سرگرمیوں کو نہیں۔یہ ایسے اشخاص ہیں جو اپنے ملک کے مفادات کے لیے کام کررہے ہیں۔سفارت کاری کے خلاف طاقت کے استعمال کا جواز نہیں ہے اور اگر ایسا کیا جاتا ہے تو یہ جنگجویانہ اور دہشت گردی کی اپروچ ہوگی۔

ایران قریباً روزانہ ہی یہ بات ثابت کررہا ہے کہ وہ ایک ادارہ جاتی ریاست سے ماورا کردار ادا کررہا ہے اور وہ ایک خونیں انقلابی کا درجہ پانے کے قریب ہے کیونکہ وہ سفارت خانوں اور قونصل خانوں سے متعلق بین الاقوامی کنونشنوں کو تسلیم ہی نہیں کرتا ہے۔وہ کسی بھی سیاسی شخصیت کو قتل کرنے اور کسی بھی جگہ اور کسی بھی وقت مداخلت کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتا ہے۔ایران ایک ریاست سے زیادہ ایک جنگجو تنظیم ہے کیونکہ ایک ریاست ایک ریستوراں کو دھماکے سے اڑا کر ایک سفیر کو قتل کرنے کی کیسے سازش تیار کر سکتی ہے؟

ایک ریاست کی قوت اس کے سفارت کاروں میں مضمر ہوتی ہے،وہ ناممکنات کو حقیقت کا روپ دیتے ہیں۔یہی کچھ تو ان سعودی سفارت کاروں نے کیا ہے۔

------------------------------------
ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے