برصغیر پاک وہند میں معاملات بہت ہی خطرناک صورت اختیار کر گئے ہیں۔ عوامی شخصیات کی جانب سے منافرت پر مبنی بلند آہنگ بیانات اور زہریلے الفاظوں نے آبادی کے ایک بڑے حصے کو متاثر کیا ہے۔خاص طور پر بھارت میں جہاں وزیر دفاع نے انتہائی غیر ذمے دارانہ اور غیرسفارتی انداز میں کہا کہ پاکستان کے دورے پر جانا گویا ایسے ہی تھا جیسے جہنم کی سیر کو جانا۔

اس پر ایک نوجوان بھارتی اداکارہ اور سیاست دان دِویا سپندنا (رمیا) کے تردیدی بیان پر بہت غوغا آرائی ہوئی ہے۔دِویا پہلی سارک یوتھ پارلیمینٹرینز کانفرنس میں شرکت کے لیے گئی تھیں۔ان کے خلاف دائیں بازو کی جماعتوں اور انتہا پسند تنظیموں نے مظاہرے کیے ہیں۔

ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کے لیے ایک درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔جو چیز سب سے زیادہ پریشان کن ہے،وہ یہ ہے کہ غوغا آرائی کرنے والے ہجوم کو بالواسطہ طور پر سرکار کی آشیرباد حاصل ہے۔یہ دیکھنا فی الواقع سوہان روح ہے کہ انتہا پسندانہ نظریہ گاندھی کے اصولوں اور نہرو کے سیکولرازم سے متعلق تصورات ہی کو چاٹ کررہا ہے۔یہ سب بھارت کی ''بڑے لونڈوں کے کلب''( بگ بوائز کلب) میں شمولیت کے لیے بھی ضرررساں ہے اور اس کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رُکنیت کے لیے کوشش میں بھی حائل ہوسکتا ہے۔

میں اس کو احمقانہ سیاست کا نام دیتا ہوں۔خوف اور عدم اعتماد کی فضا پیدا کرکے یہ سیاست دان اور ان کا خدمت گزار میڈیا بھارت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔وزیراعظم نریندر مودی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ خون کے ان پیاسوں اور اس کے لیے شور وغوغا کرنے والوں پر قابو پائیں۔

پاکستان میں افراتفری

بھارت کو اس بات پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ پاکستان میں سیاست کو اسلامیانے سے اس ملک میں افراتفری پیدا ہوئی ہے اور تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک سیکولر ،کثیر ثقافتی اور متنوع ملک میں ،جہاں سیکڑوں ذاتیں اور نسلیں آباد ہیں،ہندتوا کی جانب اسی قسم کی تحریک سے قیامت برپا ہوجائے گی۔

دوسری جانب مقبول کرکٹر شاہد آفریدی کو بھارت کے بارے میں ایک مثبت بیان پر آڑے ہاتھوں لیا گیا۔یہاں بھی ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا۔ پاکستان اور بھارت کے عام لوگ صرف اور صرف امن چاہتے ہیں۔انھیں اپنے حقیقی دشمنوں کو پہچاننا ہوگا۔بھارت میں آر ایس ایس اور دوسری انتہا پسند تنظیموں اور پاکستان میں لشکر محمد ( طیبہ؟) اور دوسرے متشدد انتہا پسندوں کا معاملہ دوسرا ہے۔

چند سال قبل میں بھارت کی ریاست راجستھان میں گیا تھا۔وہاں ایک گاؤں میں سرپنچ سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے اس سے پوچھا:''کیا پاکستان آپ کا دشمن ہے؟''بھارت کے اس سابق فوجی نے اپنے پیٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا:''بھوک ہماری دشمن ہے''۔ اس کا یہ کہنا بالکل بجا تھا۔

برصغیر کے اخبارات کو ملاحظہ کیجیے۔مسائل ایک جیسے ہیں۔بھوک ،کم خوراکی ،کرپشن ،اقربا پروری ،بیماریاں ،60 فی صد سے زیادہ آبادی کو پینے کے صاف پانی تک رسائی نہیں ہے۔کروڑوں افتادگان خاک غُربت کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ ممبئی یا کراچی کی کسی نواحی بستی میں چلے جائیے۔آپ کو مایوسی اور ناامیدی کے ایک ہی جیسے مظاہر نظر آئیں گے۔دونوں ملکوں کا حقیقی دشمن وہ جمود ہے جو آزادی کے قریباً ستر سال کے بعد بھی برقرار ہے اور لفظوں کی جنگ معاملات کو اور بگاڑ رہی ہے۔اگر یہ سلسلہ بلا روک ٹوک جاری رہتا ہے تو اس کا ایک خونیں انجام ہوسکتا ہے اور یہ دونوں ملکوں کے لیے مہلک ہوگا۔

میرے خیال میں دونوں ملکوں میں سول سوسائٹی کو موت اور تخریب کے ہرکاروں کے خلاف بغاوت برپا کردینی چاہیے اور میڈیا کے اس حصے کی بھی خوب خبر لینی چاہیے اور اس کا مکّو ٹھپنا چاہیے جو نفرت کی آگ پھیلا رہا ہے اور عدم رواداری کا پرچار کررہا ہے۔اس سوال کا جواب دینا بہت آسان ہے کہ ''بھارت اور پاکستان کے حقیقی دشمن کون ہیں؟''

-------------------------------------
کہنہ مشق صحافی،سیاسی تجزیہ کار اور لکھاری خالد المعینا اخبار سعودی گزٹ کے ایڈیٹر ایٹ لارج ہیں۔ان سے ان پتوں پر برقی رابطہ کیا جاسکتا ہے:
kalmaeena@saudigazette.com.sa اور Twitter: @KhaledAlmaeena

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے