جناب شوکت عزیز نے ساری دُنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ سابق وزیراعظم نے پاکستان کے حق دفاع کے لیے محدود طاقت والے ایٹمی ہتھیاروں کے اپنی سر زمین پر جارح فوج کے خلاف استعمال کا نیا فلسفہ پیش کر دیا اور پاکستان میں کسی کو کانوں کان خبر نہیں۔

وہ اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب”From Banking to the Thorny World of Politics” میں لکھتے ہیں ’’بھارتی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کے محدود قوت والے ایٹمی ہتھیار جنوبی ایشیا میں امن کی ضمانت ہیں۔"

وہ لکھتے ہیں کہ ’سرد جنگ کے دور میں ایٹمی ہتھیار نیٹو کے اسلحہ خانہ کا بہت بڑا حصہ تھے جس کا بنیادی مقصد یورپ کو سوویت یونین کی متوقع جارحیت سے بچانے کے لیے بوقت ضرورت ناگزیر حالات میں استعمال کرنا تھا۔ اس کے علاوہ دشمن کو یہ واضح سیاسی پیغام دینا بھی ان ہتھیاروںکا بنیادی مقصد تھا کہ کسی بھی خطرے کی صورت میں ہم اپنے دفاع کے لیے پر عزم ہیں۔

موجودہ دور میں پاکستان کے ایٹمی ہتھیار بھی طاقت کا توازن پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ بھارت کے حملے کی صورت میں پاکستان محدود تباہی پھیلانے والے ان ایٹمی ہتھیاروں کو جارح بھارتی فوج کے خلاف اپنی سر زمین پر، اپنے دفاع کے لیے استعمال کرنے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے جسے اپنی سرزمین پر اپنے دفاع کے لیے استعمال کرنے کا حق قرار دیا گیا ہے جس سے بین الاقوامی رائے عامہ کی ناراضگی کی شدت کو کم کیا جا سکے گا۔

“Tactical nuclear weapons were a large part of Nato’s arsenal during the Cold War. They were based in Germany and intended to stop a core thrust to the West by the Soviet Union. Their primary role was to send a political message to the adversary, signalling resolve. There is another potential reason for developing tactical capability. These weapons could allow Pakistan to, if faced with an attack by India, launch a short-range tactical nuclear response to Indian troops on its soil … This would amount to defensive ‘first use’ of nuclear
weapons within Pakistan — without risking total international retaliation.”

شوکت عزیز نے اپنے حق دفاع میں جارح فوج کے خلاف اپنی سر زمین پر ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا فلسفہ اصل میں بی بی سی کے ایک معروف وقایع نگار ہمفری ہاکسلے(Humphrey Hawksley) کے دہلا دینے والے ناول ’آگ اگلتا اژدھا‘ (Dragon’s Fire) میں پیش کیا تھا۔

سنہ 2000ء میں شایع ہونے والے اس ناول کو حقیقت کے قریب تر لانے کے لیے جنرل اسلم بیگ اور سابق سیکریٹری خارجہ تنویر احمد خاں سمیت سیکڑوں نامور اور طاقتور کرداروں سے انٹرویو کیے گئے ہیں۔ مصنف بڑے فخر سے اپنے اس ناول کے لیے ’مستقبل کی تاریخ‘ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے.

سنہ 1986- 1997ء کے دوران ایشیاء کے بحرانوں میں گھرے اس خطے میں سری لنکا سے آسٹریلیا تک تمام تنازعات میں ہمفری بروئے کار رہا۔ اس کا شناسا چہرہ بی بی سی کے ٹی وی چینل اور آواز13 سال تک بی بی سی ریڈیوپر گونجتی رہی، اسے آج بھی ایشیائی اُمور کا سب سے بڑا ماہر گردانا جاتا ہے۔

سنہ 1994ء میں جب بی بی سی نے چین میں اپنا پہلا بیورو قائم کیا تو ہمفری بیورو چیف قرار پائے۔ اس پس منظر میں ذاتی مشاہدے اور طویل قیام کے دوران پاک چین اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کے موضوع پر دہلا دینے والا ناول تخلیق کیا، جس میں ایٹمی جنگ کی دل دہلا دینے والی کہانی بیان کی گئی ہے۔

اس ناول کے لیے ’مستقبل کی تاریخ‘ کی نادر و نایاب اصطلاح تخلیق کی گئی جس میں آویزش کا مرکز بحیرہ جنوبی چین(South China Sea) ہے جہاں چین، ویت نام ،فلپائن اور جاپان کے امریکی اتحاد کا مقابلہ کررہا ہے۔گزشتہ 16سال کے دوران اس ناول کے بیان کردہ واقعات کے مطابق بحران پیدا ہورہے ہیں۔ جس کے بعد اس ناول کو عالمی سطح پر پیش گوئی اور مستقبل بینی کا شاہکار تسلیم کرلیا گیا ہے۔ بحر ہند میں چین کی جارحانہ پیش قدمی اور بحیرہ جنوبی چین میں متنازع جزیروں پر بزور طاقت قبضے کے بعد انسانی عزم و ہمت کا شاہکار نئے تخلیق و توسیع چین کی حربی طاقت کا پر شکوہ مظاہرہ ہے۔

یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو رہی ہے کہ یورپ مرد بیماربن چکا ہے جب کہ امریکی قویٰ اور اعصاب بھی بتدریج مضحمل ہو رہے ہیں طاقت کے اس خلا کو ہر محاذ پر چین پر کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے شاطر امریکی اب بھارت کوچین کے مدمقابل لارہا ہے جس کی شاندار 7.6 فیصد شرح نمو کو ہولناک جنگ چشم زدن میں نگل سکتی ہے جب کہ امریکی سات سمندر پار اپنے عافیت کدوں میں محفوظ ہوں گے۔

تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ خوشحال معاشروں میں قوم پرستی کے جذبات بھڑکا کر تباہی و بربادی کے مناظر تخلیق کیے جا سکتے ہیں دوسری جنگ عظیم میں خوشحال جرمنی کو سستے قوم پرستانہ جذبات اور ہٹلر کی شعلہ فشانی نے فنا کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ برصغیر میں جس کا مظاہرہ مودی کر رہے ہیںجنہوں نے 15اگست کو اچانک پاکستان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے گلگت بلتستان اور بلوچستان میں اپنے رابطوں کا ذکرکرکے محاذ آرائی کا نیا باب کھول دیا ہے۔

اسی طرح بدعنوان حکمرانوں نے بھی اپنی لوٹ مارپرپردہ ڈالنے کے لیے قوم پرستی کے الاؤ بھڑکا کر اقتدار کو طوالت بخشی ہے۔ افریقہ اور یورپ نے تباہی و بربادی اور قتل گری کے روح فرسا مناظر دوسری جنگ عظیم کے دوران جگہ جگہ دیکھے تھے۔اب تباہی و بربادی کے بھیانک سائے بھارت،چین اور پاکستان کے منظر نامے پر چھا رہے ہیں پاکستان اور بھارت مئی 1998ء میں ایٹمی دھماکے کرکے طاقت کا توازن تہہ وبالا کرچکے ہیں۔

بینکار سے سیاستدان بننے والے شوکت عزیز نے اپنے دور اقتدار کی یاد داشتوں میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں کامل 16برس پرانے فلسفے کو نئے انداز میں بیان کرکے عالمی سطح پر تہلکہ مچا دیا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے