چین اور بھارت دو ایسے ممالک ہیں جو سعودی عرب کے بالخصوص اور خلیجی ممالک کے بالعموم مستقبل قریب میں بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ایک بنیادی عامل توازن کو تبدیل کرسکتا ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک دنیا میں ایسے وقت میں اُبھرتی ہوئی بڑی منڈیوں (مارکیٹوں) کی نمائندگی کرتے ہیں جب دوسری بڑی مارکیٹیں تیل کی درآمدات کے ضمن میں سکڑ رہی ہیں یا پھر بھری پڑی ہیں۔

یہ واضح ہے کہ الریاض ان مارکیٹوں کا رُخ کررہا ہے جیسا کہ سعودی نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے چین کے یکے بعد دیگرے دو دوروں سے عیاں ہے۔وہ ان تبدیلیوں سے نمٹنے اور معاشی وسائل کی ترقی کا عمل برقرار رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔

بہت سے ایسے صنعتی اور تیل پیدا کرنے والے ممالک بھی ہیں جو چین اور بھارت کی مارکیٹوں پر نظریں جما رہے ہیں۔وہ سب ان مارکیٹوں میں اپنی حصے داری چاہتے ہیں۔تاہم سعودی عرب کو جو چیز سب سے ممتاز کرتی ہے ،وہ دنیا میں اس کے سب سے بڑے ،سستے اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ تیل کے ذخائر ہیں اور ایران کی طرح اس کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ یا پابندیاں بھی حائل نہیں ہیں۔

کیا سعودی عرب مغرب کے ساتھ برسوں کے تعلقات کے بعد مشرق کی جانب رُخ پھیرنے کی حکمت عملی کو کامیابی سے اختیار کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے؟ اس مرحلے پر سرد جنگ کے زمانے کی تحدیدات کا کوئی وجود نہیں ہے۔تب ممالک جب اپنی سیاسی حکمت عملی میں تبدیلی لانے کی کوشش کرتے تھے تو انھیں بہت سے خطرات بھی مول لینا پڑتے تھے۔

چینی اور بھارتی مارکیٹوں کی جانب رُخ کرنا خالص ایک سیاسی منصوبہ نہیں ہے کیونکہ مغرب کے ساتھ تعلقات بدستور مضبوط رہیں گے۔خاص طور پر اس لیے بھی کہ اہلِ مغرب خطے میں سیاسی طور پر آج بھی سب سے زیادہ مؤثر ہیں۔چین اور بھارت کے ساتھ خصوصی تعلقات سے مغرب میں اور بالخصوص علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سعودی عرب کے اثرونفوذ کو تقویت ملے گی اور اس کی تزویراتی اہمیت میں اضافہ ہوگا۔

دنیا کا بالکل نیا منظرنامہ

چین اور بھارت کے ساتھ اقتصادی منصوبے پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کوئی آسان کام نہیں ہے۔اس سے سعودی عرب کے لیے بالکل ایک نئی دنیا کھل گئی ہے۔اس سے عہدہ برآ ہونے کے لیے حکومت کی وسیع تر صلاحیت کے ساتھ ایک بڑا قدم اٹھانا ہوگا۔ اس ضمن میں کمپنیوں ،بنکوں ،فنڈز ،ایوان ہائے تجارت ،دوطرفہ شراکت داری ،کاروباری شخصیات ،تحقیقی مراکز اور جامعات اور پُرعزم سرکاری اداروں کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

چین بنیادی طور پر ایک ہی کمپنی کی نمائندگی کرتا ہے۔اس لیے یہ زیادہ منظم ہے کیونکہ اس کی حکومتی مشینری اور سرکاری ادارے ہی دراصل خارجہ تعلقات اور لین دین کا انتظام وانصرام کرتے ہیں۔جہاں تک بھارت کا تعلق ہے تو وہ اپنے امور کے انتظام کے لیے زیادہ تر نجی شعبے پر انحصار کرتا ہے۔

ہمارا خطہ بڑی صارف مارکیٹوں مثلاً برطانیہ اور پھر امریکا وغیرہ کے ساتھ تعلقات کے معاملے میں تیل کی تجارت کے ماڈل پر انحصار کرتا رہا ہے۔یہی ماڈل ہمارے چین اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں بھی ایک بڑا عامل ہے لیکن آج ہم وسیع تر تعلقات استوار کرنے جارہے ہیں۔

چین اور بھارت ہی دو ایسے ممالک ہیں جو مغربی مارکیٹوں میں قلّت یا کمی کا ازالہ کرسکتے ہیں جیسا کہ امریکا کی مارکیٹ میں تیل کی مانگ میں کمی واقع ہوئی ہے۔ دونوں ممالک سعودی حکومت کے ملکی معیشت وتجارت کو وسعت دینے کے مقاصد کے لیے ایک وسیع تر موقع مہیا کرتے ہیں اور اس کے لیے مزید تخلیقی سوچ اور لچک دار اور تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نجی شعبے پر زیادہ انحصار کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ معاشی ترقی میں پہلے سے کہیں بڑھ کر کردار ادا کرسکے۔

چین اور بھارت دونوں ہی تجارت کو سیاست کے ساتھ گڈ مڈ نہیں کرتے ہیں۔چین دنیا میں اسلحے کے بڑے برآمد کنندہ ممالک میں سے ایک ہے اور سعودی عرب کا 1990ء کی دہائی میں چین کے ساتھ بہت مثبت تجربہ رہا تھا۔اگر یہ دونوں ایشیائی ممالک علاقائی جنگوں میں ملوّث اور اتحادوں میں شریک نہیں ہوتے تو وہ بڑے ممالک کے ساتھ اپنے خصوصی تعلقات کو برقرار رکھیں گے۔

-------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے