کیا آپ یہ تصور کرسکتے ہیں کہ اگر سعودی عرب کا وجود نہ ہوتا تو مسلم زائرین کو کیا خدمات مہیا کی جاتیں اور الحرمین الشریفین کی کیسے دیکھ بھال کی جاتی؟یہ اس لیے نہیں کہا جارہا ہے کہ سعودی لوگوں سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ ان کے منتِ کش احسان رہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ ان کی طرح کیا کوئی اور خدمات انجام دیتا؟ سعودی عرب کے یکے بعد دیگرے آنے والے بادشاہوں نے اپنے لیے دیگر شاندار القابات کے بجائے ''خادم الحرمین الشریفین'' کا خطاب منتخب کیا ہے۔

سعودی عرب اپنے قیام کے بعد سے حج کے موسم میں حجاج کرام کی خدمات بجا لارہا ہے۔سعودی مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمان آل سعود کے دور کے بعد سے یہ حج خدمات بڑھتی ہی چلی گئی ہیں۔شاہ عبدالعزیز ذاتی طور پر حج سے متعلق امور کی نگرانی کیا کرتے تھے۔اس وقت ملک میں یہ جملہ زبان زد عام ہوا کرتا تھا:''شاہ عبدالعزیز کے دور کی طرح کا حج ادا نہیں ہوا''۔

راشد بن سعد الباز نے اس جملے کے مآخذ کے حوالے سے لکھا ہے:''شاہ عبدالعزیز دوسرے ممالک کے شہزادوں ،قائدین اور قبائلی زعماء کو حج سے دو ماہ قبل خطوط بھیجا کرتے تھے۔اس میں انھیں یہ ہدایات دی جاتی تھیں کہ وہ ایسے نادار اور غریب افراد کی تعداد بتائیں جو اخراجات یا کسی معذوری کی وجہ سے حج کا فریضہ ادا کرنے سے قاصر ہیں۔

باز مزید لکھتے ہیں کہ ان عازمین حج کو بے مثال خدمات اور سہولتیں مہیا کی جاتی تھیں۔شاہ عبدالعزیز معذوروں کو خدمات اور محتاجوں کو رہائش مہیا کرتے تھے۔وہ عازمین حج کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرنے کے لیے کام کرتے تھے۔

الزامات اور تخریب کاری

تاہم ہرسال حج کا موسم قریب آنے پر ہم ایران اور تنہائی کا شکار عرب قوم پرستوں کی جانب سے مخالفانہ الزامات کی صدائے بازگشت سنتے ہیں۔وہ سعودی عرب کی تزویراتی پوزیشن اور مذہبی اہمیت کی وجہ سے حسد میں مبتلا ہیں۔ایک عرب روزنامے نے تو یہ دعویٰ کرنے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کی کہ سعودی عرب حج سیزن کو محفوظ بنانے کے لیے اسرائیل سے رابطے میں ہوتا ہے۔

نصف صدی ہونے کو آئی ہے، سعودی عرب نے بتدریج حج سیزن کے دوران انتظامات اور خدمات کو بہتر بنایا ہے۔اس دوران میں 1980ء کے عشرے سے ایران نے خلیج میں اپنے گماشتوں کے ذریعے حج سیزن میں گڑ بڑ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے قتل عام کیا اور یہ خلیج میں اس کی گماشتہ تنظیم لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے دھڑوں نے کیا ہے۔اس دھڑے کے ارکان کے اعترافی بیانات ٹیلی ویژن چینلوں پر نشر ہوچکے ہیں جن میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ ایران سے وابستہ ہیں اور انھیں حج سیزن میں گڑ بڑ پھیلانے کے لیے سرکاری احکامات ملتے تھے تاکہ سعودی عرب کو ہزیمت سے دوچار کیا جاسکے۔

ایران ایسے بہت سے واقعات میں ملوّث رہا ہے جن کے نتیجے میں عازمین حج کی اموات ہوئی تھیں۔ان میں سب سے نمایاں 31 جولائی 1987ء کو پیش آنے والے واقعات ہیں۔تب اس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی کی تصاویر اور ایرانی پرچم اٹھائے ایرانی زائرین نے عین مناسک حج کے دوران مظاہرہ کیا تھا۔اس کے نتیجے میں مکہ میں شاہراہیں بند ہوگئی تھیں اور دھکم پیل اور بھگدڑ سے حجاج کرام ،شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی اموات ہوئی تھیں۔

10 جولائی 1989ء کو کویت سے تعلق رکھنے والے حزب اللہ کے ایک سیل نے مبیّنہ طور پر مقدس مقامات پر بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔مسجد الحرام کی جانب جانے والی ایک شاہراہ پر ایک بم دھماکا ہوا تھا اور ایک اس کے نزدیک واقع ایک پل پر ہوا تھا۔سعودی پولیس نے ان بم دھماکوں کے الزام میں بیس کویتیوں کو گرفتار کر لیا تھا۔ان میں سولہ پر بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں فرد الزام عاید کی گئی تھی اور ان کے اعترافی بیانات سعودی ٹی وی سے نشر کیے گئے تھے۔

گذشتہ سال ایران کے حج مشن سے وابستہ ایک عہدے دار نے اخبار الشرق الاوسط کو بتایا تھا کہ جمرات کو کنکریاں مارنے کے دوران جو بھگدڑ مچی تھی اور جس میں سیکڑوں حجاج اپنی جان کی بازی ہار گئے تھے،اس کا سبب قریباً تین سو ایرانی حجاج پر مشتمل ایک گروپ تھا۔اس نے حج حکام کی ہدایات کو نظرانداز کردیا تھا۔ایران نے حج کے لیے آنے والے اپنے ایک سفیر کی شناخت کو بھی چھپایا تھا اور جعل سازی کی تھی۔اس طرح وہ ان تمام سول قوانین اور قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا تھا جن کی دنیا کے تمام ممالک میں پاسداری کی جاتی ہے۔

نظریہ

ایرانی زائرین اس سال حج کے لیے نہیں آرہے ہیں۔یہ ایک بدقسمتی کی بات ہے لیکن اس کا ذمے دار کون ہے؟ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ایران اس مرتبہ تخریبی کارروائیوں کا مرتکب نہیں ہوگا؟ کیا ہم یہ بات بھول گئے ہیں کہ ایران ماضی میں خلیج میں حزب اللہ کے سیلوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔مزید برآں وہ دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے جو اس کی طرح ایک ہی جیسے نظریے کے حامل ہیں اور اس کے کہنے میں آکر تخریبی کارروائیاں انجام دے سکتے ہیں۔

ایرانیوں کی نظریاتی ذہنیت تاریخی ورثے اور مخاصمتوں پر مبنی ہے اور یہی کچھ ان کی یادداشتوں میں شامل ہے۔چنانچہ ایران میں انقلاب کے دنوں سے حج ایک جارحانہ اشتعال انگیزی کا موضوع بن چکا ہے۔

اس کے ملّا یہ محسوس کرتے ہیں کہ سعودی عرب کو مذہبی اور روحانی اہمیت حاصل ہے اور وہ اس کو حاصل کرنے کے لیے ایک طویل المیعاد توقع کیے بیٹھے ہیں لیکن قلیل المدت منصوبے کے تحت وہ سعودی عرب کو تخریب کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ یہ بہت ہی خوف ناک امر ہے کہ شعائراللہ کی ایک ایسے سیاسی رجیم کی جانب سے توہین اور خلاف ورزی کی جاتی ہے جو مذہبی ہونے کا دعوے دار ہے جبکہ ان شعار کا تقدس دلوں کے تقویٰ کی معراج ہے۔

------------------------------------

(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے