حج ایک ایسا دینی فریضہ ہے جو پوری اُمت مسلمہ کے اتحاد کا مظہر ہے۔مشرق و مغرب اورشمال وجنوب کے مسلمان ایک ہی لباس ،ایک ہی آوازبلند کرتے ہوئے حرمین شریفین کارُخ کرتے ہیں۔حج مسلمانوں کی قوت وشان کا اظہار بھی ہے جس سے مسلمانوں کے اتحاد ویک جہتی پوری دنیاکے سامنے آتی ہے مگرکچھ لوگوں کو یہ اتحاد اوریہ اجتماع ایک آنکھ بھی نہیں بھا رہاہے ۔ وہ الٹے سیدھے بیانات جاری کررہے ہیں اورمسلمانوں کی اس قوت کوپارہ پارہ کرنے کی سازش کررہے ہیں۔

چند روز قبل یہ بیان سامنے آیاہے کہ "مسلم امہ حج پر سعودی اختیارات ختم کرنے کا سوچے"۔یہ بیان ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے دیاہے۔انھوں نے سعودی انتظامیہ کو مزید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حجاج کو سعودی انتظامیہ بہتر سہولتیں فراہم نہیں کرتی ہے۔ خامنہ ای یہی بیان ایک سال پہلے بھی دُہراچکے ہیں۔

سعودی عرب کی طرف سے اس بیان کی شدید مذمت کی گئی۔سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف نے کہا کہ خامنہ ای نہ صرف مسلم اُمہ میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں،بلکہ اپنے نفرت انگیز بیانات سے ایرانی حجاج کے لیے بھی مشکلات پیداکررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں جوسہولتیں عام حجاج کو دی گئی تھیں، وہی ایرانی حجاج کو بھی دی گئیں۔ایران کی شدت پسندی کی وجہ سے اس سال ایرانی حج کے لیے سعودی عرب نہیں نہیں گئے ہیں ۔البتہ دیگر ممالک میں مقیم ایرانی شہری حجاز مقدس میں موجود ہیں اور اس وقت حج کررہے ہیں۔سعودی انتظامیہ نے اس تمام صورت حال کا ذمے دار ایران کو ٹھہرایا ہے۔

اس سال بھی سعودی حکومت نے حج کے حوالے سے مثالی انتظامات کیے ہیں۔ سعودی عرب لاکھوں حاجیوں کو یکساں سہولتیں فراہم کرتاہے۔سعودی حکومت یہ انتظام کسی منافع کی غرض سے نہیں کرتی ہے بلکہ صرف حاجیوں کی خدمت کے جذبے سے کرتی ہے۔سعودی حکومت حج انتظامات پر اربوں ریال خرچ کرتی ہے اور مقامات مقدسہ کی تعمیر وترقی کے عظیم الشان منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کررہی ہے۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ سعودی حکومت کو بھی اربوں ریال کامنافع ہوتاہے لیکن اب حقیقت سامنے آگئی ہے اور میڈیارپورٹس سے پتا چلاہے کہ ریاست حج انتظامات کو اپنی مذہبی ذمہ داری سمجھتی ہے اورحج آپریشن سے کوئی منافع حاصل نہیں کرتی ہے۔

ہرسال لاکھوں عازمینِ حج سعودی عرب کارُخ کرتے ہیں۔ 164 مختلف ممالک اور کلچرز سے تعلق رکھنے والے فرزندان توحید کو کنٹرول کرنا ،انھیں تمام ضروری سہولتیں مہیا کرنا ایک بہت بڑا کام ہے۔دنیا میں اس طرح لاکھوں لاگوں کے انتظام وانصرام کا کسی اور ملک کو تجربہ نہیں ہوتا جو سعودی عرب کے حکام کو ہوتا ہے۔وہ خوشگوار انداز میں حج انتظامات کرتے ہیں۔ حجاج کو قریباً ایک کروڑ مکعب فٹ پانی درکار ہوتاہے۔800سے زائد پروازیں ایک دن میں جدہ کے ایئرپورٹ پر اترتی ہیں۔ لاکھوں سکیورٹی اہلکار اور رضاکار کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کےلیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور یہ تمام امور سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں۔

سعودی حکومت بلاتفریق رنگ ونسل ،عرب وعجم سب کی خدمت کرتی ہے،مگرگذشتہ سال پیش آنے والے ایک حادثے کے پیش نظر کچھ ممالک اپنا مخصوص اورمذموم ایجنڈا لے کرسامنے آئے اورمطالبہ کیاکہ حج انتظامات میں مسلم ممالک کوشریک کیاجائے۔ یہ مطالبہ سراسر، ناجائز اور بدنیتی پرمبنی ہے کیوں کہ یہ صرف مطالبہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک سازش کارفرماہے جومشرق وسطیٰ کے مخصوص حالات کے حوالے سے ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا سعودی حکومت حرمین شریفین کے حوالے سے جوخدمات سرانجام دے رہی ہے کیا وہ واقعی ناکافی ہیں؟ سعودی عرب میں ہر حاجی کا علاج مفت ہوتا ہے، اسے کسی بھی قسم کی جسمانی پریشانی لاحق ہوجائے اور علاج کی ضرورت یا بڑے سے بڑے آپریشن کی ضرورت پیش آجائے تو اس کی ایک پائی بھی نہیں لگے گی۔ یہ ممکن ہے کہ اس کے اپنے ملک سے آیا ہوا طبی عملہ اس کی خدمت سے غافل ہو جائے، مگر سعودی حکومت ایک سعودی شہری کی طرح اس کا مفت علاج کرتی ہے، وہ اسے اپنا مذہبی فریضہ اور دینی ذمہ داری سمجھ کر انجام دیتی ہے۔ نہ اسے اس حاجی سے کچھ لینا ہوتا ہے، نہ ہی اس کے ملک سے، یہ تمام خدمت اور کام صرف صرف اور اللہ کے ہوتا ہے۔

جگہ جگہ حجاج کرام کی راہ نمائی کے لیے نصب سائن بورڈز ، اہم مقامات پر آویزاں بڑی بڑی راہ نما سکرینیں ، چاق چوبند اسپیشل فورسز اور پولیس کے دستے ، ہر چند میٹر کے فاصلے پر دفاتر ، کشادہ داخلی اور خارجی ان گنت راستے اور ایمرجنسی راستے ، فضا میں گشت کرتے ہیلی کاپٹرز الغرض ایسا منظم اور مربوط انتظام کہ یہاں حج پر آنے والا ہر حاجی یہاں کی حکومت کو اس حسن انتظام پر دعائیں دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کچھ حادثات یاگذشتہ سال والا حادثہ کسی انتظامی چوک کی وجہ سے ہوا ہے، تب بھی سوال پید ا ہوتا ہے کہ ایسے عظیم مجمع کے لیے ایسے وسیع انتظامات کرنے کا تجربہ اورمہارت سعودی وزارت حج کے علاوہ اورکس کے پاس ہے؟

یہ دلیل بھی محض نادانی ہے کہ حرمین شریفین کا تعلق چونکہ پورے عالم اسلام سے ہے۔اس لیے ان کا نظم وضبط عالم اسلام کے تحت مشترکہ ہونا چاہیے ۔بےشک ارض مقدس حجاز سے ساری دنیا کے مسلمانوں کا تعلق ہے۔ لیکن یہ تعلق عقیدت واحترام کا ہے، انتظامیہ کا نہیں۔ گذشتہ چودہ صدیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں حرمین شریفین کا انتظام انہی حکام کے تحت رہا ہے جن کا سرزمین حجاز پر اقتدار و اختیار رہا۔یہی صورت حال ہماری مساجد، مدارس، اور دیگر مذہبی مقامات کی ہے۔ عقیدت واحترام کا رشتہ اپنی جگہ مگر انتظامی معاملات میں سب دخیل نہیں ہوسکتے۔ یہ مطالبہ اصولا درست ہے اور نہ عملا ممکن ہے۔

اسی طرح کا مطالبہ ایک صدی قبل شاہ عبدالعزیر کے دورمیں بھی اٹھا تھا ۔کچھ ہندوستانی علماء بھی، جو تحریک خلافت میں سرگرم رہے تھے ،یہ مطالبہ لے کرمکہ مکرمہ تشریف لے گئے تھے۔شاہ عبدالعزیز نے سب کے دلائل سنے اور انھیں قائل کیا کہ جو فیصلہ ایک صدی قبل ہوگیا تھا ،اس کو بدلے جانے کی اب توقع کیسے کی جاسکتی ہے جبکہ عالم اسلام انتشار کا دوسرا نام بن کر رہ گیا ہے؟

اب صورت حال یہ ہے کہ کوئی ملک ایسا نہیں جس کے حکمراں خود اپنے یہاں کے انتظامات کو درست رکھ سکیں۔ وہ حج انتظامات میں بس اتنی ہی مدد کرسکتے ہیں کہ ان میں مداخلت کا ارادہ نہ کریں۔حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب نے جس طرح حاجیوں کی خدمت کی ہے اور جو سہولتیں اس نے انھیں بہم پہنچائی ہیں۔ تاریخ اسلام میں اس کی نظیر ملنا بہت مشکل ہے، مگر ان خدمات کو تعصب کا چشمہ اتار کر اور بغض وعداوت ،دشمنی وحسد کے جذبات سے ہٹ سے کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

بیس لاکھ سے زیادہ مسلمان ہرسال حج کے موقع پر اپنے رب کے حضور اکٹھے ہوتے ہیں۔برسوں سے کوئی بڑا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، سوائے اکّا دکّا معمولی واقعات کے۔منتظمین کو کوسنے سے پہلے ذرا یہ تو سوچ کے گھوڑے دوڑائیے۔ مختلف زبانوں، مختلف علاقوں، مختلف شہروں، مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والوں کو سنبھالنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔جناب والا !کیا آپ نے ان کی روانگی اور آمد کا منظر ملاحظہ کیا ہے؟ایسا نظم و ضبط ہوتا ہے کہ چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔

سعودی عرب کو برا بھلا کہنے سے پہلے یہ بھی دیکھ لیں کہ پوری دنیا سے لاکھوں لوگ ہر سال حج کرنے جاتے ہیں۔یہ لوگ سوائے اشاروں کی زبان کے کوئی زبان نہیں سمجھ سکتے۔ایسے میں جب قوانین پر عمل نہ کیا جائے، ہدایات کو ہوا میں اڑا دیا جائے تو حادثہ ہونے سے کون روک سکتا ہے؟

جن لوگوں کا یہ وہم ہے کہ سعودی عرب کی حج سے آمدنی ہوتی ہے وہ بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب کا باقاعدہ ایک خطیر بجٹ ہوتا ہے جو ہر سال حج کے لیے مختص کیا جاتا ہے، اسی لیے سعودی حکومت نے باقاعدہ صرف حج کے لیے پوری وزارت بنا رکھی ہے جو اس کا بجٹ پیش کرتی اور اس کو خرچ کرتی ہے۔علاوہ ازیں اسلامی امور کی وزارت، وزارت داخلہ،اور دیگر بعض حکومتی ادارے بھرپور انداز میں اپنا کردار نبھاتے اور ایک خطیر رقم حج میں خرچ کرتے ہیں۔ وزارت حج کے علاوہ ان دونوں وزارتوں کے پاس بھی حج کے لیے باقاعدہ بجٹ ہوتا ہے جو موسم حج میں حاجیوں کی سہولتیں اور ان کی سیکورٹی کی خاطر خرچ کیا جاتا ہے۔

اگر سعودی عرب کو حج یا حرمین شریفین سے کمانے کی خواہش ہوتی تو وہ لاکھوں کروڑوں بلکہ اربوں کھربوں کماتا، اور اس کی حکومت ان رقوم سے شان سے چلتی رہتی، مگر یہ ایسے بادشاہوں کی حکومت ہے جو حاجیوں کی خدمت اپنا مقدس فریضہ سمجھتی ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انھیں دیا ہے اسے اللہ کی راہ میں بے دریغ خرچ کرتی ہے۔

اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ حج انتظامات پر اعتراض بھی وہ ملک رہا ہے جس کی تاریخ حرم میں شرو فساد سے پُر ہے بلکہ جس کے ہاتھ شام ، عراق کے معصوم مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔بہر حال 1980 سے 2015ء تک کم و بیش دس واقعات رونما ہوئے ہیں۔ان تمام واقعات میں انتظامی بدنظمی کا کوئی عمل دخل نہیں بلکہ وہ بیرونی طاقتوں کی شرانگیزی کا شاخسانہ تھے اور اس کے واضح ثبوت ملے ہیں۔

سعودی حکمرانوں نے اس کھلی دہشت گردی کا اپنی مضبوط انتظامی صلاحیت اور با صلاحیت سیکورٹی فورسز کے ذریعے مقابلہ کیا اور اسے منطقی انجام تک پہنچایا۔حال ہی میں مدینہ منورہ میں حرم مدنی میں ہونے والی دہشت گردی کو جس احسن انداز میں سیکورٹی فورسز نے کنٹرول کیا،اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔سکیورٹی فورسز نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے زائرین کی جانوں کی حفاظت کی اور حرم کے نظام اور عبادت میں کسی قسم کی بدنظمی نہیں آنے دی۔ہم ان خوبصورت انتظامات پر اور حجاج کرام کی خدمت پر شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

سعودی حکومت نے طویل عرصہ پہلے حاجیوں کی بہتری کےلیے ایک حج ریسرچ سینٹر قائم کیا تھا۔ اس مرکز کی تحقیق کی بدولت بہت سی اصلاحات بھی کی گئیں۔مثلاً حج سیزن میں مکہ المکرمہ میں چھوٹی گاڑیوں کا داخلہ بند کیا گیا۔جن لوگوں نے 1980ء سے پہلے حج کیا ہے، انھیں یاد ہوگا کہ صرف جدہ ائیرپورٹ پر امیگریشن اور معلم کی نامزدگی میں آٹھ سے دس گھنٹے لگ جاتے تھے، لیکن حج ریسرچ سینٹرکی اصلاحات کی بدولت اب حجاج دو گھنٹے سے پہلے مکہ کےلیے روانہ ہوجاتے ہیں۔جمرات کے دوران حاجیوں کو پیش آنے والے حادثات سے کیسے بچا جائے،اس حوالے سے بھی تحقیقات کی گئی ہیں۔

بہرحال مشرق وسطیٰ کے مخصوص حالات کے پیش نظریہ کہاجاسکتاہے کہ سعودی حکومت حاجیوں کی خدمت اور حفاظت کے لیے جو بھی اقدامات کر رہی ہے، وہ درست ہیں اورہمیں بطورمسلمان ان اقدامات کی نہ صرف حمایت کرناچاہیے بلکہ ان ہدایت پرعمل درآمد بھی کرناچاہیے ۔ایرانی سپریم لیڈر کی طرف سے کیا جانے والا مطالبہ غیر حقیقت مندانہ ، تعصب پر مبنی اور سراسر زیادتی ہے۔اس کی جتنی مذمت کی جائے،کم ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے