خطے کے آمر حج کو سیاسی بنانے کے لیے مسلسل کوشاں رہے ہیں اور ان کا مقصد یہ رہا ہے کہ جب کبھی سعودی عرب کے ساتھ عدم اتفاق پیدا ہو تو وہ اس کے کردار کو محدود کرنے کی کوشش کریں۔

لیبیا کے مرحوم صدر معمر قذافی ایسا کرنے کے عادی تھے۔وہ سعودی عرب سے بات بے بات عدم اتفاق کے بھی عادی تھے۔ وہ الحرمین الشریفین اور حج کی کہانیوں سے من مانا مفہوم اخذ کرکے سعودی عرب پر اکثر زبانی حملے کیا کرتے تھے کیونکہ وہ یہ محسوس کرتے تھے کہ سعودی عرب ایک مذہبی اہمیت کا حامل ہے اور وہ خود یہ اہمیت کبھی حاصل نہیں کرسکیں گے۔

قذافی نے اس کے بعد لیبیا میں افریقا سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگوں کو اکٹھا کرکے تقریریں شروع کردیں۔وہ خود کو افریقا میں ''شاہوں کا شاہ'' کہلوانے لگے۔انھوں نے اپنے میڈیا ذرائع کو سعودی عرب پر حملوں کی ذمے داری سونپی اور اپنے دربار کے ایک سابق شاعر علی الکیلانی کو سعودی مملکت کے خلاف نظمیں لکھنے پر مامور کردیا۔

اب ایران ان حرکات واقدامات کا اعادہ کررہا ہے۔ سیاسی تنازعات کو مذہبی مناسک سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔شیعہ عالم علی الامین یہی بات بالاصرار کہتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حج ایک فرض ہے اور اس کو سیاسی نہیں بنایا جاسکتا۔ان کے بہ قول حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ شریعت کے کسی اصول اور فرائض یا اسلام کے عقائد میں کوئی ترمیم کر سکیں۔

یہ ایک شرم ناک بات ہے کہ ایران نے اس سال محض سیاسی تنازعے کی بنا پر اپنے شہریوں کو حج کے فریضے کی ادائی سے روک دیا۔ سعودی عرب کے بہت سے ممالک کے ساتھ بڑے بڑے تنازعات ہیں اور اس نے بعض کے ساتھ جنگیں بھی لڑی ہیں لیکن اس نے ہمیشہ حج اور الحرمین الشریفین کے تقدس کے معاملے پر غیر جانبداری اختیار کی۔

سعودی عرب عراق کے خلاف جنگ میں بھی شریک رہا تھا کیونکہ وہ کویت کو آزاد کرانے کے لیے قائم اتحاد کا حصہ تھا۔اس وقت جو ممالک عراقی صدر صدام حسین کے ساتھ کھڑے تھے،وہ حج سیزن کے دوران متاثر نہیں ہوئے تھے۔

سعودی عرب کے خلاف غوغا آرائی ایک پرانا حربہ ہے اور اس کو معمر قذافی کے دور اور اس کے بعد صدام حسین کی حکمرانی کے زمانے میں بلیک میل کے طور پر بروئے کار لایا جاتا رہا ہے اور یہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ ختم نہیں ہوگا۔

--------------------------------------
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے