امریکا کے سابق صدر رونالڈ ریگن اکثروبیشتر جان ایڈمز کے اقوال نقل کیا کرتے تھے۔انھوں نے ایک مرتبہ کہا تھا:''حقائق غیرمنقولہ چیزیں ہوتی ہیں''۔جب ایرانی وزیر خارجہ (محمد جواد ظریف) انتہا پسندی سے جنگ کے لیے بیانات جاری کرتے ہیں تو حقائق ان کے ان بیانات کا منھ چڑاتے نظرآتے ہیں۔چنانچہ وہ غیر مخلصانہ پروپیگنڈے کے سوا کچھ نظر نہیں آتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ایران ریاستی سطح پر دہشت گردی کا پشتی بان ملک ہے۔اس کے سرکاری عہدے دار سنہ 1979ء کے بعد سے براہ راست دہشت گردی کے متعدد حملوں کے ذمے دار رہے ہیں۔

دہشت گردی کے ان واقعات میں بیروت میں امریکی سفارت خانے اور بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میرین بیرکوں پر خود کش بم دھماکے،سنہ 1996ء میں سعودی عرب میں الخوبر ٹاور میں بم دھماکا، ایران میں دس سے زیادہ غیرملکی سفارت خانوں پر حملے ،ان میں برطانیہ ،امریکا اور سعودی عرب کے سفارت خانوں پر حملے بھی شامل ہیں،دنیا بھر میں غیرملکی سفارت کاروں کا قتل وغیرہ ایران کی دہشت گردی کی چند ایک مثالیں ہیں۔

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ایران نے اپنی جارحانہ پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے دہشت گردی کو حربے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ایران انتہا پسندی کے خلاف کیسے لڑنے کی بات کرسکتا ہےجب اس کی قیادت ، القدس فورس اور پاسداران انقلاب نے دہشت گردی کے لیے فنڈز ،تربیت ،اسلحہ اور سہولتیں مہیا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

اگر ایران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی حصہ ڈالنے میں کسی اخلاص کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کا آغاز القاعدہ کے لیڈروں کو حوالے کرنے سے کرسکتا ہے جو ایران میں محفوظ پناہ گزینی کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ان میں اسامہ بن لادن کا بیٹا سعد ، القاعدہ کی جنگی کارروائیوں کا سربراہ ( چیف آف آپریشنز) سیف العدل اور دوسرے متعدد کارکنان شامل ہیں جو سعودی عرب اور امریکا میں دہشت گردی کے حملوں میں ملوّث رہے ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ سیف العدل نے مئی 2003ء میں ایران سے سعودی عرب میں ایک فون کال کی تھی اور اس میں الریاض میں بم دھماکوں کا حکم دیا تھا۔ان بم دھماکوں میں آٹھ امریکیوں سمیت تیس سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔سیف العدل اس وقت سے ایرانی تحفظ سے مستفید ہورہے ہیں۔

ایران حزب اللہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کو دی جانے والی رقوم کو بھی بند کرسکتا ہے۔حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے حال ہی میں ایک بیان دیا ہے کہ ان کی تنظیم کو ایران کی جانب سے 100 فی صد فنڈز مل رہے ہیں۔ ایران بارودی سرنگوں (آئی ای ڈی) کی تیاری اور انھیں تقسیم کرنے کا عمل بھی روک سکتا ہے۔ان دھماکا خیز ڈیوائسز کے حملوں میں عراق اور افغانستان میں ہزاروں امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ایران خطے میں دہشت گردوں اور فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کو ہتھیار مہیا کرنے کا عمل بھی روک سکتا ہے۔یہ ملیشیائیں جائز حکومتوں کو ہٹا کر ایرانی کٹھ پتلیوں کو اقتدار دلانے کے لیے برسر جنگ ہیں۔

شام میں بشارالاسد کے رجیم نے پانچ لاکھ سے زیادہ افراد کو ہلاک کردیا ہے۔اس نے یہ سب کچھ ایران کی مدد سے کیا ہے جس نے ریگولر فوجیوں کے علاوہ غیر ریاستی عناصر کو بھی شامی رجیم کو بچانے کے لیے جنگ زدہ ملک میں بھیجا ہوا ہے۔ایرانی قائدین کھلے عام یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ اگر وہ بشارالاسد کو بچانے کی کوشش نہ کرتے تو ان کے اقتدار کا کب کا دھڑن تختہ ہوچکا ہوتا۔

ایرانی عہدے دار بعض اوقات فرقہ وارانہ کشیدگی اور تشدد پر کفِ افسوس ملتے نظر آتے ہیں لیکن یہاں بھی حقائق کو چھاپا نہیں جاسکتا ہے۔یہ پورا خطہ اور دنیا آیت اللہ خمینی کے 1979ء میں برپا کردہ اسلامی انقلاب سے قبل بہت پُرامن تھے۔اس انقلاب کا بنیادی نعرہ یہ رہا تھا:''مرگ بر امریکا''۔ملّاؤں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور پھر اپنے آئین کے مطابق اس انقلاب کو مذہبی اور فرقہ وارانہ تنازعات کے ذریعے برآمد کرنے اور پھیلانے کی کوشش کی۔

ایران نے اپنے انقلاب کو برآمد کرنے کے لیے سوڈان ،نائجیریا ،شام ،لبنان،یمن اور کومروس جزائر سمیت بہت سے ممالک میں پاسداران انقلاب کے نام نہاد ثقافتی مراکز قائم کیے۔ان کا مقصد پروپیگنڈے اور تشدد کے ذریعے اپنے نظریے کو پھیلانا تھا۔ ایران نے یہ پروپیگنڈا بھی کیا کہ ایران سے باہر رہنے والے شیعہ مسلمان ایران سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور وہ جن ممالک کے شہری ہیں،ان سے ان کا کوئی علاقہ نہیں ہے۔یہ دوسرے ممالک میں ایک ناقابل قبول مداخلت ہے اور اس کو تمام اقوام کی جانب سے مسترد کیا جانا چاہیے۔

''خمینی ازم'' کا یہی نظریہ ہے جس کے پس پشت توسیع پسندی کارفرما ہے،اس کو مغرب مخالف منافرت سے تقویت اور فرقہ پرستی سے تحریک دی گئی جس نے انتہا پسندی کو طاقتور اور توانا کردیا ہے۔اس زہریلی اور کٹڑ ذہنی ساخت پر قابو پا کر ہی فرقہ واریت پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے،دہشت گردی کو شکست دی جاسکتی ہے اور خطے میں امن وامان کو بحال کیا جاسکتا ہے۔ اگر ایران انتہاپسندی سے نمٹنے میں سنجیدہ ہے تو پھر اس کو ایسی پالیسیوں اور اقدامات سے باز آ جانا چاہیے جن کے نتیجے میں انتہاپسندی کو فروغ حاصل ہوا ہے۔

گذشتہ سال جولائی میں امریکا کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد ایرانی لیڈر دوسروں پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں اور انھیں خطے کے مسائل کا مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں حالانکہ یہ تمام مسائل خود ان کے اپنے پیدا کردہ ہیں لیکن ان کے شوروغوغا پر دھیان دینے سے قبل یہ ضروری ہے کہ چند ایک سوالات پر غور کر لیا جائے:

کس ملک نے مصنف سلمان رشدی کے قتل کا فتویٰ جاری کیا تھا اور موت کی یہ دھمکی اب بھی کارگر ہے؟ (ایران)

کس ملک نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے ہی ملک میں دس سے زیادہ غیرملکی سفارت خانوں پر حملے کیے تھے؟ ( ایران)

کس ملک نے 1996ء میں الخوبر ٹاورز میں امریکی میرینز پر حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی اور اس کو عملی جامہ پہنایا تھا؟ ( ایران)

کیا یہ جوابات اس ملک کی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے سنجیدگی کو ظاہر کرتے ہیں؟

پوری اسلامی دنیا ایران کے کردار کی متفقہ طور پر مذمت کرچکی ہے۔استنبول میں اپریل میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے باضابطہ طور پر ایران کی فرقہ پرستی پر مبنی پالیسیوں ،دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت اور دہشت گردی کے لیے حمایت کو باضابطہ طور پر مسترد کردیا تھا اور اس پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

سعودی عرب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قائدانہ کردار ادا کررہا ہے۔میرے ملک نے سنہ 2005ء میں دنیا کو ایک بین الاقوامی کانفرنس کے لیے اکٹھا کیا تھا تاکہ دنیا کی اقوام کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک صف پر لایا جاسکے۔سعودی مملکت نے اقوام متحدہ میں انسداد دہشت گردی کے مرکز کے قیام کے لیے دس کروڑ ڈالرز سے زیادہ کی امداد دی ہے۔اس نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ کے لیے چالیس ممالک پر مشتمل اسلامی فوجی اتحاد تشکیل دیا ہے۔ سعودی عرب امریکا کی قیادت میں داعش مخالف عالمی اتحاد کا بھی رکن ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں بھی اس اتحاد کا حصہ ہے۔

سعودی عرب نے دہشت گردی کے ایسے متعدد حملوں کو ناکام بنایا ہے جن میں امریکا کو نشانہ بنایا جانا تھا۔اس کے لیڈروں پر خودکش بم حملے ہوچکے ہیں۔ سعودی عرب کا ریکارڈ بالکل واضح ہے اور اس کی ہمارے اتحادی اور عالمی برادری بھی توثیق کرچکی ہے۔

ایران کا ریکارڈ موت اور تخریب کا حامل ہے اور شام کی صورت حال اور عراق کے بعض حصوں کے حالات سے یہ بالکل واضح ہے۔محض الفاظ اس ریکارڈ کو تبدیل نہیں کرسکتے ،اس کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

سعودی عرب کا ایران کے بارے میں مؤقف بالکل واضح ہے۔وہ اچھی ہمسائیگی اور دوسروں کے داخلی امور میں عدم مداخلت کے اصولوں پر مبنی ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کا خیرمقدم کرے گا۔اس کا یہ مطلب ہے کہ ایران کو اپنی معاندانہ روش اور مخالفانہ سرگرمیوں سے دستبردار ہونا ہوگا اور دہشت گردی کے لیے حمایت بند کرنا ہوگی۔کیونکہ فی الوقت تو ایران کا ریکارڈ حوصلہ افزا نہیں ہے۔

-------------------------------

( مضمون نگار سعودی عرب کے وزیر خارجہ ہیں۔ بہ شکریہ : وال اسٹریٹ جرنل)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے