''اگر،جیسا کہ رپورٹ ہوا ہے،امدادی قافلے پر حملہ فضائی تھا،تو یہ صرف اسد رجیم یا روس کرسکتا ہے''۔ یہ برطانیہ کے خصوصی ایلچی برائے شام گیرتھ بیلے نے گذشتہ روز (منگل کو) کو حلب کے نزدیک ایک تباہ کن بم حملے کے ردعمل میں ٹویٹ کیا تھا۔روس اور امریکا کے درمیان شام میں جنگ بندی کے سمجھوتے کے باوجود یہ حملہ ہوا تھا اور اس میں بیس سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

ہم ایک مرتبہ پھر ''اگر'' اور''شاید'' کے گھن چکر میں پڑ گئے ہیں۔آج کرہ ارض میں شام جغرافیائی لحاظ سے ایک ایسی جگہ ہے جس کو سب سے زیادہ احتیاط سے مانیٹر کیا جارہا ہے۔فضا میں بہت سے راڈار ،خلائی سیارے اور نگرانی کے لیے بہ کثرت جدید ٹیکنالوجی موجود ہے۔

تاہم اگر مناسب تحقیقات ہوتی ہے اور شامی رجیم یا روس قصور وار پائے جاتے ہیں تو اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ انصاف ہوگا کیونکہ برسرزمین تو بہت کچھ ہورہا ہے اور اس پر کوئی سزایاب نہیں ہورہا ہے۔

ہم یہ بھول گئے ہیں کہ صرف چند ہفتے قبل ہی پانچ سالہ بچے عمر دقنیش کی ایک فضائی حملے کے بعد تصاویر نے دنیا کو ہکا بکا کردیا تھا۔وہ فضائی حملے میں بچ گیا تھا لیکن اس کا چہرہ خون آلود اور گرد آلود تھا اور اس کو جب ایمبولینس گاڑی پر اسپتال منتقل کیا جارہا تھا تو وہ بے حس وحرکت بیٹھا تھا۔ اس کی اس انداز میں تصویر پر آنسو بہائے گئے اور بہت سے ٹویٹس ہوئے۔ہم نے اپنے غیظ وغضب کا اظہار کیا اور اس حملے کے ذمے داروں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔اس کے بعد سے خبروں کا سلسلہ جاری ہے۔کسی نے حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے اور یوں اس کے ذمے دار سزا سے بچے رہیں گے۔

یہ حملہ کس نے کیا تھا؟ امدادی قافلے پر حملے کی طرح کس میں اس طرح کا حملہ کرنے کی صلاحیت ہے؟اشارہ یہ ہے: شامی حزب اختلاف کی فورسز کے پاس لڑاکا جیٹ نہیں ہیں۔اس کے بعد روس ،شامی رجیم یا امریکی ہی رہ جاتے ہیں اور وہ دوٹوک انداز میں اس کی تردید کررہے ہیں کہ بمباری کرنے والے ان کے جیٹ نہیں تھے۔

عمر کی خوفناک تصاویر اس خبر کے افشاء کے چند روز بعد منظرعام پر آئی تھیں جس میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں سے ایک اور حملے کی اطلاع دی گئی تھی اور ہاں آپ نے درست اندازہ لگایا ہے۔یہ بھی اب ایک بھولا بسرا واقعہ بن چکا ہے اور اس حملے کے ذمے داروں کو بھی کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔

یہ تمام واقعات ایسے وقت میں رونما ہوئے تھے جب ہم سب ترکی کے ساحل پر ڈوبنے والے تین سالہ شامی بچے ایلان کردی کی پہلی برسی منا رہے تھے۔گذشتہ سال ستمبر میں بھی ہم نے آنسوؤں اور ٹویٹس کے ذریعے اپنے غم وغصے کا اظہار کیا تھا۔ایلان کردی کی نعش بحر متوسط کے کنارے سے ملی تھی۔وہ ساحل سمندر پر اوندھے منھ پڑا ملا تھا جیسے وہ گہری نیند سورہا ہو۔اس تصویر نے بھی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس پر شدید غم وغصے اور افسوس کا اظہار کیا گیا تھا۔

تب شام میں جاری لڑائی میں متحارب گروپوں کی کارروائیوں کا نشانہ بننے والوں کے لیے ہمدردی اور حمایت کا اظہار کیا گیا تھا۔تنازعے کے خاتمے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا گیا لیکن ایک سال کے بعد کچھ بھی نہیں بدلا ہے اور سب کچھ جوں کا توں جاری ہے۔چند ایک لوگ جانتے ہیں کہ کیا ہوا تھا؟ان میں سے بھی چند ایک اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ کچھ کرسکیں۔

سُرخ لکیر

عوامی اور شائع شدہ آراء کے فیصلہ سازی کے عمل پر اثرانداز ہونے کی اجتماعی ناکامی اور بالخصوص جمہوری ممالک میں یہ رجحان بہت ہی خطرناک ہے۔تاہم صرف شام میں بحران کے آغاز کے وقت عالمی برادری کے غلط فیصلوں اور اقدام نہ کرنے ہی کو تمام صورت حال کا مورد الزام ٹھہرایا جاسکتا ہے اور اس کا اب شام کو مسلسل خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے۔

ابھی ایک روز قبل ہی امریکی صدر براک اوباما نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے آخری خطاب میں ہمیں یہ حقیقت باور کرائی ہے کہ''مشرق وسطیٰ میں بنیادی سکیورٹی اور بنیادی آرڈر ٹوٹ چکا ہے''۔

لیکن وہ اپنی تقریر میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق اپنی سرخ لکیر کی دھمکی کا ذکر کرنا بھول گئے۔انھوں نے 2013ء میں کہا تھا کہ اگر شامی رجیم نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تو یہ اقدام امریکا کے لیے سرخ لکیر ہوگا اور وہ شام کے خلاف کارروائی کرے گا مگر امریکا نے ایسی کوئی کارروائی نہیں کی اور روس کو قاتل اسد رجیم کی حمایت میں شام میں مکمل مداخلت کا موقع مل گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ صدر اوباما کو قابل احتساب قرار نہیں دیا گیا ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکی میڈیا کی اکثریت یا تو غلط معلومات کی حامل ہے یا وہ گمراہ ہے حالانکہ اسی میڈیا نے ماضی میں صدر نکسن کی انتظامیہ کا دھڑن تختہ کردیا تھا۔

مجھے یہ تو یقین نہیں کہ امریکی پریس کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا ہے لیکن جب نیویارک ٹائمز جیسا اخبار خوف ناک اور متعصبانہ کالم شائع کرتا ہے جیسا کہ اس نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا لکھا کالم شائع کیا ہے اور اس سے ایک ہفتہ قبل ہی اس نے صفحہ اول پر ایک اسٹوری شائع کی تھی۔اس میں سعودی عرب ( ایران کو نہیں) کو بیک وقت انتہا پسندی کو ''ہوا دینے والا اور اس کو بجھانے والا'' قرار دیا تھا۔اب کوئی حیرت کا اظہار ہی کرسکتا ہے کہ یہ اخبار یک طرفہ نہیں ہے۔

یہ عوام کے مفاد میں نہیں ہوسکتا کہ جواد ظریف ایسے شخص کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کردیا جائے جس کے بارے میں کوئی پوچھ تاچھ ہی نہ ہو اور اس کو چیلنج نہ کیا جاسکے کیونکہ وہ ایک ایسے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں جو صدر براک اوباما کے الفاظ میں ''دہشت گردی کو اسپانسر'' کرنے والا ہے۔

ایک ہوش مند ایڈیٹر امریکا کے خلاف 1979ء کے بعد ایرانی ریاست کی پشت پناہی سے کیے جانے والے حملوں کو کیسے نظرانداز کرسکتا ہے یا اس حقیقت کو کیسے نظرانداز کیا جاسکتا ہے کہ ایران آج بھی دنیا کی ان دو ریاستوں میں سے ایک ہے جو براہ راست بشارالاسد کی حمایت کررہی ہیں۔

ذہن میں یہ ملحوظ رکھیں تو یہ کوئی حیران کن بات نہیں لگتی کہ اس اخبار نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مہاجرین کے بارے میں حالیہ اجلاس میں تقریر سے متعلق ایک لفظ بھی شائع نہیں کیا ہے۔اس میں انھوں نے یہ حقیقت بھی بیان کی تھی کہ سعودی عرب نے گذشتہ چار عشروں کے دوران عالمی امدادی سرگرمیوں کے لیے 139 ارب ڈالرز کی خطیر رقم دی تھی۔

سعودی عرب کو بہت سے ایشوز درپیش ہیں اور اس نے یقینی طور پر ماضی میں بہت سی غلطیاں بھی کی ہیں۔شاید نیویارک ٹائمز کے بعض مدیران اس حقیقت کو بھی پسند نہ کریں کہ نائن الیون رپورٹ کے چند ماہ قبل جاری کیے گئے 28 صفحات میں سعودی عرب کو بری الذمہ قرار دیا گیا تھا۔انھوں نے سعودی عرب کے انسانی محاذ پر گراں بہا کام کو بھی نظر انداز کردیا اور یہ سراسر تعصب ہے۔

اب اگر نیویارک ٹائمز فی الواقع عوامی مفاد میں کچھ کرنا چاہتا ہے تو میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ وہ ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کرے اور جس میں یہ بتایا جائے کہ ایران ان اربوں ڈالرز کو کیسے خرچ کرے گا جو وہ امریکا سے بدنام زمانہ جوہری معاہدے کے نتیجے میں وصول کرے گا۔اس کا آغاز ''دا نیشنل ریویو'' میں ''اوباما کا جہاد کے لیے کیش (نقدی رقم)'' کے عنوان سے شائع ہونے والی تحریر کے مطالعے سے کیا جائے۔

----------------------------------

( فیصل جے عباس العربیہ انگلش کے ایڈیٹر ان چیف ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے